بابری مسجد شہادت کی برسی پر SDPI کا ملک گیر احتجاج، گلبرگہ میں DC آفس کے روبرو کی گئی جم کر نعرے بازی

بابری مسجد کی دوبارہ تعمیر تک جدو جہد جاری رہے گی۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی دستاویزات و حقائق کی بنیاد پر نہیں بلکہ آستھا کی بنیاد پر آیا ہے

گلبرگہ: 6/ڈسمبر(پی آر) ایس ڈی پی آئی نے 6 ڈسمبر کو ہندوستان کی صدیوں پرانی روشن تاریخ پر ایک سیاہ و بد نما داغ قرار دیا۔ جس سے ملک کی جمہوریت، سیکولرزم اور آئین کی روح پاش پاش ہوئی تھی۔ جب فرقہ پرست طاقتوں نے عدلیہ، آئین اور قانون کو بالائے طاق رکھ کر 6 ڈسمبر 1992 کو صدیوں پرانی بابری مسجد کو شہید کیا تھا تو انھوں نے صرف مسجد کو شہید نہیں کیا تھا بلکہ صدیوں پرانے ہندوستان کی مذہبی رواداری بھائی چارگی کو بھی شہید کیا تھا۔ بابری مسجد کی شہادت کی مناسبت سے احتجاج کے دوران ایس ڈی پی آئی لیڈروں نے یہ بات کہی۔ بابری مسجد شہادت کی 29 برسی کے موقع پر ایس ڈی پی آئی نے ملک گیر احتجاج کیا۔

ملک گیر احتجاج کے تحت گلبرگہ ڈی سی آفس کے روبرو بھی مقامی صدر سعید الدین فاروق کی قیادت میں ایس ڈی پی آئی کارکنوں نے احتجاج کیا۔ احتجاجیوں نے کانگریس اور بی جے پی کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ ایس ڈی پی آئی لیڈروں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو نا انصافی سے تعبیر کیا۔

ایس ڈی پی آئی کے مقامی جنرل سکریٹری سید علیم الٰہی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی اپنے1045صفحات پر مبنی فیصلے میں یہ اعتراف کیا ہے کہ بابری مسجد کسی بھی مندر کو توڑ کر یا مندر کے ملبے پر نہیں بنائی گئی تھی اور سپریم کورٹ نے یہ بھی اعتراف کیا کہ23ڈسمبر 1949 کو مسجد میں غیر قانونی طریقے سے مورتیاں رکھی گئیں تھی۔ مورتیاں رکھے جانے سے قبل تک وہاں پر نماز ہوتی رہی ہے۔ ان تمام حقائق کے باوجود سپریم کورٹ نے محض آستھا کے نام پر بابری مسجد کی جگہ کو رام مندر بنانے کے حق فیصلہ سنایا۔

علیم الٰہی نے کہا کہ بابری مسجد کی اراضی کا فیصلہ دستاویزات و حقائق کی بنیاد پر نہیں بلکہ آستھا کی بنیاد پر آیا ہے۔ اس موقع پر ایس ڈی پی آئی نے بابری مسجد کی دوبارہ اسی جگہ پر تعمیر کا مطالبہ دوہرایا۔ ایس ڈی پی آئی لیڈروں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ہی دہلی کے تغلق آباد میں روی داس مندر کو منہدم کرنے کا فیصلہ سپریم کورٹ نے ہی سنایا تھا تاہم بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ واپس لیتے ہوئے دوبارہ مندر تعمیر کرنے کا حکم دیا۔

ایس ڈی پی آئی نے اسی کو نظیر بناتے ہوئے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ بابری مسجد کی اراضی پر سنائے گئے فیصلے کو واپس لیا جائے اور بابری مسجد کی جگہ پر دوبارہ مسجد بنانے کے مرکزی حکومت کو ہدایات دیں۔ بابری مسجد کی دوبارہ تعمیر سے ہی اس کا انصاف پورا ہوگا۔ اس احتجاج میں پروفیسر سیدہ سعدیہ کرناٹک ریاستی نائب صدر، عبدالرحیم پٹیل ایس ڈی ٹی یو ٹریڈ یونین صدر، مقبول شاہ، ڈاکٹر رضوان احمد، سید ذاکر، محمد اعظم اور پارٹی کے کئی ایک لیڈرس اور کارکن موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!