کینیڈا میں 4 مسلمانوں پر ٹرک چلانا “اسلاموفوبیا کا بدترین واقعہ”

محمد خالد داروگر، دولت نگر، سانتا کروز، ممبئی

کینیڈا ایک پرامن ملک ہے اور یہاں پر تمام مذاہب کے لوگ باہم مل جل کر سالوں سے ایک ساتھ رہتے ہیں اور یہاں کے لوگوں میں مذہب کے نام پر کسی قسم کا کوئی تنازعہ نہیں پایا جاتا ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو تمام مذاہب کو یکساں اہمیت دیتے ہیں اور اکثر و بیشتر ان کی مذہبی تقریبات میں شرکت کرتے رہتے ہیں اور ان کے تہواروں کے موقع پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن اتوار کی شب میں کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے شہر لندن میں”اسلاموفوبیا”کا ایک ایسا واقعہ پپیش آیا جس نے کینیڈا کی حکومت کو نیچے سے اوپر تک ہلا کر رکھ دیا ہے۔

یہاں کے ایک مقامی نوجوان شخص نتھانیل ویلٹمن جو اپنے آپ کو یہودی کہتا ہے نے جان بوجھ کر رکاوٹ عبور کی اور چوراہے پر سگنل کے انتظار میں کھڑے پاکستانی نژاد خاندان کو اپنے ٹرک سے بڑی بےدردی کے روند ڈالا، پانچ افراد پر مشتمل خاندان میں سے تین عورتیں اور ایک مرد سمیت چار افراد نے موقع واردات پر ہی دم توڑ دیا جبکہ ایک نو سال کا بچہ زخمی ہوا ہے۔

کینڈا پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم نتھانیل ویلٹمن کو گرفتار کرلیا ہے۔ جس نے تفتیش کے دوران پولیس کے سامنے اس بات کا اقرار کیا کہ اس نے چار شہریوں کو ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے قتل کیا ہے۔ کینڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے متاثرہ خاندان کا غم بانٹتے ہوئے کہا کہ ہم آپ ساتھ کھڑے ہیں۔ اس واقعہ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پوری دنیا میں منصوبہ بند طریقے سے کس طرح نوجوان نسلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر ان کے ذہنوں میں بھرا جارہا ہے اور جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ ایک نوجوان کے اندر چار بے گناہ مسلمانوں کو مارنے کے بعد بلکل احساس ندامت نہیں ہے بلکہ وہ فخریہ انداز میں مارنے کا کریڈٹ اپنے سر خوشی خوشی لے رہا ہے۔

اس کا علاج یہ ہے کہ جتنی شدت کے ساتھ اسلام اور مسلم مخالف ماحول پوری دنیا میں پیدا کیا جارہا ہے اس سے کہیں زیادہ احساسِ ذمہ داری کے ساتھ دعوت وتبلیغ کے کام کو حکومتی سطح سے لیکر انفرادی سطح تک انجام دیا جانا چاہیے بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسلم ممالک اور وہاں کے حکمران خواب غفلت سے بیدار ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہے ہیں اور وہ اپنے عیش و آرام میں سر سے لیکر پاؤں تک غرق ہیں۔ یاد رکھیں دعوت و تبلیغ ہی ایک واحد راستہ ہے جس کے ذریعے سے”اسلاموفوبیا”کی پھیلی ہوئی وبا کو آہستہ آہستہ جڑ سے ختم کیا جاسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!