ناگپور: نئی قومی پالیسی پر پروگرام کا انعقاد
ناگپور: 19/مارچ (پریس ریلیز) ڈاکٹر محمد عبدالرشید میڈیا سیکرٹری جماعت اسلامی ہند, ناگپور کے مطابق نئی قومی پالیسی پر پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا۔ نیشنل ایجوکیشن پالیسی (این ای پی) کی تشکیل میں بنیادی اصولوں پر توجہ دی جانی چاہئے ، اس میں داخلے کے عمل میں توازن ، معیاری ، سستی تعلیم اور احتساب کا احساس ہونا چاہئے-آر ٹی ای 2009 کے تحت ، مفت اور لازمی تعلیم ، جو پہلے صرف پہلی جماعت سے آٹھویں جماعت یعنی 6 سے 14 سال کے بچوں کے لئے تھی اب اسے اس طرح سے یقینی بنایا گیا ہے کہ پہلی سے بارہویں جماعت تک کی تعلیم طالب علموں کو مفت اور لازمی کردی گئی ہے۔
نمائندگی گروپ کے تحت ، مسلمانوں ، ایس سی اور ایس ٹی ان تینوں طبقوں کو پسماندہ سمجھا جائے گا۔ اس قومی تعلیمی پالیسی کے تحت یہ تینوں طبقے جہاں زیادہ آباد ہوں گے, اس علاقے کو ایک خصوصی تعلیمی زون بنایا جائے گا اور خصوصی اسکیم کے تحت انہیں تعلیم کی سہولیات میسر ہوں گی۔ ان خیالات کا اظہار ریاض الخالق نے جماعت اسلامی ہند ناگپور مغرب کے زیراہتمام پروگرام بعنوان "نئی قومی پالیسی اور ہمارے کرنے کے کام ” کے تحت کیا۔ یہ پروگرام ناگپور جعفر نگر کے ٹیچرز کالونی میں واقع مرکز ہال میں ہوا۔
واضح رہے کہ ریاض الخالق "ایٹا” کے ضلعی صدر ہیں ، انہیں ریاست اور قوم کے 15 ایوارڈز جیسے "آدرش ٹیچر” ، "ودربھ بھوشن” ، "ٹاور آف لائٹس” ، اور "اچاریہ ایوارڈ” ، سے نوازا گیا ہے۔ ان کی اہم کارناموں میں کیریئر گائیڈنس کے تحت سبھی موضوعات پر منصوبے ( پروجیکٹ) موجود ہیں۔ ان کی کتاب ” منزلوں کے نشان "( پہلا حصہ) اردو دنیا میں بہت مشہور ہورہی ہے۔
اس موقع پر ناظم الدین غازی نے "اسلامی نظام تعلیم” کے عنوان پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اللہ نے آدم علیہ السلام کو علم عطا کرکے دوسری تمام مخلوقات پر فضیلت بخشی۔ یہ سلسلہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک جاری رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی علم ہی پر مبنی تھی ، اس وقت عرب میں تعلیم کا رواج نہیں تھا ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت سے قبل عالم عرب تعلیم یافتہ ہو چکا تھا ، آپ نے مرد اور عورت دونوں کے لئے تعلیم حاصل کرنا لازمی قرار دے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسن انسانیت کا حق ادا کر دیا ہے –
انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کی ترقی کے لئے آج قرآن و حدیث کے ساتھ جدید تعلیم حاصل کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے ۔
"رسمی اور عملی تعلیم” پر روشنی ڈالتے ہوئے لیکچرر محمد جاوید نے کہا کہ رسمی تعلیم صرف 17 سال کی عمر تک محدود رہتی ہے ۔ آگے کی ساری زندگی عملی تعلیم پر مبنی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہمارے لیے اسوہ حسنہ ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور علم جدید نے انسانیت کو بام عروج پر پہنچایا۔ اس تعلیم میں جوابدہی کا خوف پایا جاتا ہے اور حقوق کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس وقت کے خلیفہ ، علمائے کرام ، علمائے کرام کی زندگیاں بطور رہنما ہمارے لئے انمول نمونہ ہیں۔ ہمیں شعوری طور پر کام کرنے اور عملی تعلیم کی سمت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے حافظ شاکر الاکرم فلاحی نے کیا ، درس حدیث ڈاکٹر نورالامین خواجہ نے پیش کی اور پروگرام کی نظامت جاوید دیشمکھ نے کیا –

