کیا علما اور مشائخین نکاح کو آسان بنانے میں واقعی ایماندار ہیں!

ڈاکٹر علیم خان فلکی، حیدرآباد٭

[نوٹ: اس مضمون کا مقصد علما یا مشائخین پر تنقید نہیں، صرف ایک سوال کا جواب دینا ہے کہ ہم اتنی کوشش کے باوجود جہیز اور کھانوں کو روکنے میں کامیاب کیوں نہیں۔ پلیز آخری سطر تک پڑھئے، جواب مل جائے گا]

حیدرآباد کے پرانے شہر کے ایک صوفی سلسلے کے سپوت کی شادی کی ویڈیو سوشیل میڈیا پر کافی مقبول ہورہی ہے۔ یوں تو ایسی کئی ویڈیوز یوٹیوب پر ہیں، لیکن وہ  سیاسی لوگوں، تجارت پیشہ،اور عام جہلاکی ہیں۔ اِس ویڈیو میں جگہ جگہ پیلی ٹوپیوں اور عماموں میں ملبوس وہ  بزرگ سرپرستی کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں جو نہ صرف شہر کے اہم دینی اور سیاسی جلسوں بلکہ اصلاحِ معاشرہ یا میلادالنبی ﷺ کے جلوسوں یا اوقاف وغیرہ کے مسائل پر ہونے والی میٹنگوں میں قیادت فرماتے ہیں۔ اِن ویڈیوز بنانے والی کمپنیوں نے اپنی مارکٹنگ کے لئے ایسی کئی شادیوں، منگنیوں، ولیموں حتیٰ کہ عقیقوں اور بسم اللہ کی ویڈیوز بھی ڈال رکھی ہیں، جنہیں دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ کیا پیلی یا ہری ٹوپیاں، کیا لال، گلابی اور کالے شملے، اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔ اور یہ صرف حیدرآباد کی بات نہیں، پورے ہندوستان میں ہر مسلک اور ہر سلسلہ کے قائدین کی ایک بڑی تعداد کا معاملہ ہے۔ کسی ایک شہر یا کسی ایک  فرقے یا گروہ کو تنہا مورودِ الزام ہرگز نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔

اگر نوجوان یہ نادانی بلکہ چھچھورا پن کرلیتے تو نظر انداز کیا جاسکتا ہے، لیکن وہ مرشدین جن سے عوام کی رشد وہدایت کی توقع کی جاتی ہے، جن کے پاس ہر روز بے شمار لوگ دعا کروانے، بیعت کرنے اور پانی پرشجرہ بُھنکوانے کے لئے حاضر ہوتے ہیں، اگر یہی لوگ اپنی شادیوں میں بجائے اہلِ بیت کے طریقوں کو قائم کرنے کے، راجپوتوں کے مشرکانہ رسم و رواج کو قائم کریں تو عام معصوم مریدوں پر کیا اثر پڑے گا، انہیں یہ سوچنا چاہئے۔ جو بھی اِن شادیوں میں ہورہا ہے وہ دین کا سر جھکا دینے کے لئے کافی ہے۔ ان ویڈیوز کا جائزہ لیجئے اور گستاخیٴ رسول اور گستاخیٴ اہلِ بیت کا اندازہ لگایئے۔ نکاح کے وقت کی فلمبندی کے پیچھے جو قوالی پیچھے چلتی ہے وہ ہے۔

نبی خوش ہیں، خدائی بھی خدا بھی
علی کے ساتھ ہے زہرا کی شادی

لڑکا ہے خدا کے گھر کا
لڑکی ہے نبی کے گھر کی

یعنی دلہا علیؓ کی مثال ہے اور دلہن فاطمۃ الزہرا ؓکی مثال ہے۔ دلہا کے ابّا جان اللہ کی جگہ ہیں، اور ان کے صمدھی یعنی دلہن کے والد نبی کی جگہ ہیں۔ اب علی و فاطمہؓ کی مثال کی شادی آگے بڑھتی ہے، اور اگلے سین میں عام خرافات شروع ہوتی ہیں، قوالی بدل جاتی ہے اور  اب زہرا ؓ  کی عاشق سے بے تکلفی شروع ہوجاتی ہے، اور دوسری قوالی یہ چلنی شروع ہوتی ہے۔

