خبریںقومی

انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کشمیری کے خلاف درج UAPA کے مقدمات واپس لیں اور انہیں فوری رہا کیا جائے

تمل ناڈو کے ڈیموکریٹک پارٹیوں اور تنظیموں کا مشترکہ بیان

چنئی: 2/دسمبر- (پی آر) کشمیر کے ممتا زا نسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کو نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی (این ایس اے) نے 21نومبر 2021کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے)اور تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت گرفتار کیا گیاتھا۔ ان کی گرفتاری کے خلاف تمل ناڈو کے ڈیموکریٹک پارٹیوں اور تنظیموں کے لیڈران نے اپنے مشترکہ بیان میں ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مشترکہ مطالبے پروائیکو، ایم پی، جنرل سکریٹری، ایم ڈی ایم کے، ڈاکٹر تھول تروماولاون، ایم پی، صدر وی سی کے، پروفیسر ایم ایچ جواہراللہ ایم ایل اے، صدر ایم ایم کے، ٹی ویل مروگن ایم ایل اے، صد ر ٹی وی کے، نیلائی مبارک، ایس ڈی پی آئی تمل ناڈو ریاستی صدر، کولاتور منی، صڈر ڈی وی کے، کے راما کرشنن، جنرل سکریٹری ٹی پی ڈی کے، تیاگو، جنرل سکریٹری ٹی ڈی وی آئی، کے وینکٹ رامن، جنرل سکریٹری ٹی ڈی پی، بالن، جنرل سکریٹری، ٹی ڈی ایم ایم، پروفیسر اے مارکس، قومی صدر این سی ایچ آر او، محمد شیخ انصاری، ریاستی صدر تمل ناڈو پاپولرفرنٹ،پوذیلن، صدر ٹی ایم ایم، ارنگا گنا سیکرن، صدر ٹی ایم پی کے، ترومروگن گاندھی، کوآرڈنیٹر مئی 17موؤمنٹ، ویٹری ویل چیزین، ریاستی کوآرڈنیٹر مکل ادھیگارم، ناگائی ترولوون، صدر ٹی پی کے، کے ایم شریف، صدر، ٹی ایم جے کے، اڈوکیٹ منوہرن، ریاستی مرکزی کمیٹی، سی پی آئی (ایم ایل) ریڈ اسٹار، ٹی درائی سدھارتن، جنرل سکریٹری ایم پی پی کے، گانا کرونجی ٹی ایم یو پی، اے صبیر احمد، ریاستی کوآرڈنیٹر، ایس آئی او، سنتھل، کوآرڈنیٹر الان تمزگم۔ نے حمایت کی ہے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ خرم پرویز کی گرفتاری کے میمو کے مطابق، ان کے خلاف درج کی گئی دفعات میں آئی پی سی کی 120B، 121اور121A(حکومت کے خلاف جنگ چھیڑنے سے متعلق) اور دفعہ 17(دہشت گردوں کے لیے فنڈ اکھٹا کرنا، 18،18B،38(دہشت گرد تنظیم کی رکنیت سے متعلق ایک جرم) اوریو اے پی اے ایکٹ کے تحت آنے والے 40(دہشت گردی تنظیم کیلئے فنڈ اکھٹا کرنے کا جرم) شامل ہیں۔ خرم پرویز جموں کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی (JKCCS)کے کوآرڈنیٹرس میں سے ایک اور بین الاقوامی تنظیم ایشین فیڈریشن اگینسٹ انوولنٹری ڈس اپیرنسس(AFAD) کے چیئرپرسن رہے ہیں۔ جموں کشمیر میں انسداد دہشت گردی کے نام پر بھارتی حکومت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جنگی جرائم، غیر ارادی گمشدگیوں کا ارتکاب کیا جو کہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف ورزی ہے۔

JKCCS  کے ساتھ خرم پرویز نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران جمہوں اور کشمیرمیں ہونے والی ان خلاف ورزیوں کے بارے میں کئی رپورٹیں شائع کیں۔ پچھلے بیس سالوں سے ایک انتھک دانشور کے طور پر، انہوں نے ریاستی سرپرستی میں ہونے والے ان مظالم کو بین الاقوامی توجہ دلائی ہے۔ JKCCS نے UNHRCکی کشمیر پر پہلی رپورٹ جس میں جموں و کشمیر میں 5000اجتماعی قبروں کی دستاویز کی گئی ہے اس میں تعاون کیا ہے۔ جموں کشمیر کولیشن کے کام کو ناروے میں قائم رافٹو فاؤنڈیشن فار ہیومن رائٹس نے 2017میں  ‘بہت مشکل حالات میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ‘کی دستاویز کرنے کیلئے تسلیم کیا تھا۔ ستمبر 2016میں خرم پرویز اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں شرکت کیلئے جنیوا جارہے تھے اور انہیں دہلی کے ہوائی اڈے پر غیر قانونی طور پر حراست میں لے لیا گیا۔ 76د ن کی نظر بندی گذارنے کے بعد جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ان کی نظر بندی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں رہا کردیا۔ آئین کو نہ ماننے والی مودی سرکار نے اب ایک بار پھر خرم پرویز کو گرفتار کرلیا ہے۔

