یوپی الیکشن اور سنگھ پریوار کا بدلتا پلان

️سرفراز احمد قاسمی، حیدرآباد

آنے والے چند مہینوں میں پانچ ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں،جسکی تیاری بی جے پی نے ابھی سے ہی شروع کردی ہے،2022 میں یوپی سمیت اتراکھنڈ،ہماچل پردیش اورپنجاب کے علاوہ گجرات میں بھی  الیکشن ہونگے،یہ الیکشن آئندہ سال کے شروع میں منعقدہونے والے ہیں،ان پانچ ریاستوں میں سے چارمیں بی جے پی برسراقتدار ہے،جبکہ ایک ریاست میں  کانگریس کی حکومت ہے،ان ریاستوں کی اسمبلی انتخابات کےلیے 6 ماہ سے بھی کم عرصہ باقی رہ گیاہے،ان پانچ ریاستوں میں سب سے زیادہ  اہمیت کی حامل اترپردیش ہے،یہ ریاست بی جے پی کےلئے  اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ دہلی کا راستہ یوپی ہوکرہی گذرتا ہے،یوپی نہ صرف نہ صرف یہ کہ آبادی کےلحاظ سے ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے،بلکہ سب سےارکان لوک سبھا وراجیہ سبھا بھی یہیں سےآتے ہیں،اسلئے آرایس ایس نے  وہاں انتخابی ہل چل شروع کردی ہے، کیونکہ 2024 میں پارلیمانی الیکشن بھی ہوگا، اسی لئے یوپی کو فتح کرنے کی تیاری شروع کردی گئی ہے،یوپی میں یوگی کی ناکامی آشکارا  ہوچکی ہے،جس طرح ملک کی تاریخ میں مودی سب سے ناکام اورجھوٹے پی ایم ثابت ہوئے ٹھیک اسی طرح یوپی میں یوگی انتہائی ناکام وزیراعلیٰ کی لسٹ میں شامل ہوگئے.

سی ایم یوگی کے خلاف خوداسی پارٹی کے نمائندے وقفے وقفے سے آواز اٹھاتے رہےہیں،اسکے علاوہ اپوزیشن پارٹیاں بھی مسلسل یوگی کونشانہ بناتی رہی ہیں اورانکی ناکامیوں کواجاگرکرتی رہی ہیں،ایسے میں بی جے پی کےلئے ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ ساتھ داخلی اختلافات سےبھی نمٹے،آپ کویاد ہوگاکہ بنگال میں پوری طاقت جھونکنے اورپوری شدت کے ساتھ مہم چلانے کے باوجوداس پارٹی کو ناکامی ہاتھ لگی تھی اورشکست سے دوچارہوناپڑاتھا،صرف بنگال ہی نہیں بلکہ دہلی، بہاراورجھارکھنڈ میں بھی بی جے پی کی کراری ہار ہوئی تھی اورآرایس ایس کی حکمت عملی ناکام ہوگئی تھی،ان شکستوں کے بعد اب آرایس ایس نے اپنی حکمت عملی تبدیل کردی ہے، لاک ڈاؤن اورکرفیو کے باوجود بی جے پی کے قومی قائدین مسلسل اترپردیش کادورہ اوروہاں میٹنگیں کررہےہیں جس میں آرایس ایس کے نمائندے بھی خاص طورپر شریک ہیں۔

چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کی کارکردگی کاجائزہ بھی لیاجارہاہے اور پلاننگ میں تبدیلی کی جارہی ہے،جب سے  یوپی میں الیکشن کی ہل چل شروع ہوئی ہے،ایسالگتاہے کہ وہاں ہاہاکار مچاہواہے،کسانوں کی ناراضگی،لاک ڈاؤن کی ناکامی،اورباہمی انتشار کو دیکھتے ہوئے حکمراں پارٹی امکانی شکست سے بچنے کےلئے پھر ایک بار رام بھروسے ہوگئی ہے،جذباتی ایشو پھرسے اٹھانے کی تیاری ہوچکی ہے،6جون کو  مقامی اخبارنے ایک خبرشائع کی تھی،جس  کی سرخی کچھ اس طرح تھی کہ “مشن یوپی کےلئے رام مندر کامسئلہ اہم،ہندوؤں کے جذباتی پہلوؤں کو کیاجائے گاکیش”اس خبر میں یہ بھی تھاکہ”مغربی بنگال کے انتخابات میں ممتابنرجی کی بنگالی شناخت کے معاملے پر گھٹنے کے بل شکست تسلیم کرچکی بی جے پی اب ان امور کاسہارا لےگی جو یوپی انتخابات میں عام ہندؤوں کے جذبات سے تعلق رکھتے ہونگے۔