میرے رشکِ قمر تو نے پہلی نظر
جب نظر سے ملائی مزا ٓگیا

اب سوائے استغراللہ یا نعوذباللہ کے اور کیا کہا جاسکتا ہے۔ یہاں سے علی و زہرا اور ان کے ساتھ خدا اور نبی بھی اسٹائیل بدلتے ہیں۔ خدا اور نبی کی مثال کے صمدھی کہیں تلوار کا مظاہرہ فرمارہے ہیں، کہیں سلیمان شاہ کی طرح ارتغرل کو پیشانی پر پیار کرکے دشمنوں کا خاتمہ کرنے وداع کررہے ہیں۔ حضرت علیؓ  کو خود اپنی شادی کا علم نہیں تھا، وہ تو کسی کام سے بازار گئے تھے، انہیں ایک صحابی ؓ کے ذریعے بلوابھیجا گیا کہ تشریف لایئے، آپ کے نکاح کی محفل ہے۔ لیکن یہاں کے علی کئی کئی دن کی تیاریاں کرکے، شیروانی پہنتے ہوئے لمحات کی فوٹوز اور ویڈیوز بناتے ہوئے، کئی کئی کاروں کا جلوس نکال کر ٹرافک میں خلل پیدا کرتے ہوئے، موٹے موٹے پھولوں کے ہار اور بدّیّاں، سہرے، ہاتھوں میں خنجر، سروں پر شیواجی یا مہاویر پرتاب سنگھ کے تاج نما شملے، دلہا پر ابّاجان روپیوں کے نئے نئے کڑک نوٹ برساتے ہوئے، نظرآتے ہیں۔ ایسے دلہا دلہن کی شادی کو ”ڈیانا اور پرنس چارلس کی شادی“، یا ”ابھیشیک سے ایشوریا رائے کی شادی“ کی مثال تو دی جاسکتی ہے، لیکن علی و زہرا کی مثال نہیں۔ یہ حضرت علیؓ و فاطمہؓ کی توہین بلکہ گستاخی ہے۔

دلہا کے ہاتھ میں خنجر یا تلوار پکڑنے کا چلن اسلام کا ہرگز نہیں۔ یہ مکمل راجپوتوں کا ہے۔  حضرت علیؓ نے دلہن کو لانے تلوار کبھی نہیں اٹھائی بلکہ دشمنوں کا خاتمہ کرنے کے لئے اٹھائی۔ ”خدا کے گھر کے بیٹے علی“ سے تعبیر کئے جانے والے  یہ دلہے جب ہندوستان میں خدا کے گھر جلائے جاتے ہیں، بستیاں جلائی جاتی ہیں، گجرات میں زہرا کی امت کی بیٹیوں کی سڑک پر کھلے عام عصمت ریزی کی جاتی ہے، گولی مارو سالوں کو کہا جاتا ہے، اس وقت تو یہ تلوار نہیں اٹھاتے، اس وقت تو ان کی زبان خنجر نہیں بنتی، اس وقت تو یہ کئی کئی کاروں کے جلوس نہیں نکالتے، اس وقت تو کڑک نوٹ جیبوں سے نکال کر امت کے لئے لڑنے والوں کی مدد نہیں کرتے، نہ ان کے ساتھ شامل ہوتے ہیں، پھر کس بنیاد پر انہیں  در خیبر اکھاڑنے والے علیؓ کی مثال کو اپنے لئے استعمال کرنے کی  جسارت ہوسکتی ہے؟

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ صوفی بزرگوں نے جو قربانیاں دیں، جس طرح معین الدین چشتیؒ، نظام الدین اولیاؒ، وغیرہ نے ہندوستان کی سرزمین پر توحید و رسالت کا چراغ روشن کیا،مشرکانہ رسم و رواج سے نجات دلائی، آج انہی اسلاف کی اولادیں اسلام کو انہی مشرکانہ رسم و رواج کی طرف لوٹا رہی ہیں۔

جہیز کی وجہ سے آج پورا معاشرہ تباہ ہوچکا ہے۔ اس معاشرے کو تباہی سے بچانا ہے تو صرف ایک راستہ ہے، وہ یہ کہ شادیوں کو مکمل اہلِ بیت کے طریقے پر انجام دینا شروع کریں۔ علی کے ساتھ ہے زہرا کی شادی کی قوالی لگانے سے پہلے ایک لمحہ یہ سوچئے کہ اگر کل حوضِ کوثر پر اللہ کے نبی ﷺ نے پوچھ لیا کہ کیا تم نے میری بیٹی زہرا کی شادی میں منگنی، جوڑے، جہیز (خوشی سے) اور بارات کے کھانے دیکھے تھے؟ کیا جواب ہوگا ان کے پاس؟ اگر رسول اللہ ﷺ نے یہ پوچھا کہ جب میں نے میری بیٹی زہرا کی شادی میں نہ قریش کے سرداروں کو دعوت دی، نہ اوس و خزرج کے سرداروں کو، نہ یہودی قبائل کے سرداروں کو اور نہ مہاجرین صحابہؓ کو جنہوں نے میری خاطر اپنے ماں باپ، گھر، کاروبار سب کچھ چھوڑ کر مدینہ ہجرت کی تھی، تو پھر تم نے کس طرح یہ جائز کرلیا کہ تمہاری زہرا کی شادی میں ہزاروں لوگ جمع ہوں؟