بھارتی حکومت انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کو قالین کے نیچے جھاڑنے کی کوشش کررہی ہے۔ سیاسی پارٹیاں، بھارت اور دنیا بھر کی جمہوری قوتیں، بین الاقوامی سماجی کارکنان نوم چومسکی، اقوام متحدہ کی کونسل، ایمنسٹی انٹر نیشنل، ان تمام تنظیموں نے جموں و کشمیر کے علاقے میں بھارتی حکومت کے پر تشدداقدامات اور خرم پرویز کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ انسانی حقوق کے محافظوں کیلئے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ میری لائر نے خرم پرویز کی گرفتاری کو "پریشان کن "قرار دیا اور بھارتی حکومت کی جانب سے خرم پرویز کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "وہ دہشت گرد نہیں، وہ انسانی حقوق کا محافظ ہے”۔نیو یارک ٹائمس میگزین نے لکھا ہے کہ "خرم پرویز کی نظر بندی نے ان خدشات کو مزید گہراکردیا ہے کہ مودی انتظامیہ اختلاف رائے کو دبانے کیلئے قانون کا غلط استعمال کررہی ہے۔ خرم پرویز کے بھائی شیخ شہر یار نے بتا یا کہ حکام نے ان کے گھر کی چار گھنٹے تک تلاشی لی اور خرم پرویز کو معمول کی پوچھ گچھ کیلئے لے گئے۔ لیکن بعد میں گھر والوں کو بتایا گیا کہ انہیں گرفتار کرلیاگیا ہے۔

مودی کے قومی سلامتی مشیر، اجیت ڈوول نے حال ہی میں سول سوسائٹی کو "جنگ کا نیا محاذ "قرار دیا۔ خرم پرویز کی گرفتاری سے صا ف ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت جموں و کشمیر میں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آواز کو سننے کی اجازت نہیں دے گی۔بھیما کورے گاؤں کیس میں، مودی حکومت جس نے سماجی کارکنوں سدھا بھردواج، وراورا راؤ، گوتم نولاکا اور آنند تلمڈے کو سخت یو اے پی اے قانون کے تحت گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں غیر قانونی طور پر طالب علم کارکن عمر خالد، صحافی صدیق کپپن وغیرہ کو جیل میں مقید کردیا ہے۔ اب کشمیر میں انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کی گرفتاری کا مقصد فاشسٹ بھارتی حکومت کے خلاف سرگرم کارکنوں کی آواز کو دبانا ہے۔

5اگست 2019کو حکومت ہند نے جموں و کشمیر کو دی گئی خصوصی حیثیت کے آرٹیکل 370کو منسوخ کرتے ہوئے اسے مرکز کے زیر اہتمام دو علاقوں میں تقسیم کردیا۔ اس کے بعد، کشمیر میں تقریبا 4000لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور ایک سال کیلئے پبلک سیکورٹی ایکٹ (PSA) کے تحت حراست میں رکھا گیاہے۔ ابھی تک جموں و کشمیر گورنر راج کے تحت ہے۔ ایسے انتخابات کرانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے جس کے نتیجے میں عوام کی منتخب کردہ قانون ساز حکومت ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بی جے پی حکومت کشمیر سے ایک ایسا کٹھ پتلی لیڈر پیدا نہیں پائی جو کٹھ پتلی کی ڈور پر کام کرسکے۔ خرم پرویز کی گرفتاری سے کشمیریوں کے خلاف وحشیانہ تشدد کو ہوا دینے کے بھارتی حکومت کے ارادے پر شبہ پیدا ہوتا ہے۔

خرم پرویز نے دو بار تمل ناڈو کا دورہ کیا، پہلی بار 2010میں اور پھر 2017میں کشمیر کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے وہ تمل ناڈو کی جمہوری قوتوں میں مانوس ہیں۔ مشکل کی اس گھڑی میں ہم کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم اس بات پر زور دینا چاہیں گے کہ مودی۔ امیت شاہ کی قیادت والی ہندوستانی حکومت کا یہ متعصبانہ رویہ کشمیری عوام پر کھبی نہیں جیت پائے گا۔ اس مشترکہ بیان کے ذریعے ہم خرم پرویز کی گرفتاری اور ان پر لگائے گئے جھوٹے الزامات کی مذمت کرتے ہیں۔ نیز ان کے خلاف UAPAسمیت تمام الزامات کو واپس لیا جائے اور انہیں فوری طور پر جیل سے رہا کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!