بابری مسجد کے غدّار کو مبارکباد کیسی!

✍: سمیع اللّٰہ خان

زفر فاروقی کو چوتھی مرتبہ وقف بورڈ کا چیئرمین مقرر کیے جانے پر علماء و دانشوران ایک ایک کرکے آگے کی جانب کھسک رہے ہیں، مسلم فنڈ دیوبند کے مینجر سہیل صدیقی پر شکرانہ ادا کرتے ہوئے انہیں مخلص و ایماندار کہہ دیا ہے وہیں رابطہ کمیٹی کے ڈاکٹر عبید اقبال کا بھی نام خوشی منانے والوں میں سامنا آیا ہے
حیرت انگیز طورپر جس شخصیت نے زفر فاروقی کو مبارکبادی کا پیغام بھیجا ہے وہ ہیں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر اور ندوۃ العلماء کے ناظم مولانا رابع حسنی ندوی صاحب، مولانا موصوف نے زفر فاروقی کو ناصرف مبارکباد دی ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ جب تک زفر فاروقی کے انتخاب کا رزلٹ نہیں آیا تھا مجھے تشویش تھی منتخب ہوجانے کےبعد مجھے اطمینان ہوگیا ” دیگر تہنیت پیش کرنے والوں کےساتھ ساتھ صدر ِ بورڈ کا یہ بیان انتہائی افسوسناک اور دلوں کو توڑنے والا ہے

کیا انہیں یہ نہیں معلوم کہ جس بابری مسجد کا مقدمہ وہ صدر بورڈ کی حیثیت سے لڑرہے تھے اس بابری مسجد کا سودا کرنے میں اس کے کاز کو نقصان پہنچانے میں زفر فاروقی نے کتنا گھٹیا رول ادا کیا، سنی سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے اسی آدمی نے بابری مسجد کے مقدمے کو خفیہ ساز باز کے ذریعے کمزور کیا تھا اور عین وقت پر ایک فریق کی حیثیت سے آر۔ایس۔ایس وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل والوں کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے بابری مسجد کی جگہ رام۔مندر پر مطمئن اور مسجد کو منتقل کرنے پر راضی ہوگیا تھا اور یوں بابری مسجد مقدمے نے قانونی طورپر مندر کے ليے دروازہ کھولا مسجد کا کیس کمزور کیا، کیونکہ اراضئ مساجد کے ٹرسٹ وقف بورڈ نے دھوکہ دیا اور اس بورڈ کا چیئرمین یہی زفر فاروقی تھا۔

جب مسلمان عدالت میں ہارا اور زفر فاروقی کے وقف بورڈ نے بابری کی جگہ رام۔مندر کے بدلےمیں دوسری جگہ قبول کرلیا تو مسلمانوں کو دھچکہ لگا، سب نے بورڈ والوں سے سوال کیا کہ یہ کیسے غداری ہوئی یہ بندہ تو تمہارے ساتھ ساتھ تھا؟ جواب میں بورڈ کے ذمہ داروں نے چیئرمین زفر فاروقی سے اپنا پلہ جھاڑ لیا کہ ہمارا اس سے کوئی مطلب کوئی تعلق نہیں، ہم لوگوں نے حسنِ ظن اختیار کرتے ہوئے اربابِ بورڈ بورڈ کی بات تسلیم کرلی، لیکن اب صدر بورڈ ايسے خائن قسم کے آدمی کو تہنیت و تبریک بھیج رہےہیں وہ بھی ایسےمیں جبکہ یہ آدمی یوگی آدتیہ ناتھ کی وزارت میں عہدہ پارہا ہے اور یہ زاویہ مزید پختگی سے ثابت کرتاہے کہ یہ شخص غدار ہے، اس کےباوجود ایسے آدمی کے انتخاب کو اطمینان بخش قرار دینا، اس کے لیے یہ کہنا کہ میں بےچین تھا، یہ سب چیزیں باہر آنے کےبعد دل و دماغ میں عجیب سی ہلچل مچی ہوئی ہےیہ سب ہمارے ساتھ کیا ہورہاہے؟

