کامیابی اور مسرت کاراز اچھی عادتیں اور آپسی تعلقات کی بہتری میں پنہاں ہے: عبدالمنان

بیدر:31/جولائی (وائی آر) ملک کے معروف NLP کوچ جناب عبدالمنان علی نے Achieve Ultimate Happiness کے عنوان پرمنعقدہ آن لائن تیسرے ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج کے دور میں ہر کام آن لائن ہورہاہے۔ مختلف شاپنگس آن لائن ہورہی ہیں، انسان گھربیٹھے مطلوبہ چیزتک پہنچ رہاہے جس سے اسکی جسمانی حرکت میں کمی آتی جارہی ہے۔ ایسے میں ضرورت ہے خودکو فٹ رکھنے کی۔رسی کھیلنے، دوڑنے، تیراکی کرنے اور فٹ بال وغیرہ کھیلوں کے ذریعہ خود کو فٹ رکھاجاسکتاہے۔ اللہ کے رسول نے فرمایا ”تم پرا پنے جسم کا بھی حق ہے“ کیاوہ حق ادا کیاجارہا ہے؟ ایک موقع پر فرمایا طاقتور مومن کمزورمومن سے بہتر ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس قدر زیادہ تیز چلتے تھے کہ صحابہ کرام ؓ کو آپ ﷺ کی رفتار سے ہم رفتار ہونے کے لئے کافی جدوجہد کرنی پڑتی تھی۔

عبدالمنان علی کے ویبینار میں خواتین بھی شریک ہوتی ہیں۔انھوں نے خواتین کی بابت کہاکہ انڈین لڑکیاں ایکسرسائز نہیں کرتیں۔ ایسے میں شادی شدہ خواتین اگرورزش کرنے اور خود کو چست اور ذہین بنائے رکھنے میں دلچسپی لیتی ہیں تو یہ ایک فال ِ نیک ہے لیکن اس کے لئے ورزش کرنے کے ساتھ وہ اپنے وزن کو بھی چیک کرتی رہیں۔ ویبینار کے درمیان میں انھوں نے مختلف سوالا ت کھانے سے متعلق کئے۔ شرکا ء سے دریافت کیاکہ کھانے کے شوقین کون ہیں؟ ہوٹل کے بنے کھانوں کے شوقین ہاتھ اٹھائیں؟کتنے افراد فاسٹ فوڈ کھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟BMI(باڈی ماس انڈکس)کے بارے میں کون کون جانتے ہیں؟

پھر انھوں نے بتایاکہ اوور Eating صحت کے لئے خطرناک ہے۔ کولیسٹرول، موٹاپا، ذیابیطس، بی پی، ہارٹ اٹیکس اس سے ممکن ہے۔ ایک تھرڈ کھانا، ایک تھرڈ پانی، اور ایک تھرڈپیٹ خالی رہے۔ پیٹ بھر کھانا Allowed نہیں ہے۔ ہم رسول اللہ کی کھاناکھانے کی ہردن کی سنتوں کو بھول گئے ہیں۔ ہردن تین ٹائم لگاتار حد سے زائد کھانا کھارہے ہیں۔جبکہ کھانے کامقصد بنیادی طورپر طاقت Gainکرنااور مسرت حاصل کرنا ہے لیکن کچھ لوگ کھانے کے لئے جی رہے ہیں اور اس سے مسرت کشید کررہے ہیں۔ رسول اللہ کی مشکلات کو بیان کرتے ہوئے انھوں نے تنقید کی اور کہاکہ پکوان میں ہی سارادن لگادینادرست نہیں۔ کھانا اعتدال سے کھائیں۔ کھانے سے پہلے دو گلاس پانی پئیں اس کی بدولت زائد کھاناکھاناممکن نہیں ہوتا۔ اوریہ صحت کے استحکام کا ذریعہ بھی ہے۔

