مسئلہ فلسطین: بس ایک ہی حل!

 از قلم: شیبان فائز جلگاؤں

چند دن قبل بیت المقدس فلسطین پر حملہ ہوا اور تقریباً پوری دنیا میں اس حملے کی مذمت کی گئی ۔ کہیں مظاہروں کا سیلِ رواں تھا تو کہیں دستخطی مہمات ، جس کی جو بساط تھی اس نے وہ کیا اپنے قبلہ اول کے لیے ۔ مگر حیرت تب ہوئی جب اس قدر ہنگامہ کے باوجود بھارت کو کئی ٹن آکسیجن دینے والا مسلم ملک سعودی عرب خاموش رہا ۔ ایسا ملک جو ہزاروں کلومیٹر دور بھارتیوں کے غم میں تو شریک ہے مگر افسوس اپنے پڑوسی ملک کی جانب نگاہِ غفلت سے کام لے رہا ہے۔

عالمی عدالتوں میں حقوقِ انسانی کے جھوٹے پاسدار اپنی نشینوں پر جلوہ فرما ہیں اور بڑی دلچسپی سے قتل و غارتگری کا تماشہ دیکھ رہے ہیں ۔ ہر کسی کے علم میں غزہ کے معصوم بچوں کی چینخ و پکار ہے، روتی بلبلاتییں ماؤں کی آہ و زاریاں ہیں، نوجوانوں کی لاشوں کے انبار ہے مگر افسوس عالمی حقوقِ انسانی خاموش و تماشائی بنی کھڑی ہے۔ ایسے میں امتِ مسلمہ کے نامور ٹھیکیدار ان ضمیر فروشوں کے بھروسے غزہ کی آزادی کے دن دیکھ رہے ہیں۔ حیرت اس بات پر کہ پوری دنیا میں جس کی امیری و بادشاہی کے چرچے ہیں وہ کوئی اور نہیں بلکہ ایک مسلم ملک ہے۔

پوری دنیا میں جس کی کرنسی سب سے زیادہ مہنگی ہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ ایک مسلم ملک ہے مگر اس کے باوجود فلسطینی نوجوان پتھروں اور غلیل سے اپنے بیت المقدس کی حفاظت کررہے ہیں اور اپنی جانوں کے نذرانے اللّٰہ کے حضور پیش کررہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں اس کی واحد وجہ خلافت سے غفلت اور ملوکیت سے محبت ہے۔ جب نظامِ خلافت کی جگہ ملوکیت نے لی تبھی ہزاروں پریشانیوں و نامراد یوں نے سر ابھارا کیونکہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کسی قانون میں ظلم و زیادتی روکنے کی گنجائش نہیں ہے سوائے اللّٰہ کے قانون کے.

جب زمینوں پر خدائی قانون کی بجائے انسانی قانون چلنے لگا تبھی نفرت کی بوٗ، باطل طاقتوں کی پھنکار، عیش پسند حکمراں، رعایا کی بدحالی، امت سے بیزاری وجود میں آئی۔

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی رح نے ستمبر 1969ء کو ترجمان القرآن میں مسئلہ فلسطین کا بہت ہی جامع حل پیش کیا. مولانا لکھتے ہیں کہ

“یہود آج تک اپنے منصوبوں میں اس بنا پر کامیاب ہوتے رہے ہیں کہ دنیا کی بڑی طاقتیں ان کی حامی و مددگار بنی رہی ہیں اور ان کی اس روش میں آئندہ بھی کسی تغیر کے امکانات نظر نہیں آتے۔ خصوصاً امریکہ کی پشت پناہی جب تک اسرائیل کو حاصل ہے وہ کسی بڑے سے بڑے جرم کے ارتکاب سے باز نہیں رہ سکتا ۔ اقوامِ متحدہ ریزیولیشن پاس کرنے سے بڑھ کر کچھ نہیں کرسکتی ۔ اس میں یہ دم خم نہیں ہے کہ اسرائیل کو کسی مجرمانہ اقدام سے روک سکے ۔ دنیا میں اگر 1 کروڑ 60 لاکھ یہودی ایک طاقت ہے تو 70/75 کروڑ مسلمان بھی ایک طاقت ہے اور ان کی 30 /32 حکومتیں اس وقت انڈونیشیا سے مراکو اور مغربی افریقہ تک موجود ہے۔ ان سب کے سربراہ اگر سر جوڑ کر بیٹھیں اور روئے زمین کے ہر گوشے میں بسنے والے مسلمان ان کی پشت پناہی پر جان و مال کی بازی لگا دینے کے لیے تیار ہوجائیں تو اس مسئلہ کو حل کرلینا انشاء اللہ کچھ زیادہ مشکل نہ ہوگا”۔ 

ترجمان القرآن ستمبر 1969ء

عزیزوں اللّٰہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے امتِ محمدیہ کی محبت و اخوت کو کبھی محدود نہیں کیا۔ روئے زمین پر بسنے والے ہر مسلمان کو ہم ‘یا اخی’ کہہ کر بلا سکتے ہیں ۔ دینِ اسلام نے اتحاد کا وہ نظریہ دنیا کے سامنے پیش کیا کہ جس کے اثرات آج موجودہ حالات میں یہودیوں پر تو صاف نظر آتے ہیں مگر مسلمانوں پر سے روپوش ہوچکے ہیں۔

ضرورت ایک امت بن کر ابھرنے کی ہے ۔ ضرورت آپسی مسائل کو بالائے طاق رکھنے کی ہے، ضرورت ہر مسلمان کے غم میں شریک ہونے کی ہے اور آج سب سے زیادہ ضرورت قبلہ اول کو آزاد کرانے کی ہے اور یہ تبھی ہوسکتا ہے جب اس دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی مسلمان ایک ہوجائے اور نعرہ تکبیر کی صداؤں سے ارضِ فلسطین کو گونجا دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!