سیاسیمضامین

پاسباں مل گئے مودی اور شاہ کو محمود مدنی کی شکل میں

محمد خالد داروگر، دولت نگر، سانتاکروز، ممبئی

ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں مسلمانوں میں مایوسی اور ڈر و خوف کی جو کیفیت پیدا ہورہی ہے اس کیفیت سے مسلمانوں کو حوصلہ اور مظبوط عزم کے ساتھ باہر نکالنے کی شدید ضرورت ہے۔ حکومت مسلمانوں کو حیران و پریشان کرنے کے لئے نت نئے پلان تیار کررہی ہے تاکہ مسلمان ہمیشہ بحرانی صورتحال کا سامنا کرتا رہے اور اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر وہ اپنا کام نکال کر مسلمانوں کو انتہائی پستی کی طرف دھکیل دے۔ ایسے سنگین حالات میں مسلمانوں کی قیادت کرنے والی تنظیموں کے سربراہوں کا یہ عظیم کام تھا کہ وہ ان کی بہترین نمائندگی کرتے ہوئے مسلمانوں میں عزم و حوصلہ پیدا کرتی اور انہیں مایوسی کی کیفیت سے نکال کر ان میں حالات سے مقابلہ کرنے کی جرأت پیدا کرتی۔

مودی اور امیت شاہ کے ذریعے ملک میں پیدا کئے گئے ڈر و خوف کے حالات نے ملی قیادت میں بھی بزدلی، خوف اور چاپلوسی کی کیفیت پیدا کردی ہے۔ جمعیتہ علماء ہند جیسی ماض کی شاندار تاریخ رکھنے والی جماعت بھی مودی اور شاہ کی جوڑی کے دام فریب میں گرفتار ہوگئے اور اس کی مرکزی مجلس منتظمہ کے اجلاس میں موجودہ حالات کی روشنی میں مولانا محمود مدنی نے تجویز رکھی کہ "کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ اور این آر سی پورے ملک میں لاگو کی جائے۔” یہی بات مودی اور امیت شاہ مسلسل دہراتے رہے ہیں کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے یعنی انہیں کشمیر کی زمین تو چاہیے لیکن انہیں وہاں کے کشمیری مسلمان قابل قبول نہیں ہے کشمیر کے مسلمانوں پر جو ظلم وتشدد ہوتا ہے ہوتا رہی حکومت کو اس کوئی پرواہ نہیں ہے۔

اسی طرح مولانا محمود مدنی کو بھی کشمیر میں رہے رہ مسلمانوں کی کوئی فکر نہیں ہے کیونکہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے کشمیری مسلمان اس کا حصہ نہیں ہے۔ این آر سی کی وجہ سے آسام کے مسلمانوں کتنی تکلیف دہ صورتحال سے گزر رہے ہیں اس کا ہمیں اندازہ نہیں ہے اور آج حالت یہ ہے کہ وہ گھر ہوتے ہوئے بھی بےگھر ہوگئے۔ مولانا محمود مدنی نے پورے ملک میں این آر سی لاگو کرنے کا مطالبہ کرکے سارے ملک کے مسلمانوں میں بےچینی و اضطراب کے خوف میں مبتلا کرنے کے حکومت کے کام آسان بنادیا ہے یعنی مولانا محمود مدنی اس وقت مودی اور امیت شاہ کی سر میں سر ملا کر بات کررہے ہیں۔ مودی اور امیت شاہ کے اندھ بھگت اور ہندوتوا وادی تنظیمیں اور ان کے ہمنوا سرگرم افراد مولانا محمود مدنی کی بات پر بگلیں بجا رہے ہیں کہ مسلمانوں کی نمائندہ تنظیموں میں ایک جمعیتہ علماء ہند بھی ان کی ہم خیال ہو گئی ہے۔

اندھ بھگتوں اور آر ایس ایس کی ذیلی تنظیموں نے آرٹیکل 370 کو کشمیر سے ہٹائے جانے کے مودی حکومت کے فیصلے کو مولانا محمود مدنی کی کشمیر پر تجویز کے پاس کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے مہم چھیڑ دی ہے اور یہ لکھنا شروع کردیا ہے کہ MULIMSWITHMODI (کشمیر مسئلے پر مسلمان مودی کے ساتھ) مولانا محمود مدنی نے مودی اور امیت شاہ کے ہاتھ مضبوط کردیے ہیں اور ان کے ہاتھ میں ایک مستقبل ہتھیار تھما دیا ہے جس کو مستقبل بھناتے رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!