پارٹی کے قابل اعتماد ذرائع کے مطابق بی جے پی رام مندرکو مرکز میں رکھ کر پوری مہم کا خاکہ تیار کرے گی،بی جے پی ہائی کمان بھی اس بات سے متفق ہے کہ جسطرح ممتا بنرجی نے بنگالی شناخت کامعاملہ اٹھاکر بی جے پی کو شکست فاش دی تھی اسی طرح بی جے پی رام مندر کا مسئلہ اٹھاکر ہندوؤں کو آسانی سے اپنے مشن سے جوڑسکتی ہے،بی جے پی کے ایک سابق ریاستی صدرنے(دینک بھاسکر)ایک مقامی اخبار سے اپنے گفتگو میں کہاکہ بی جے پی قوم پرستی اورمذہبی جذبات سے تعلق رکھنے والے امور کو ملحوظ نظر رکھ کر ہی یوپی انتخابات کی تیاری کرےگی،پارٹی کے مطابق رام مندر کے مسئلے کو مہم کا اہم حصہ بناناچاہئے،کیونکہ رام مندر بی جے پی کا سب سے بڑا کارنامہ ہے،خاص طور پر ہندوؤں کے ایک بڑے طبقے کو رام مندر سے جذباتی لگاؤ بھی ہے،انھوں نے کہاکہ آپ دیکھیں کہ کس طرح بنگال انتخابات میں بنگالی شناخت کے مسئلے نے غلبہ حاصل کیا،اس نے ممتا کو الیکشن جیتنے میں بہت مددکی،اسطرح کے امور ہمیشہ مؤثر ہوتے ہیں جولوگوں سے جذبات سے وابستہ ہواکرتے ہیں،اسی کے پیش نظر آنے والے دنوں میں کارکنان کو جوڑنے کےلئے “ایودھیا توصرف جھانکی ہے، کاشی متھرا باقی ہے”کے نام سے ایک مہم چلائی جائےگی۔

بی جے پی ذرائع نے بتایاکہ انتخابی مہم کو دومرحلوں میں رکھاگیاہے،اس وقت وبائی مرض کے پیش نظر عوامی تقریبات پرتوجہ دی جائے گی،لیکن انتخابات قریب آتے ہی عوام کے ذہن کو ان امور کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی جائے گی،جو امور بی جے پی کے کٹر ہندتوا شبیہ سے وابستہ ہیں،پارٹی رہنماؤں کے مطابق پارٹی تنظیم کے عہدیدار بی ایل سنتوش اوررادھا موہن سنگھ نے بھی ملاقات کے دوران تشویش کا اظہار کیاتھا کہ کارکنوں کی نچلی سطح پر رابطے میں کمی آرہی ہے،پارٹی کے دونوں رہنماؤں نے اس پرزیادہ توجہ دینے کی ہدایت دی تھی،دونوں نے تسلیم کیاتھاکہ زمینی رابطے میں کمزوری کے سبب اپوزیشن جماعتوں کو غلبہ حاصل کرنے کا موقع مل رہاہے،اسکی وجہ سے لوگوں میں یوگی حکومت کے خلاف ناراضگی بڑھ رہی ہے،وباء کی دوسری لہر میں بھی یوگی حکومت کو اپنے وزراء،ممبران پارلیمنٹ اورممبران اسمبلی کی ناراضگی دیکھنی پڑی ہے،جسکی وجہ سے پارٹی کسی بھی قسم کا کوئی رسک نہیں لیناچاہتی ہے،کئی وزراء اورایم ایل اے نے براہ راست سی ایم یوگی کو خط لکھکر اپنی ناراضگی کا اظہار کیاہے،اسکی وجہ سے پارٹی حکومت کے کئے کاموں کے ساتھ ہندوؤں سے تعلق رکھنے والے جذباتی امورکو کیش کرنے کی کوشش کرےگی”

