بزمِ اُمید فردا کے زیراہتمام ”گلبرگہ کے مشاہیرِ ادب“ ویبینار کا کامیاب انعقاد

نئے شاعروں ادیبوں کی پذیرائی ناگزیر: واجد اخترصدیقی

بنگلورو: 8/جولائی (ہی آر) ویبینار کے کنوینر ڈاکٹر سید عتیق اجمل ؔوزیر کی اطلاع کے بموجب ”سرزمین گلبرگہ ازل سے اردو ادب میں سر سبز و شاداب رہی ہے۔ یہاں کے قلم کاروں نے ہر صنف ادب میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ اس سرزمین کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں کے شاعروں ادبیوں نے قومی اردو وادبی منظر نامے پر اپنے وجود کا احساس دلایا اور اپنی تخلیقات کے ذریعہ ادبی منظر نامے کو ہمیشہ روشن رکھا ان خیالات کا اظہارمعروف شاعروادیب واجد اختر صدیقی نے بزم امید فردا کے زیر اہتمام منعقدہ ویبینار بعنوان ”گلبرگہ کے مشاہیرِ ادب“ سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

واجد اختر صدیقی نے مزید کہا کہ گلبرگہ میں نئے شعراء ادبا کی تحریروں اور کلام میں وہ اسپارک ہے کہ انکی تخلیقات کی چمک دمک سے گلبرگہ کا ادبی منظر نامہ روشن ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سینئر شعراوادبا تحفظات اور تعصب کا شکار ہو کر نئے لکھنے والوں کی پذیرائی نہیں کر تے اور نئے لکھنے والوں کی آمد کی کمی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں لیکن واجد اختر صدیقی نے اس بات سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ نئے لکھنے والوں میں بھی وہ دم خم ہے اگرچہ انکی صحیح طو ر پر رہبری اور رہنمائی ہو۔ واجداختر صدیقی نے مقالہ نگاروں کے مضامین کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام مضامین کافی محنت اور عرق ریزی سے لکھے گئے ہیں۔“

کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے معروف شاعر ادیب وصحافی ڈاکٹر ماجد داغی نے گلبرگہ کی اردو ادبی تاریخ کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ سرزمین گلبرگہ راجہ کلی چند کی کلبرگی یعنی زمانہ قدیم سے اپنے گل وبرگ کی دیدہ زیبی اور عطر بیزی کی مسحور کن و روح پرور آب و ہوا اور زرخیزی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ داغی صاحب نے مزید کہا کہ گلبرگہ کے مشاہیر ادب کا جب ہم گہرائی وگیرائی سے جائزہ لیں تو بہمنی دور کے ذکر کے بغیر یہ بات ہرگز مکمل نہیں ہوتی گلبرگہ کا شعری منظر نامہ کافی مضبوط ہے یہاں کے مشاہیر اردو ادب نے ہر صنف ادب میں اپنی منفرد شناخت بنائی“۔

پہلے مقالہ نگار افسر نسرین انصاری معلمہ نیشنل اسکول گلبرگہ نے طیب انصاری شخصیت اور ادبی خدمات کے زیر عنوان مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر طیب انصاری کثیر الجہات شخصیت کے مالک تھے وہ بیک وقت مرتب، محقق اور نقاد تھے انکے قلم کا جادو ہر سو چھایا رہتا انہوں نے کہا کہ طیب انصاری کی خدمات قابل ستائش رہی ہیں“

دوسرے مقالہ نگار ڈاکٹر شمیم سلطانہ صدر شعبہ اردو گورنمنٹ ڈگری ویمنس کالج گلبرگہ نے اپنامقالہ ”جلیل تنویر کی افسانہ نگاری“ کے عنوان سے پیش کرتے ہوئے کہا کہ جلیل تنویر کے افسانوں میں فرد کی کمزوری وتوانائی سے لیکر آرائش و آلائش کے گونا گوں پہلو ملتے ہیں جلیل تنویر نے اپنے افسانوں میں عصری مسائل اور انکے حل کو اپنے ہی انداز میں پیش کیا ہے انہوں نے کہا کہ انکی بیشتر کہانیاں انسانی نفسیات کا احاطہ کرتی ہیں۔“

ڈاکٹر سید عتیق اجملؔ وزیر اردو لیکچرار گلبرگہ نے ”محب کوثر کی غزل گوئی“ کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کر تے ہوئے کہا کہ محب کوثر کی غزلوں میں حالات حاضرہ کی ترجمانی‘اخلاقی قدروں کی پامالی اور ایک طرح کا معتبر پن ملتا ہے محب کوثر کی بیشتر غزلیں جدید طرز اظہار کی عمدہ عکاسی کر تی ہیں“ شیخ محمد سراج الدین ریسرچ اسکالر عثمانیہ یونیورسٹی نے ”عتیق اجملؔ کی غزل گوئی“ کے عنوان سے اپنا پرمغز مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کے شعراء میں اجملؔ نے رومانی شاعری کے ذریعہ اپنی منفرد شناخت بنائی ہے۔ ان کی غزلوں میں نغمگی اور تازگی پائی جاتی ہے جس کے سبب غزلوں میں روانی آگئی ہے عتیق اجملؔ کی شاعری نوجوان دلوں کی دھڑکن بن گئی ہے۔“ گلبرگہ کی معزز اور ہردلعزیز شخصیت ڈاکٹر وہاب عندلیب نے بحیثیت سامع اس ویبینار میں شرکت کی ان کی شرکت گویا سارے گلبرگہ کی شرکت ہے اور ہم سب کے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں۔

اس ویبینار کے انعقاد میں سید عرفان اللہ قادری صدر بزم امید فردا کی خدمات قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے اظہار خیال کر تے ہوئے کہا کہ گلبرگہ ریاست کرناٹک میں بہت بڑا مرکز ہے یہاں کے شعرا ادبا نے اپنی تخلیقات کے ذریعہ ملکی سطح پر شہرت حاصل کی اسی کے باوصف میں نے سب سے پہلے گلبرگہ کے شعر وادب کے حوالے سے ویبینار منعقد کیا اور مجھے بے حد خوشی اور مسرت ہورہی ہے کہ تمام شرکاء نے ویبینار کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ صبا انجم عاشی نے سبھی شرکاء کا استقبال کیا۔ علاوہ ازیں اس ویبینار میں صبا انجم نے تکینکی معاملات میں عرفان اللہ کا بھر پور ساتھ دیا۔ عرفان اللہ قادری کے شکریہ پر یہ یادگار وبینار اختتام پذیر ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!