عبدالمنا ن علی نے تعلقات کے بارے میں بتایاکہ Relationship بہت اہم ہیں۔ نفسیات میں بتایاگیاکہ دوستوں اور رشتہ داروں سے تعلقات بہتر ہونا چاہیے۔ منفیت اگر اطراف میں ہوتو آپ اس ماحول کو بدلنے کی کوشش کریں۔ جو نگیٹو ہیں انھیں بھی پازیٹو بنائیں اگر وہ نہ بنیں تو ان سے فاصلہ اختیار کریں۔ ان کی کونسلنگ کریں۔ ہمارا رویہ بھی دوسرے میں منفیت پیداکرنے کاذمہ دار ہو سکتاہے۔ کوشش کریں کہ ہمارے رویہ سے دوسرے کو غصہ نہ آئے۔ ہم مثبت روشنی بن کر زندگی کریں۔ ہر طرح کے افراد لائف میں آتے ہیں۔ بہتر طریقے سے ان کے سوالات کے جواب دیاکریں۔ ”جوتمہارا جانی دشمن ہے وہ تمہارا جگری دوست بن جائے“نرمی اور Softness سے ہی ممکن ہے۔

NLPکوچ جناب عبدالمنان علی نے مزید کہاکہ جس طرح کاماحول ہے ویسی ہی سوچ پید اہوتی ہے۔ پازیٹوہویا نگیٹو،لوگوں کے درمیان رہیں گے تو ویساہی احساس ہمارے اندر بھی Create ہوتاہے۔ جبکہ حسن سلوک کی بدولت آپ کی طرف انسانوں کاجھکنا طئے ہے۔ ہرشخص سے توقع نہ رکھی جائے۔ صبر کا مادہ منفی افراد کے آنے کے سبب بڑھ جاتاہے۔ انھو ں نے زور دے کر کہاکہ مسائل تو ہر ایک کے پاس ہوتے ہیں اس سے فائٹ کرتے ہوئے اس سے باہر نکلناہوگا۔ ہم ایک منصوبہ بناتے ہیں لیکن اللہ کی مرضی کے مطابق ہی کام ہوتاہے۔ہمیں حسن ظن رکھناہوگاکہ اس میں اللہ کی کوئی مصلحت ہوگی۔ پھر انھوں نے تعلقات پر بولتے ہوئے کہاکہ اچھے تعلقات نبھاناضروری ہے خصوصاًپڑوسیوں سے۔”رشتہ داروں سے قطع تعلق کرتے ہیں انھیں اللہ دنیا میں بھی سزادیتاہے، آخرت میں تو ہے ہی سزا“ جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتاہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ تعلقات کو ہرحال میں بحال رکھے۔ رسول اللہ نے فرمایا”اچھاکرنے والے کے ساتھ اچھا رویہ رہے گا لیکن جو تمہارے ساتھ قطع تعلق کرے تم اس کے ساتھ اچھاسلوک کیاکرو“

موصوف نے ایک گھنٹے کے اس ویبنار کے تمام شرکاء سے کہاکہ آپ اپنے آپسی تعلقات بہتررکھیں۔ زندگی تک مہلت ہے اور زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ موصوف نے اس ویبینار میں Atomic Habits نامی کتاب کوشو کیا اور اس کو بہترین کتاب بتاتے ہوئے کہاکہ کس طرح اچھی عادتیں اختیار کرسکتے ہیں اور اپنی غلط عادتوں کو ختم کرسکتے ہیں، اسکے لئے یہ کتاب ممدومعاون رہے گی۔ غلط عادتوں کوترک کر نے کیلئے محنت لازمی ہے۔ عادتیں چھوڑنے کے لئے اپنے موجودہ ماحول سے باہر نکلیں اور اس کے لئے متبادل مثبت عادتیں اختیا رکریں۔

واضح رہے کہ کوچ عبدالمنان علی ویبینار کے درمیان خود سوال کرتے ہیں اور ناظرین کو بھی سوالات کا موقع دیتے ہیں۔ موضوع سے موصوف مشق بھی کراتے ہیں۔ ناظرین کے کمنٹ کے ذریعہ کسی موضوع پران کی تحریر بھی لیتے ہیں۔اور اس کو دوسروں تک ان کے ہی نام سے شیئر بھی کرتے ہیں جس سے ناظرین کاحوصلہ بڑھ جاتاہے۔ مختلف موضوعات خصوصاً شخصیت سازی یا معاشرتی مسائل کے حل سے متعلق ویبینار میں شرکت کے خواہشمند ان کے واٹس ایپ 7204423941 پررابطہ کرسکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!