یاد رہے سادات کو عام مسلمان اسی نظر سے دیکھتے ہیں  جو عام ہندو ایک برہمن کو۔  برہمن اپنی روایات سے پھر جائے تو پھر وہ برہمن نہیں رہتا، لیکن سادات اہلِ بیت کی روایات کو چھوڑ کر اگر راجپوتوں اور مشرکوں کی روایات کو اپنا لیں تو پھر بھی سادات باقی رہتے ہیں، کیونکہ اندھے عقیدت مندوں کے دماغوں میں عقیدوں، ولایتوں، شفاعت و مغفرت  کے ایسے ایسے فلسفے چرس اور گانجے کی طرح  بٹھادیئے گئے ہیں کہ ان کو ذہنی غلامی سے نکالنا ناممکن ہے۔ اور سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ کل تک جو علما اور مفتی تصویر کو ناجائز اور وویڈیو کو حرام کہتے تھے، وہ بھی سارے ”ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز“کے مصداق ویڈیو میں دست بستہ نظر آتے ہیں۔

یہی صورتِ حال دوسرے مسلکوں میں ہے۔ سارے مسلک اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ ہر عقیدہ قائم ہوگا، لیکن علی و زہراؓ کی شادی کی سنت ہرگز قائم نہیں ہوگی۔ مولانا طارق جمیل صاحب نے ایک امیر ترین شخص کی بیٹی کی شادی کے دن کے کھانے میں نہ صرف شرکت کی بلکہ وعظ بھی فرمایا، اور یہ پیغام دیا کہ اگر رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیٹی کی شادی کے دن کھانا نہیں کھلایا تو ضروری نہیں کہ ہم بھی اس کو سنت بنائیں،نبی نے غربت کی وجہ سے نہیں کھلایا ہوگا، کوئی بات نہیں، آپ کھلا سکتے ہیں۔ اس بدعت کو اتنی مضبوطی سے قائم کیا گیا ہے کہ لوگوں کے گھر برباد ہورہے ہیں لیکن کوئی دیوبندی، کوئی مشائخ، کوئی اہلِ حدیث اِس لعنت کو بدعت ماننے تیار نہیں۔

ابھی حال ہی میں وجئے واڑہ کے ایک مفتی قاسمی نے اپنی بیٹی کی شادی اسی طرز پر کی جس طرز پر مشائخین کررہے ہیں۔ دیوبند کے اہم ترین علما جہاز سے بلوائے گئے، انہی علما کو جو نکاح کو آسان کرو مہم میں سب سے زیادہ شعلہ بیان وعظ فرماتے ہیں، جب موصوف سے سوال کیا گیا تو انہوں نے سوال کرنے والوں کو انتہائی فحش زبان میں جواب دیا۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اسی مفتی قاسمی کے صمدھی حیدرآباد میں پچھلے ہفتہ مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے منعقد کردہ جلسے میں نکاح کو کیسے آسان کیا جائے کہ موضوع پر تقریر فرمارہے تھے۔ اس اسٹیج پر اکثریت ان علما اور دانشوروں کی تھی جن کے اپنے گھروں کی شادیوں میں کئی کئی لاکھ روپئے خرچ کئے گئے، اور یہی لوگ شہر کی ہر بڑی شادی میں سب سے پہلے شریک ہوتے ہیں۔

