ہندوستان کی ہر دوسری خاتون ’خون کی کمی‘ کا شکار!

نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق ہندوستان میں ہر دوسری عورت خون کی کمی کا شکار ہے اور 5 میں سے ایک عورت براہ راست خون کی کمی کے سبب اپنی جان گنوا دیتی ہے۔

نئی دہلی: خواتین کے عالمی دن کے موقع پر جب پوری دنیا خواتین کے تئیں بیدار ہے اور اس کی صحت اور اس کی ترقی پر بحث کی جا رہی ہے، اس وقت بھی ہندوستان کی 57 فیصد خواتین انیمیا یعنی خون کی کمی کا شکار ہیں۔ خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت کے مطابق ملک میں 15 سے 49 سال کی 57 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔ حالیہ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملک میں 15 سال سے کم عمر کی 46 فیصد لڑکیاں خون کی کمی کا شکار ہیں۔ جنوری 2015 سے نومبر 2021 تک لیے گئے ہیموگلوبن کے نمونوں کے ڈیٹا پر مبنی رپورٹ کے مطابق 15 سال سے کم عمر کی 46 فیصد لڑکیاں خون کی کمی کا شکار تھیں۔ ایس آر ایل ڈائیگنوسٹکس نے سات سالوں کے دوران کل 8,57,003 لڑکیوں کے نمونوں کی جانچ کی۔ ٹیسٹ کیے گئے نمونوں میں سے 13 فیصد سے زیادہ میں شدید خون کی کمی پائی گئی۔

نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق ہندوستان میں ہر دوسری عورت خون کی کمی کا شکار ہے اور 5 میں سے ایک عورت براہ راست خون کی کمی کے سبب اپنی جان گنوا دیتی ہے۔ ماہر خوراک شیکھا اگروال شرما کے مطابق کچھ چیزوں کے استعمال سے خواتین خون کی کمی دور کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق پالک، گُڑ، آنولا، بھیگی ہوئی کشمش اور لوبیا کچھ ایسی چیزیں ہیں جنہیں اپنی خوراک میں شامل کریں، تو خون کی کمی کو دور کیا جا سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!