تری پورہ کے مظلوم مسلمانوں کا کوئی رفیق نہیں!

ساجد محمود شیخ میراروڈ

مکرمی !

گزشتہ 6 دنوں سے تری پورہ کے مسلمانوں پر قیامت ٹوٹی ہوئی ہے ان 6 دنوں سے مسلسل مسلمانوں پر حملے ہو رہے ہیں وشو ہندو پریشد ہنکار ریلی نکال کر ہاتھوں میں انگارے لئے مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنے کا نعرہ لگا رہے ہیں شانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں گستاخیاں ہورہیں ہیں قرآن مجید کو نذر آتش کیا جارہا ہے.

مساجد کو شہید کیا جا رہا ہے مسلمانوں کی دوکانیں جلادی گئیں مسلمانوں کی جان ومال اور عزت و آبرو خطرے میں ہے یہ سب دن دھاڑے ہورہا ہے ان پریشان حال مسلمانوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے گودی میڈیا ہمیشہ کی طرح آنکھیں بند کرکے بیٹھا ہے ریاستی ومرکزی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو بھی سانپ سونگھ گیا ہے، اس معاملے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں کی ملّی وسیاسی قیادت بھی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس ملک میں سیکولرازم اور انسانی اقدار کی باتیں کرنے والے حقوقِ انسانی کے کارکنان بھی خاموش ہیں۔ آخر ان مسلمانوں کا قصور کیا ہے مصیبت کی اس گھڑی میں اُنہیں یوں بے یار و مددگار کیوں چھوڑ دیا گیا ہے۔

فرقہ پرست طاقتیں تری پورہ کو دوسرا گجرات بنانے پر تلی ہوئی ہیں۔ اس ملک کے مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور انصاف پسند ہندوؤں کو ساتھ لے کر تری پورہ کے مظلوم ومحصور مسلمانوں کے لیے آواز بلند کریں اور حکومت پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ قتل وغارت گری اور دہشت کا یہ ماحول ختم ہو۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!