لال قلعہ کسی کی جاگیر نہیں، حکومت راستے بند کرکے کیا ثابت کرنا چاہتی ہے! راکیش ٹکیت

راکیش ٹکیت نے کہا کہ دہلی کی تینوں سرحدوں پر دھرنا دے رہے کسان کل اسٹیج پر پرچم کشائی کریں گے۔ حکومت تاریخی لال قلعہ پر بڑے بڑے کنٹینر لگا کر کیا ثابت کرنا چاہ رہی ہے۔ لال قلعہ ان کی جاگیر تو نہیں ہے؟

نئی دہلی: مرکز کے تین زرعی قوانین کے خلاف دہلی کی سرحد پر تقریباً 9 مہینے سے احتجاج کر رہے کسانوں نے 75ویں یوم آزادی کے موقع پر کہیں نہیں جانے کا اعلان کیا ہے۔ کسانوں نے کہا کہ تمام کسان مظاہرین سرحد پر ہی جھنڈا لہرائیں گے۔ کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا کہ ہم کل کہیں کوچ نہیں کرنے والے، بلکہ تمام کسان اپنے ٹریکٹروں پر، گاؤں میں اور تحصیلوں پر قومی پرچم لہرائیں گے۔

راکیش ٹکیت نے کہا کہ ’’دہلی کی تینوں سرحدوں پر کل دھرنا دے رہے کسان اسٹیج پر پرچم کشائی کریں گے۔ حکومت تاریخی لال قلعہ پر بڑے بڑے کنٹینر لگا کر کیا ثابت کرنا چاہ رہی ہے۔ لال قلعہ ان کی جاگیر تو نہیں ہے؟ ہم نے اپنا حق مانگا تو ہمیں دہشت گرد اور خالصتانی قرار دے دیا گیا۔‘‘ راکیش ٹکیٹ نے کہا کہ ہر کسان ترنگے کا احترام کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم کل آزادی کا جشن منائیں گے، مٹھائی باٹیں گے اور جھنڈا بھی لہرائیں گے۔ کل یہاں سے کوئی دہلی کوچ نہیں کر رہا ہے۔‘‘

خیال رہے کہ دہلی پولیس نے یوم آزادی سے ایک روز قبل لال قلہ کے سامنے اہم سڑک پر بڑے بڑے کنٹینر لگا کر یہاں پہنچنے کی راہیں مسدود کر دی ہیں۔ حکومت نے ایسا اس لئے کیا ہے تاکہ کوئی بھی لال قلعہ کی فصیل تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ دہلی پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسا حفاظتی وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے۔

دراصل 26 جنوری کو یومِ جمہوریہ کے مقع پر کسانوں نے دہلی کی سڑکوں پر ٹریکٹر پریڈ نکالی تھی جس میں کچھ شرارتی عناصر نے ہنگامہ آرائی کی تھی اور لال قلعہ پر مذہبی پرچم لہرا دیا تھا۔ اس کے علاوہ لال قلعہ کے احاطہ میں تشدد بھی کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!