نکیل ڈالنے کا بہترین وقت: سپریم کورٹ نے دی حکومتوں اور افسروں کو وارننگ

ایم ودود ساجد

سپریم کورٹ نے ان حکومتوں اور افسروں کو وارننگ دی ہے جو سوشل میڈیا پر اپنی شکایات اور آواز اٹھانے والوں کو کچل رہے ہیں ۔ جسٹس چندر چوڑ کی قیادت والی سہ رکنی بنچ نے اس اطلاع پر سخت غصہ کا اظہار کیا کہ حکومتیں اور پولیس افسران’ ان افراد پر افواہ پھیلانے کے الزام میں مقدمے کر رہے ہیں جو سوشل میڈیا پر میڈیکل ایمر جنسی میں مدد مانگ رہے ہیں ۔۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اپنی شکایت سوشل میڈیا پر کرنا غلط اطلاع پھیلانے کے زمرے میں نہیں آتا۔۔ لوگ اپنی شکایت کرتے ہیں’ ایک دوسرے سے مدد مانگتے ہیں۔۔ سوشل میڈیا بہت اچھا کام کر رہا ہے۔۔

جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ ہم یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ آج کے بعد اگر سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے والوں کو دبایا گیا تو ہم متعلقہ افسروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔۔ اس سلسلے میں مرکز اور ریاستی حکومتوں اور پولیس سربراہوں کو بھی متنبہ کیا گیا ہے۔۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ یوگی حکومت کے جابرانہ اقدامات کے تناظر میں بہت اہم ہے۔۔

یوپی میں اس وقت میڈیکل ایمرجنسی جیسے حالات ہیں اور ہر طرف پریشان وسرگرداں لوگ سرپٹ دوڑ رہے ہیں ۔۔ ہسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کو بستر نہیں مل رہے ہیں’ ہسپتالوں اور بازاروں میں آکسیجن نہیں مل رہی ہے’ ضروری ادویہ نہیں مل رہی ہیں’ ریمڈیسور جیسا ضروری انجکشن نہیں مل رہا ہے’ اموات کی شرح بڑھ رہی ہے’ شمشان گھاٹوں میں چتائیں جلانے کی جگہ نہیں بچی ہے۔۔

دوسری طرف آکسیجن اور ریمڈیسور کی کالا بازاری عروج پر ہے’ سلینڈر بھرنے والی فیکٹریاں’ ڈیلرس اور مقامی تاجر بے حیائی کے ساتھ آدھے سے بھی کم سلینڈر بھر کر پورے سلینڈر کی قیمت بلکہ تین گنی اور چار گنی وصول کر رہے ہیں ۔۔ ایسے میں سوشل میڈیا پر متاثرین اور پریشان حال لوگ مدد کیلئے فریاد نہیں کریں گے تو کیا کریں گے۔۔ لیکن یوپی کے وزیر اعلیٰ نے پچھلے دنوں پولیس کو احکامات جاری کئے کہ ان لوگوں کے خلاف نیشنل سیکیورٹی ایکٹ کے تحت مقدمات قائم کئے جائیں جو سوشل میڈیا پر آکسیجن اور بیڈس کے تعلق سے “افواہ” اڑا رہے ہیں اور غلط معلومات نشر کر رہے ہیں ۔۔

اس پر عمل شروع بھی ہوگیا ہے۔۔ بریلی میں ایک لڑکے پر مقدمہ ہوگیا ہے جس نے اپنے بیمار باپ کیلئے طبی مدد کی اپیل کی تھی۔۔ حال یہ ہے کہ آکسیجن اور بستر نہ ملنے کی وجہ سے خود بی جے پی کا ہی ایک ایم ایل اے چل بسا۔۔ ہائیکورٹ کی لکھنؤ بنچ کا ایک جج ریمڈیسور حاصل نہ کرسکا اور دم توڑ دیا۔۔ مرنے سے پہلے اس نے ہائیکورٹ کے رجسٹرار کو میسیج کیا تھا کہ “مجھے ریمڈیسور نہیں مل رہی ہے”..

ایسے میں جب ہر طرف نفسی نفسی کا عالم ہے یوگی حکومت پریشان حال اور در بدر ٹھوکریں کھانے والے مریضوں کو سوشل میڈیا پر مدد کی فریاد بھی کرنے دینا نہیں چاہتی اور ان کی آواز کو کچلنا چاہتی ہے۔۔ اب جبکہ سپریم کورٹ نے یہ واضح فیصلہ کردیا ہے اور حکومتوں اور پولیس کو سخت وارننگ جاری کردی ہے تو سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے اور مشکل وقت میں فریاد کرنے والوں کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔ جہاں جہاں لوگوں کو پریشان کیا جارہا ہے اور سوشل میڈیا پر اپنی بپتا سنانے کی پاداش میں مقدمے کئے جارہے ہیں لوگوں کو سامنے آکر اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپنی شکایات بھیجنی چاہئیں ۔۔

سپریم کورٹ میں ضروری نہیں کہ مہنگے مہنگے وکیل کرکے ہی اپنی بات پہنچائی جائے ۔۔ آپ مقامی وکیلوں سے اپنی شکایت کا مضمون لکھواکر یا خود ہی ایک خط لکھ کر براہ راست سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھیج سکتے ہیں ۔۔ یہی نہیں اس وقت جو بنچ جسٹس چندر چوڑ کی قیادت میں آکسیجن اور ریمڈیسور کی سپلائی اور ویکسین کی قیمتوں کے تعلق سے سنوائی کر رہی ہے اس کو بھی اپنی شکایت بھیج سکتے ہیں ۔۔ شیطانوں اور شرپسندوں کی ناک میں نکیل ڈالنے کا یہ بہترین وقت ہے۔۔ اس سلسلے میں ہر ضلع اور شہر میں درد مند وکلاء اگر گروپ بناکر کام کریں تو پریشان حال لوگوں کو کچلنے والوں کو ان کے اصل مقام تک پہنچایا جاسکتا ہے۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Open chat
1
!Hello
!How Can I Help You
واٹس ایپ گروپ جوائن کرنے کیلئے نیچے لنک پر کلک کریں۔

https://chat.whatsapp.com/Cu3chd0osKYFJfN3AkBLQ9