یہ مقامی اخبارکی پوری خبرہے، اس نیوز سے آپ نے اندازہ کرلیاہوگاکہ یوپی میں حالات کتنی تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں،یوپی میں مسلم نوجوانوں کے خلاف ماب لنچنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے،مساجدکی شہادت،اشتعال انگیز بیان بازی،تشدد اورظلم وزیادتی وغیرہ میں بھی اضافہ ہوگیاہے،ایسے میں منصوبہ بند طریقے سے ہندو مسلم فسادات بھی کرائے جائیں گے،تاکہ ہرصورت میں اترپردیش کوفتح کیاجاسکے،مغربی بنگال کی شکست کے ساتھ ہی کوڈکی دوسری لہر کوروکنے میں ناکامی کی وجہ سے نریندرمودی تنقیدوں کی زدمیں ہیں،وہیں یوگی پربھی کووڈ سے لاپرواہی اورگائیوں کے تحفظ کواہمیت دینے کےلئے تنقیدیں کی جارہی ہیں،علاوہ ازیں حالیہ پنچایت انتخابات میں بی جے پی کے ناقص اورسماج وادی پارٹی کے بہتر مظاہرے نے بی جے پی کو بے چین اورپریشان کردیاہے،دوسری طرف اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے ابھی تک کوئی ہل چل سامنے نہیں آئی ہے،سات برسوں میں عوام نے اتناتو جان ہی لیاہے کہ ترقی کاوعدہ صرف جملہ اوردلاسہ ہے۔

اصل مقصدکچھ اورہے جسکےلئے بی جےپی اوراسکی ہم خیال پارٹیاں ایڑی چوٹی کازورلگارہی ہیں،آرایس ایس نے یوپی الیکشن کےلئے اپناپلان تبدیل کردیا ہے،ایک اخباری رپورٹ کے رپورٹ کے مطابق”اترپردیش میں بی جے پی کی مستقبل کی سیاست کاخاکہ دہلی میں قریب قریب طے کرلیاگیاہے،آرایس ایس کی دہلی کی میٹنگ میں 2022میں اترپردیش میں اسمبلی انتخاب وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں لڑنے کافیصلہ کیاگیا ہے،اس سے بھی اہم فیصلہ یہ ماناجاسکتاہے کہ اترپردیش اوردوسری پانچ ریاستوں میں ہونے والے الیکشن میں اب نریندر مودی چہرہ نہیں ہونگے،سنگھ پریوار کاماننا ہے کہ علاقائی لیڈران کے مقابلے وزیر اعظم نریندر مودی کے چہرے کوسامنے رکھنے سے انکی شبیہ کونقصان ہواہے،مخالفین بلاوجہ انہیں نشانہ بناتے ہیں،سنگھ پریوار کسی بھی لیڈر کو الگ کرنے یا ناراضگی کے ساتھ چھوڑنے کےلئے تیار نہیں ہے،اب اس پر یوگی کو کھرا اترنا ہے۔

مہاراشٹر میں شردپوار کنبہ کو ساتھ لانے پربھی غور ہورہاہے،بنگال میں ممتا بنام مودی سے نقصان ہوا،آرایس ایس کی دہلی میں ہوئی میٹنگ میں سرسنگھ سنچالک موہن بھاگوت اورجنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسبولے کی موجودگی میں یہ فیصلہ کیاگیاہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میٹنگ میں مغربی بنگال کے انتخاب پر بھی تبادلہ خیال کیاگیا،سنگھ لیڈران کا ماننا ہے کہ مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں ممتا بنام مودی کی پالیسی سے نقصان ہوا،اس میں انتخاب ہارنے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ سیاسی مخالفین کو مودی پر بار بار حملہ کرنے کا موقع ملا،اس سے اسکی امیج کو نقصان ہوتاہے،اس سے قبل بھی بہار میں 2015 کے اسمبلی انتخاب میں نتیش کمار کے خلاف اورپھر دہلی الیکشن میں کیجریوال کے خلاف بھی پالیسی سے کوئی فائدہ نہیں ہوا،اسکے ساتھ ہی مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اورکانگریس نے مودی کی امیج مسلمان مخالف بنانے کی پالیسی اپنائی،اس سے مسلم ووٹر متحدہوگئے اور70فیصد سے زیادہ مسلمانوں نے ترنمول کانگریس کو ووٹ دیکر انتخابی نتائج کو یک طرفہ کردیا،مغربی بنگال کے ساتھ اترپردیش میں بھی مسلمانوں کی کافی آبادی ہے اورقریب 75سیٹوں پر وہاں کے مسلمان انتخابی نتائج پر اثرڈال سکتے ہیں،اترپردیش میں بھی مودی کو چہرہ بنانے پر سماج وادی پارٹی اورکانگریس پھرسے مسلمانوں کو متحد کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق میٹنگ میں کہاگیا کہ خاص طور سے مشرقی اترپردیش میں یوگی کی امیج مسلم مخالف نہیں ہے،گورکھپور سے جڑے علاقوں میں مسلمانوں اورپچھڑوں میں گورکھ ناتھ مندر پربھروسہ ہے،وزیراعلیٰ بننے سے قبل تک یوگی آدتیہ ناتھ مندر کے مہنت کے طور پرمقامی مسلمانوں کے تنازعات حل کرتے اورانکی مدد بھی کرتے رہے ہیں،مکرسنکرانتی پر مندر میں لگنے والے کھچڑی میلہ میں زیادہ تردکانیں مسلمانوں کی ہوتی ہیں،ذرائع کے مطابق ایک اوراہم بات پر سنجیدگی سے غورکیاگیاہے کہ اس مرتبہ اترپردیش اسمبلی انتخاب میں بی جے پی مسلم امیدواروں کو بھی میدان میں اتارے گی،اس سے اسکی مسلم مخالف شبیہ بنانے کاموقع مخالفین کو نہیں ملےگا،اس پرآخری فیصلہ پارٹی کوکرناہے۔

