مرکزی کابینہ نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کیلئے قرارداد کو دی منظوری

مرکزی کابینہ سے زرعی قوانین واپسی سے متعلق قراراد کو منظوری ملنے کے بعد اب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اسے پاس کروایا جائے گا اور تینوں زرعی قوانین باضابطہ طور پر ختم ہو جائیں گے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں آج مرکزی کابینہ کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں تینوں زرعی قوانین کی واپسی سے متعلق قرارداد کو منظوری مل گئی۔ تینوں زرعی قوانین کی واپسی کا اعلان گزشتہ دنوں وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے نام خطاب کرتے ہوئے کیا تھا۔ آج ان قوانین کی واپسی والے بل پر مرکزی کابینہ کی بھی مہر لگ گئی۔ کابینہ نے اتفاق رائے سے زرعی بل واپس لینے کی قرارداد پاس کر دی ہے۔

مرکزی کابینہ سے زرعی قوانین واپسی سے متعلق قراراد کو منظوری ملنے کے بعد اب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اسے پاس کروایا جائے گا اور تینوں زرعی قوانین باضابطہ طور پر ختم ہو جائیں گے۔ مانا جا رہا ہے کہ مودی کابینہ جلد ان قوانین کی واپسی پر اپنی منظوری دے سکتی ہے۔ کابینہ کی میٹنگ آج وزیر اعظم دفتر میں صبح 11 بجے شروع ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس 29 نومبر سے شروع ہو رہا ہے۔ پارلیمانی ضابطوں کے مطابق کسی بھی پرانے قانون کو واپس لینے کا بھی وہی عمل ہے جو کسی نئے قانون کو بنانے کا ہے۔ جس طرح سے کوئی نیا قانون بنانے کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے بل پاس کروانا پڑتا ہے، ٹھیک اسی طرح پرانے قانون کے واپس لینے یا ختم کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے بل پاس کروانا پڑتا ہے۔

پارلیمانی اجلاس میں لوک سبھا یا راجیہ سبھا میں تینوں قوانین کے لیے یا تو تین الگ الگ یا پھر تینوں کے لیے ایک ہی بل پیش کیا جائے گا۔ پیش ہونے کے بعد بحث کرائی جائے گی، یا پھر بغیر بحث کے ہی بل پہلے ایک ایوان سے اور پھر دوسرے ایوان سے پاس ہونے کے بعد منظوری کے لیے صدر جمہوریہ کے پاس بھیجا جائے گا۔ صدر جمہوریہ کی منظوری ملتے ہی تینوں زرعی قوانین منسوخ ہو جائیں گے۔ بل پاس ہونے میں کتنا وقت لگے گا، یہ حکومت کی ترجیحات پر منحصر کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!