گوپی چندنارنگ کادنیائے فانی سے اُٹھ جانا، اردو کیلئے ایک ناقابل تلافی نقصان: یارانِ ادب بیدر

یارانِ ادب بیدر کی ادبی محفل سے محمدیوسف رحیم بیدری اور دیگر کاخطاب

بیدر: 16/جون (وائی آر) شیموگہ سے تشریف لائے ممتاز شاعر رحمت اللہ رحمت کی بیدر آمد پر یارانِ ادب بیدر کے زیراہتمام ایک محفلِ مشاعرہ کا انعقادمسیح الدین احمد قریشیہ الماس میموریل ہال، تعلیم صدیق شاہ بیدر میں عمل میں آیا جس کی صدارت بزرگ شاعر جناب سید لطیف خلش ؔ نے کی۔ رحمت اللہ رحمت کا تعارف کراتے ہوئے محمدیوسف رحیم بیدری سکریڑی

یارانِ ادب بید رنے کہاکہ رحمت اللہ رحمت کی مادری زبان نوائطی ہے وہ اردو میں شاعری کرتے ہیں۔ اور اردو کے صحافی بھی ہیں۔ چونکہ ان کاقیام ایک عرصہ تک بیدر میں رہے گا اس لئے عین ممکن ہے کہ ہم رحمت اللہ رحمت ؔ سے آئندہ بھی استفادہ کرتے رہیں گے۔ میرؔبیدری، سخاوت علی سخاوت ؔ، جاوید احمدنقیب ہمناآبادی، کے علاوہ رحمت اللہ رحمت ؔاور سید لطیف خلش ؔ نے اپنااپناکلام سناکر دادحاصل کی۔ خصوصاً رحمت اللہ رحمت ؔ کے کلام کو کافی پسند کیاگیا اور سمجھاگیاکہ موصوف کا کلام ایک پختہ شاعری کی صفات اپنے اندر رکھتا ہے۔

محفل مشاعرہ کے صدر سید لطیف خلشؔ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ رحمت اللہ رحمت شیموگہ کی بیدر آمد پر رکھی گئی اس تقریب پر یارانِ ادب بیدر کے سکریڑی محمدیوسف رحیم بیدری کو مبارک بادپیش کرتاہوں کہ ان ہی کی کوششوں کی بدولت 2007 سے اب تک مسلسل ادبی سرگرمیاں بید رشہر میں پروان چڑھ رہی ہیں۔ آج بھی بیدر کی مٹی میں ادب کی خوشبو صاف محسوس کی جاسکتی ہے۔کورونا دورکے بعد جناب رحمت اللہ رحمت کی بیدر آمد دراصل اللہ تعالیٰ کاعطیہ ہے جو اہلیان شہر بیدرکو موصول ہواہے۔

آخر میں ممتازنقاد گوپی چند نارنگ کے انتقال پرممتازادیب، صحافی، نقاد اور خاکہ نگار محمدیوسف رحیم بیدری نے تعزیت کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ گوپی چند نارنگ کی اردو سے وابستگی اٹوٹ رہی۔ گوکہ وہ اردو کو ہندی اور سنسکرت سے وابستہ کرنے کے حامی تھے۔ ساختیات اور پس ساختیات جیسانظر یہ پیش کرکے یونیورسٹی کے پروفیسرصاحبان کے دل میں انھوں نے گھرکرلیاتھا۔ اس نظریہ کے فائدے اور نقصانات پر آئندہ بھی بحث ہوتی رہے گی۔ تاہم انھوں نے جس ایمانداری سے اردو زبان وادب کی آبیاری کی، ایسی شخصیات انگلیوں پر شمار کی جاسکتی ہیں۔ ان کے انتقال پر عالمِ اردو سوگوار ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کے بعد گوپی چندنارنگ کادنیائے فانی سے اٹھ جانا، اردو کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔

یارانِ ادب عالم اردو سے تعزیت کا اظہار کرتاہے۔ پروگرام کا آغاز سخاوت علی سخاوت ؔ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ محمدیوسف رحیم بیدر ی نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔ جناب ِ سخاوت نظامی نے اظہارِ تشکر کیا۔مذکورہ شعرائے کرام کے علاوہ معروف صحافی جناب سید یداللہ حسینی،ممتاز تاجر عبدالغنی،جناب سید آصف، جناب جعفر بیگ، اور دیگر نے تقریب میں شرکت کی اور تعاون فرمایا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!