ضلع بیدر سے

نمازِعید کی ادائیگی کیلئے حکومت کی جاری ہدایات نا قابلِ عمل اور مضحکہ خیز: سید منصور قادری

بیدر: 27/جولائی (اے ایس ایم) جناب الحاج سید منصور احمد قادری انجنئیر صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین ضلع بیدر نے ایک پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے عید الالضحیٰ کے پیش نظر نماز عید کی ادائیگی کیلئے حکومت کرناٹک کی جانب سے جو ہدایات جاری کی گئی ہیں اُس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نا قابل عمل اور مضحکہ خیز ہیں۔ جہاں بڑی مساجد میں روزانہ پنچوقتہ نماز میں ایک سو تا دو سو(100-200) مصلیان نماز اداکرتے ہیں اور جمعہ کے موقع پر ایک ہزار تا دیڑھ ہزار لوگ نماز پڑھتے ہیں وہاں عیدکی نماز کیلئے صرف50آدمی کے نماز پڑھنے کی شرط عائد کرنا بعید از عقل بات ہے۔

لاک ڈاؤن کے ختم ہونے کے بعد جب مذہبی مقامات کھول دئے گئے اور مساجد میں بھی نماز کی ادائیگی کی اجازت ملی سب مسلمان حکومت کی ہدایات پابندی کرتے ہوئے اور ملک میں تیزی سے پھیل رہی وبا کا خیال کرتے ہوئے نہ صرف سماجی فاصلہ کا خیال رکھ کر صفوں میں ایک دوسرے سے 4تا 6فٹ فاصلہ رکھ کر نماز ادا کررہے بلکہ اکثریت وضو گھر سے کر کے آرہی ہے اور یاتو اپنے ساتھ لایا ہوا مصلیٰ (جانماز) استعمال کررہے ہیں یا پھر ننگے فرش پر ہی نماز ادا کررہے ہیں ماسک کا استعمال بھی سختی سے کررہے ہیں الغرض مساجد جیسا ڈسیپلین شائد ہی ملک کے کسی اور عوامی مقام پر ملحوظ رکھا جارہاہوگا۔ اُس کے باوجود پھر عید کی نماز کیلئے علیحدہ ہدایت جاری کرنا اور اُس میں بھی بیک وقت پچاس مصلیوں کی شرط عائد کرنا کم عقلی کی دلیل ہے۔

حکومت کو چاہیئے کہ وہ وقت کے ہوتے ہوئے ان ہدایات کو واپس لیں اور مسجد میں گنجائش کے اعتبار سے سماجی فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے نماز ادا کرنے کا حکم جاری کرے۔ اور عیدگاہوں میں بھی اسی نظم کے ساتھ نماز کی اجازت دی جائے تاکہ مساجد میں اکٹھا ہونے والی بھیڑ کو کم کیا جاسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!