اہلِ حدیث بھی اِن سے مختلف نہیں۔ جس طرح مسلم پرسنل لا بورڈ کے عہد نامہ میں مطالبہ کے بغیر خوشی سے جہیز اور کھانے لینے کی پوری پوری گنجائش رکھی گئی ہے، اسی طرح اہلِ حدیث کے علما کی اکثریت جہیز کے مطالبے کے خلاف ہے، لیکن ان کے نزدیک  خوشی سے لینا بھی جائز ہے اور دینا بھی اور ایسی شادیوں میں شرکت کرنا بھی۔ ایڈوکیٹ فیض، مقصودالحسن فیصی صاحب،  قاری شعیب میر صاحب، ابتسام الٰہی ظہیر صاحب وغیرہ کی  بے دلیل، غیرمنطقی ویڈیوز کے جواب میں ہم نے دلائل کے ساتھ جواب دے دیا ہے جس کا آج تک کسی نے جواب نہیں دیا۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ اہلِ حدیث کے بارے میں عام امیج تو یہ ہے کہ یہ فرقہ مکمل کتاب اللہ کتاب السّنہ“ کو فالو کرتا ہے۔

لیکن کیا وجہ ہے کہ نکاح جیسی اہم ترین سنّت کو ان لوگوں نے بھی مصلحتوں کا تابع بنادیا، اور ہر اس خرافات کے چور دروازے کھول دیئے جن کی وجہ سے معاشرہ اخلاقی اور معاشی طور پر برباد ہورہا ہے۔ بعض اہلِ حدیث اسپیکرز جیسے حافظ جاوید عثمانی صاحب نے ایک ویڈیو میں شادی کے دن کے کھانے کو واضح طور پر حرام، حرام، حرام کہا۔ لیکن ان کی بات کو یہ کہہ کر رد کردیا جاتا ہے کہ موصوف عالم نہیں صرف حافظ ہیں۔ گویا عالم ایک برہمن ہے اور غیرعالم ایک ہریجن جس کو دھرم کی کوئی بات کہنے کا حق نہیں۔ بلکہ غیرعالم چاہے وہ ذاکر نائیک جیسے عظیم داعی ہی کیوں نہ ہوں، اُن کی تقاریر سننے سے سختی سے منع کیا جاتا ہے۔ یہی رویہ دیوبندی علما کا ہے اور یہی رویہ بریلویوں کا۔ جس چالاکی سے برہمن نے ذہنوں پر برہمنیت کی ایسی طاقتور حکومت قائم رکھی ہے کہ ہر شودر، ویش یا شتری ان کے آگے جھکنے پر مجبور ہے، بالکل اسی طرح علما اور مشائخین کے بھی ذہنوں پر اپنی بادشاہی ایسے قائم کررکھی ہے کہ کوئی غیر عالم یا غیر مشائخ ان کی جاگیر میں داخل نہیں ہوسکتا۔

جہاں تک تبلیغی جماعت یا جماعتِ اسلامی کا تعلق ہے، یہ افراد بھی کہیں نہ کہیں جاکر کسی نہ کسی مسلک کے عالم یا شیخ کے ہی تابع ہیں، اس لئے ان کی بھی %90 اکثریت بظاہر شادیوں میں غیرشرعی رسومات کے خلاف ہے، لیکن اپنے گھر کی شادی کے وقت  زمانے کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہے۔ غیرشرعی تقریباتِ شادی میں برابر شریک ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ پاپولر فرنٹ جو کہ واحد جماعت ہے جس میں جوڑا جہیز لینے والے کو پارٹی سے خارج کردیا جاتا ہے، لیکن ایسی شادیوں میں شرکت کے معاملے میں وہ بھی پیچھے نہیں ہٹتے۔

اتنی طویل تمہید کا مقصد نہ کسی مسلک یا سلسلہ پر تنقید کرنا تھا اور نہ علما یا مشائخین کی تضحیک کرنا تھا۔ مقصد صرف ایک سوال کا جواب دینا تھاکہ ہم جہیز اور کھانوں کو روکنے میں ناکام کیوں ہورہے ہیں۔  مسئلہ یہ ہے کہ %99 لوگ جن کے آباواجداد کبھی پنڈتوں کے تابع تھے، آج بھی ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ پنڈتوں کی جگہ مشائخین اور علما نے لے لی ہے۔ نظام کو بدلنے کے لئے کوئی بھی اپنے مرشد، شیخ، اکابرین، امیرِ جماعت اور امام  کی اجازت کے بغیر ایک بھی قدم اٹھانے تیار نہیں۔

آئینِ نو سے ڈرنا طرزِ کہن پر اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

یہی ہمارے لئے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی اسلام کو قائم کرنے کے لئے جس مردِ حُر کی ضرورت ہے، وہ دور دور تک نہیں ملتا۔ چاہے کوئی جماعت ہو یا مسلک، منشائے شریعت کو کوئی سمجھنا ہی نہیں چاہتا۔

