بچے والدین کی بات کیوں نہیں سنتے؟
معزالرحمان، ناندیڑ
اکثر والدین کو شکایت رہتی ہے کہ بچے انکی بات نہیں سنتے۔اسکی بہت سی وجوہات ہیں، ایک بڑی وجہ یہ بھی ہیکہ والدین بچوں کی بات سمجھنے سے پہلے نصیحت کرنا شروع کردیتے ہیں۔ پہلا مرحلہ سننے سنانے کا ہے اور دوسرا ماننے منانے کا اگر پہلا مرحلہ ہی طے نہ ہو تو دوسرے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔
نہ صرف بچوں کی باتیں بغور سنیں بلکہ ‘ان کہی باتوں’ کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔
ان کہی باتوں کو سمجھنا ایک فن ہے۔ اسے تھوڑی سی توجہ سے سیکھا جا سکتا ہے۔
*بچے کے ساتھ تعلق (Rapport) بنانا:*
بچوں کو نصیحت کرنے سے پہلے ان سے ریپو (Rapport) بنانا ضروری ہے۔ سمجھ لیجئے کہ ایک ٹینکر فل بھرا ہوا ہے اور دوسرا ٹینکر خالی ہے دونوں کے بیچ پائپ ضروری ہے۔ یہ پائپ ہی ریپو کہلاتا ہے۔
ہر بچے کی اپنی دنیا (Model of world) ہوتی ہے اور وہ اپنی زبان کے علاوہ باڈی لینگویج کے ذریعہ اس کا اظہار کرتا ہے۔ ہم بغور مشاہدے کے ذریعے جان سکتے ہیں کہ کس طرح اسکی دنیا میں داخل ہوں۔ اور ہم کس طرح کی زبان اور باڈی لینگویج استعمال کریں کہ اس تک اپنی بات آسانی سے پہنچا سکیں۔
یہاں چند مثالیں دی جارہی ہیں جس سے ان کہی باتوں کو سمجھنے میں آسانی ہوگی:
۱۔ بچہ جان بوجھ کر تنگ کررہا ہے، آپ کے سامنے آکر شور مچاتا ہے، یا موبائیل دیکھتے وقت بار بار آپ کے منہ یا آنکھ پر ہاتھ رکھتا ہے تو اسکا مطلب ہیکہ آپ کی توجہ چاہتا ہے۔ آپ فوری اس کی جانب توجہ دیں اور اسکی بات غور سے سنیں اور اسکی چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں شریک ہوں۔ اس طرح بچوں کا جان بوجھ کر تنگ کرنا بند ہوسکتا ہے۔
۲۔ دوسروں کے جذبات کی قدر نہیں کرتا دوسروں کے حصے کے چاکلیٹ خود ہی رکھ لیتا ہے یا اپنے کھلونے دوسرے بچوں سے بے دردی سے چھین لیتا ہے تو اسکے معنی ہیکہ آپ اسے ہمیشہ حکم دیتے ہیں اور پیار سے نہیں سمجھاتے۔ جیسے ہی آپ اس کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے اسکو سمجھا کر بات کرنا شروع کریں گے وہ بھی دوسروں کے جذبات کی قدر کرنے لگے گا۔
۳۔ جھوٹ بولتا ہے تو اسکا مطلب ہے آپ اسے بات بات پر ڈانٹتےہیں۔ڈانٹنے اور سمجھانے میں فرق ہے، ڈانٹ سب کے سامنے پلائی جاتی ہے، اور سمجھانے کا عمل تنہائی میں کیا جاتا ہے۔ ڈانٹنے میں یک طرفہ فیصلہ سنادیا جاتا ہے جبکہ سمجھاتے وقت مشترکہ بات چیت کے ذریعہ مسئلہ کا حل نکالا جاتا ہے۔ سمجھانے سے بچوں کی کمیونیکیشن اسکل میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے، کانفڈنس پیدا ہوتا ہے اور محبت بڑھتی ہے جبکہ ڈانٹنے سے بچہ والدین سے دور ہوجاتا ہے اور اسکا کانفڈنس لیول کم ہوجاتا ہے۔ اور وہ جھوٹ بولنا بھی شروع کردیتا ہے۔