غورطلب ہے کہ گذشتہ الیکشن میں بی جے پی نے ایک بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیاتھا،دوسری طرف آرایس ایس کے ایک سینئر لیڈر نے دعویٰ کیاہےکہ یوگی اورمودی کے درمیان کوئی تنازع نہیں ہے اوریوپی بی جے پی کے ٹویٹر اکاؤنٹ یا پوسٹرسے مودی کی تصویر ہٹانے کی وجہ اسمبلی الیکشن،یوگی کے چہرے کےساتھ لڑنے کافیصلہ ہی ہے،دونوں لیڈروں کوساتھ کام کرنے اور اس شبیہ کو مضبوط کرنے کےلئے کہاگیاہے،اسلئے اب یوپی کے پوسٹر پر یوگی آدتیہ ناتھ کے علاوہ یوپی بی جے پی کے صدرسوتنتر دیوسنگھ،دونوں نائب وزرائے اعلی کیشوپرسادموریہ اوردنیش شرما دکھائی دیں گے،شایداسلئے پیرکی شام مودی کے قوم کے نام خطاب کو دیکھتے ہوئے یوگی کی تصویر جاری کی گئی ہے” یہ ہے اخبار کی ایک دوسری رپورٹ،اس رپورٹ سے اتنا توصاف ہے کہ ابھی آرایس ایس کو مودی اوریوگی دونوں ماڈل کی ضرورت ہے۔

جب آرایس ایس کولگے گا کہ اب یہ دونوں ہمارے کام کے نہیں ہیں تو جیسے اڈوانی اورجوشی وغیرہ کونکال باہر کردیاگیا ٹھیک اسی طرح ان لوگوں کوبھی باہرکردیاجائےگا، اڈوانی اورجوشی وغیرہ کوبھی آرایس ایس نے پوری قوت کے ساتھ استعمال کیاتھا، جیسے ابھی مودی، یوگی اورامت شاہ وغیرہ کواستعمال کیاجارہاہے، توگڑیہ اوراڈوانی جیساحشران لوگوں کاکب ہوگااسکےلئے ہمیں انتظار کرناپڑے گا،یوپی الیکشن میں آرایس ایس کابدلتاپلان کیاگل کھلائےگا،اورکتنی کامیابی اسے حاصل ہوگی یہ بھی دیکھنے والی بات ہوگی،اپوزیشن پارٹیاں کس طرح وہاں مقابلہ کرتی ہیں،ممتا اورکیجری وال کی طرح یوپی میں اپوزیشن پارٹیاں الیکشن لڑنے کاحوصلہ کرپائیں گی یانہیں یہ بھی وقت بتائےگاکہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

بنگال کےنتائج نے یہ توثابت کردیاہے کہ ابھی ملک میں مسلمانوں کاووٹ بیکار نہیں ہے،اوراب آرایس ایس جیسی مسلم مخالف،شدت پسند تنظیم کومسلمانوں کی طاقت،انکے اتحاد اورانکے یکطرفہ فیصلے کااحساس ہے اوروہ مسلمانوں کونظرانداز نہیں کرسکتے،کیایوپی کے مسلمان،بنگال کےمسلمانوں سے سبق لیکر اپنی حکمت عملی مرتب کرسکیں گے؟ اورفرقہ پرستوں کوناکام کرنے میں اہم کردار اداکریں گے اس پراترپردیش کے مسلمانوں کوسوچنااورغورکرناہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!