شیر مردوں سے ہوا پیشہٴ تحقیق تہی
رہ گئے صوفی و ملّا کے غلام ائے ساقی

اسلام میں شادی ایک انتہائی پرائیوٹ معاملہ ہے۔ عبدالرحمٰن بن عوف، جابر اور خالد بن ولید کے نکاح خود بتارہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خود اسی بستی میں موجود ہیں، لیکن نہ  نکاح کے موقع پر ان کی دعوت ہے نہ ولیمہ میں۔ یہ صرف چند افرادِ خاندان کے بیچ کا معاملہ ہے۔ لوگوں کو جمع کرنا کئی کئی اونٹ کاٹنا، دورِ جاہلیت میں تھا۔ یہ اتنی عظیم سنّت بلکہ حکمت کی بات ہے کہ یہ اگر قائم ہوجائے تو معیشت میں مسلمان نہ صرف بنکوں اور انڈسٹریز کے مالک ہوسکتے ہیں، بلکہ غیرقومیں صرف ایک سنّت کو دیکھ کر فوج در فوج اسلام میں داخل ہوسکتی ہے۔

لیکن اس سسٹم کو قائم کرنا کسی  سیاسی لیڈر یا سماجی ورکر کے بس کی بات نہیں۔ یہ کام صرف مشائخین اور علما کرسکتے ہیں، کیونکہ لوگ صرف ان کے پیچھے چلتے ہیں۔ مگر صدیوں سے جس مشرک سماج میں رہتے رہتے، ہم پر مشرکانہ عقائد اور رسومات اس قدر حاوی ہیں کہ ان کو اسلامی احکامات سے بدلنا ممکن نہیں ہے۔ اور اگربدلنے کی کوشش کریں تو مریدوں اور عقیدتمندوں کی بغاوت کا خطرہ ہے، یا پھر چندے اور لفافے بند ہوجانے کا بھی خوف ہے۔ اسی لئے اکبراعظم کے درباری علما کی طرح  جنہوں نے مہارانی جودھا بائی کی لائی ہوئی ہر رسم کو جائز کردیا، اگر نہ کرتے تو ظلِّ الٰہی کا عتاب نازل ہوجاتا۔ اسی طرح آج کے علما بھی کسی نہ کسی طرح انہی راجپوتانہ رسموں کو   ”خوشی سے“، ”عرف“، ”مباح“، رسم ورواج“ وغیرہ کے نام پر جائز کرکے دے رہے ہیں۔ اور دلیل میں بجائے منشائے شریعت کو لانے کے، اُس زمانے کے فقہا کے فتوے لارہے ہیں جن کے زمانے میں نہ جہیز تھا، نہ کھانے، نہ عالیشان ولیمے۔ چونکہ عوام کے ذہنوں پر مشائخین اور علما حکومت کرتے ہیں، اس لئے ہم جیسے غیرعالموں نے آواز اٹھائی تو ہمارا انجام وہی ہوگا جو ایک فاشسٹ حکومت اپنے خلاف آواز اٹھانے والوں کا کرتی ہے۔

علما اور مشائخین اگرچاہیں تو شادیوں کی لعنتیں ایک سال میں ختم ہوسکتی ہیں۔ یہ لوگ متحد ہوکر صرف  یہ طئے کریں کہ نکاحِ رسول ﷺ کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ اگر کوئی ان کے خلاف کرے تو اس کی شادی میں شرکت کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ جب تک یہ لوگ ایسی شادیوں کے خلاف تقریریں کرتے رہیں گے، لیکن ایسی شادیوں میں خود بھی شرکت کرینگے، اور ایسی شرکت کو حرام قرار نہیں دیں گے۔ امّت غربت و افلاس کی کھائیوں میں مزید گرتی رہے گی، لڑکیاں ارتداد کرتی رہیں گی۔ جہاں تک جہیز، منگنی، بارات کے کھانے، جوڑے کی نقد رقم وغیرہ کے حرام ہونے کا تعلق ہے، اور ایسی شادیوں میں شرکت کے ناجائز ہونے کا تعلق ہے، ہم نے ہر مسلک کے علمائے حق کی رائے کوقلمبند بھی کردیا اور ویڈیوز میں بھی جاری کردیا۔ جن کو دلچسپی ہو وہ ہماری ویب سائٹ پر ملاحظہ فرمائیں۔

٭صدر سوشیو ریفارمس سوسائٹی، حیدرآباد 9642571721

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!