توہین رسالتؐ: کہیں سے تشدد کی خبر نہیں، دہلی جامع مسجد میں نعرہ بازی کی کوشش پر شاہی امام نے لگائی پھٹکار

دہلی کے تاریخی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز کے بعد مسجد کے اندر ہی کچھ لوگوں نے بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما اور بی جے پی سے نکالے گئے لیڈر نوین کمار جندل کے خلاف نعرے بازی کرنے کی کوشش کی۔

بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نازیبا کلمات کہے جانے کو لے کر عالمی سطح پر ناراضگی ہنوز برقرار ہے۔ اس درمیان آج پورے ملک میں نمازِ جمعہ کے بعد ماحول پرامن رہا۔ کچھ مقامات پر ہلکی پھلکی نعرے بازی ضروری دیکھنے کو ملی، لیکن تشدد جیسی خبر کہیں سے سامنے نہیں آئی ہے۔ دہلی، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، رانچی اور گجرات جیسی ریاستوں میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے تاکہ گزشتہ جمعہ کی طرح تشدد، پتھراؤ یا آگ زنی جیسا معاملہ سامنے نہ آئے۔ خصوصاً اتر پردیش کے سہارنپور، کانپور اور الٰہ آباد وغیرہ شہروں میں پولیس کی سیکورٹی کافی سخت تھی۔ ان مقامات پر بھی کسی طرح کا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

دہلی کے تاریخی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز کے بعد مسجد کے اندر ہی کچھ لوگوں نے بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما اور بی جے پی سے نکالے گئے لیڈر نوین کمار جندل کے خلاف نعرے بازی کرنے کی کوشش کی، لیکن شاہی امام بخاری نے انھیں زوردار پھٹکار لگائی۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ماحول خراب کرنے کی اس طرح کی کوششوں کو قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ شاہی امام بخاری نے لوگوں سے کہا کہ ’’یہ غلط ہے۔ کوئی بھی شخص ایسی حرکت نہ کرے، کیونکہ یہ برداشت کے باہر ہوگی۔ علاقے کے لوگ امن چاہتے ہیں، کسی بھی طرح کی نعرے بازی برداشت نہیں کی جائے گی۔‘‘ نمازِ جمعہ کے بعد شاہی امام بخاری نے لوگوں سے جلد از جلد جامع مسجد خالی کرنے کی گزارش بھی کی۔

اس تعلق سے ڈی سی پی سنٹرل شویتا چوہان نے بتایا کہ ’’ہمیں کسی بھی طرح کی نعرے بازی سے متعلق جانکاری نہیں ہے۔ مسجد کے اندر کیا ہوا اور امام صاحب نے جو اعلان کیا، اس معاملے کی جانکاری حاصل کی جا رہی ہے۔ فی الحال مسجد کے اندر اور باہر امن قائم ہے۔‘‘

واضح رہے کہ آج نمازِ جمعہ کے پیش نظر ملک کے مسلم لیڈروں اور ائمہ کرام نے لوگوں سے کسی بھی طرح کا تشدد نہ کرنے اور امن کے ساتھ نماز کے بعد گھر لوٹنے کی اپیل کی تھی۔ سماجوادی پارٹی رکن پارلیمنٹ شفیق الرحمن برق نے بھی خصوصی طور پر سنبھل کے لوگوں سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی تھی۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر مسلمانوں سے بازار کھلا رکھنے اور نظامِ امن بنائے رکھنے کی اپیل کی تھی۔ پولیس انتظامیہ کی پیش قدمی پر سماجوادی پارٹی رکن پارلیمنٹ نے مسلم طبقہ سے یہ اپیل کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!