۴۔حسد کرتا ہے تو اسکا مطلب ہیکہ آپ اسکا موازنہ کرتے رہتے ہیں۔ ہمیشہ اس سے کہتے ہیں کہ "فلاں کو دیکھ وہ کتنا اچھا ہے اور ایک تو ہے کہ ہر دم شرارت کرتا رہتا ہے۔” بچوں کو کبھی بھی کمپیئر نہ کریں۔ اس سے بچے کی انفرادیت متاثر ہوتی ہے اور وہ حسد جلن جیسے منفی جذبات اپنانا شروع کردیتا ہے۔
۵۔آپ بہت کچھ خریدتے ہیں پھر بھی دوسروں کی چیزیں لے لیتا ہو تو اسکا مطلب ہیکہ آپ اسے اپنی پسند کی چیزیں نہیں لینے دیتے ہیں۔ بچے کو انتخاب کا اختیار دیں اور اگر کوئی آپ کی چوائس ہو تو اسے بتائیں کہ وہ کن خصوصیات کی بنا پر آپ کو پسند ہے۔ اس طرح اس کی پسند کی چیزوں کے بارے میں بات کریں۔ اسکے علاوہ کوئی کام آپ اس سے کروانا چاہتے ہوں تو اس میں بھی اسے انتخاب کا حق دیں۔ اْسے اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ اسے انتخاب کا حق ہے۔
مثال کے طور پر بچہ اگر موبائیل میں گم ہو اور آپ اسے کھانا کھلانا چاہ رہے ہوں تو اس سے ایسا نہ کہیں "چلو جلدی سے موبائیل رکھو اور کھانا کھاو۔” وہ فوری کہے گا کہ "مجھے بھوک نہیں ہے۔” اسکے بجائے اس طرح کہیں: "بیٹا تم ابھی کھانا کھاو گے یا تمہاری گیم ختم ہونے کے بعد کھاو گے۔” اس طرح اسکے لاشعور میں یہ بات بیٹھ جائے گی کہ اسے کھانا تو ہر حال میں کھانا ہی ہے۔ اب وہ بغیر تلخی کے کھانے کیلئے تیار ہوجائے گا۔
۶۔ بچہ ڈرتا ہے تو اسکا مطلب ہے آپ اسے خود کچھ کرنے نہیں دیتےہر کام میں بہت جلدی اسکی مدد کرتے ہیں۔ بچوں کواپنے کام خود کرنے کی عادت ڈالیں، اپنی چیزیں آرڈر میں اور سلیقے سے کرنا سکھائیں۔ (سونے اور جاگنے کے اوقات کی پابندی کرنے لگائیں۔ کھیل کے وقت کھیل، پڑھائی کے وقت پڑھائی اور کام کے وقت کام کرنے لگائیں۔ اس سے بچہ سستی کاہلی اور ٹال مٹول جیسی بری عادتوں سے بچ جائے گا اسکے علاوہ بیماریوں اور بےبرکتی سے بھی بچ جائے گا۔)
۷۔ بچہ اپنی باتیں آپ سے شیئر نہیں کرتا اسکا مطلب ہے آپ کے اور بچے کے درمیان دوستانہ ماحول نہیں ہے۔ آپ اسکے ساتھ بیٹھیں، کھیلیں، اسکی سنیں، اسکے ہاتھ سے بنائی ہوئی ڈرائنگ کو بغور دیکھیں اور ان پینٹگز کے معنی پوچھیں۔ اس سے بچے کے احساسات تک آپ پہنچ سکیں گے۔ جیسے ہی آپ اسکے احساسات(Feelings) کو سمجھنا شروع کریں گے اسکا آپ پر اعتماد بحال ہوگا اور وہ اپنے مسائل راست آپ سے شیئر کرے بھی کرے گا اور اپنے مسائل کے حل بھی خود ہی پیش کردے گا۔
بچوں کو سمجھاتے وقت انکی عمر اور ذہنی استعداد کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے۔