عام مسلمانوں اور ملت اسلامیہ نے ایسا کیا گناہ کردیا کہ ان کے حصے میں ایسی صورتحال آئی ہیکہ دماغ کام کرنا بند کردے، ہم لوگوں نے بابری مسجد کو شفٹ کرنے کی بات کرنے پر سختی سے مولانا سلمان حسینی کی رائے کی مخالفت کی تھی اور ایسی ہر تجویز کی مخالفت کرتے رہے، مولانا خالد سیف الله رحمانی جیسی شخصیت جوکہ بورڈ کے سیکریٹری ہیں انہوں نے تفصیل سے وضاحت کرکے سمجھایا تھا کہ مسجد کے منتقل کرنے والی رائے کو فقہ اسلامی کے تناظر میں کیوں صحیح نہیں سمجھا سکتا اور ہم سوفیصد بورڈ کے موقف کے ہی ساتھ تھے اس معاملے میں، لیکن یہ کیسا موڑ ہے؟ کہ اسی بورڈ کے صدر صاحب زفر فاروقی کو اعتماد اور اطمینان کا آدمی بتا رہے اس کی تائید کررہے ہیں جس آدمی نے عملی طورپر بابری مسجد کاز کو نقصان پہنچایا اور مسجد کو شفٹ کرنے پر عمل پیرا ہے، اس کی تائید کا کیا مطلب ہے؟

کچھ لوگوں نے بتایا کہ، بورڈ کے صدر صاحب کا یہ بیان ذاتی نوعیت کا ہوسکتا ہے، میں ان سے پوچھنا چاہتاہوں کہ، بھائی وہ بورڈ کے صدر ہیں یا محلے کے کسی انجمن کے؟ اور ایسے معاملے میں بھلا صدر کی پوزیشن رکھنے والے کا کوئی بیان الگ سے ذاتی بھی ہوسکتاہے؟ جس معاملے کو اسی آدمی کےساتھ ملکر وہ دسیوں سالوں سے لڑرہے تھے؟

اب ایسے معاملات سامنے آئیں تو ہم کیا سمجھیں کہ ہم بابری کا مقدمہ کیوں ہار گئے؟ اور یہ بیان اب جاری ہوکر زفر فاروقی کے سنگھی اہداف کو فائدہ پہنچا چکا اب اس تائید کی چاہے جتنی تردید کیجیے زفر فاروقی کی جو مدد ہونی تھی ہوچکی، اور کسی ادنی سی تاویل کےبغیر یہ صریح غلطی ہے اسے نظرانداز کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں۔

آپ کی بزرگی اور خدمات سر آنکھوں پر، آپ کا احترام دلوں میں لیکن سچائی کےساتھ کم۔از۔کم میں کبھی خیانت نہیں کرسکتا، آپ بڑے اللہ والے لوگ ہیں میں معمولی گنہگار لیکن جتنا دین اور اسلام کو سمجھا ہوں جتنا میرے خالق کو جانتاہوں اس کی روشنی میں یہ عرض کرتاہوں کہ، یہ شریعت کےخلاف ہے، یہ پالیساں دینداری کے کسی بھی پائیدان میں نہیں آتی کہ ملت کے غدار، خائن اور دھوکے باز کی تائید کی جاوے، مجھے بالکل سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ لوگ اپنے حجروں میں بیٹھ کر ایسا کیسے کرلیتے ہیں جبکہ یہاں باہر لوگ آپ کے لیے دعائیں کرتے ہیں؟

بہت سارے لوگ اس خبر کو دبانے چھپانے کی بات کرتےہیں لیکن میں ایسا نہیں کرسکتا، مجھے اندھ بھکتوں کی گالیوں سے فرق نہیں پڑتا، مجھے ان لوگوں سے بھی فرق نہیں پڑتا جوکہ دو دو ۔چار کی طرح صریح حقائق سامنے آنے کے باوجود بند دماغوں کی طرح اس کی تاویل کرتے پھرتے ہیں، ایسے ہی عقیدت پرست لوگوں نے اسلامیان ہند کو ایسے موڑ پر پہنچا دیاہے، آپ ایسوں کی خوشامد سے متوقع ترقی کےمقابلے میں سچائی اور اصولوں کےساتھ رہ کر مجھے میری معمولی سی جگہ زیادہ عزیز تر ہے، مجھے یہ کافی ہے کہ میں الله کے یہاں زندہ ضمیروں میں شمار ہوں، میں تاریخ مرتب کرنے والے کے لیے ہمارے خونچکاں حالات کی حقیقت پر مبنی دستاویزات چھوڑ جاؤں،

حالات سنگین ہوتے جارہےہیں، ظالم اور باطل بظاہر طاقتور ہوتا جارہاہے، اہل ایمان کی سخت آزمائش ہے:

تمام صوفی و سالک سبھی شیوخ و امام
امید لطف پہ ایوان کج کلاہ میں ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!