ایران کو امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی: "امریکہ ایران پر حملہ کرسکتا ہے۔”
ایران کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک خط موصول ہوا ہے، جس میں دھمکی دی گئی ہے کہ امریکہ اس پر حملہ کرسکتا ہے۔ یہ پیغام عمان کے ذریعہ ایران تک پہنچایا گیاہے۔ میڈیا نے جمعہ کو ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایران کو امریکی دھمکی پر ردعمل کے لئے کچھ وقت بھی دیا گیا ہے۔
ایک ایرانی افسرنے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایاکہ ’’ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کسی بھی طرح کے جنگ کے خلاف ہیں اور مختلف مسائل پر اس سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے ہمیں ردعمل کا اظہار کرنے کے لئے کچھ وقت دیا ہے لیکن ایران کا کہنا ہے کہ اس مسئلہ پر سب سے بڑے لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو ہی فیصلہ لینا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ جمعرات کو ایران نے خلیج فارس سے ملحق ہرمزگان صوبہ کے ساحلی علاقے میں ایک امریکی جاسوس ڈرون کو مارگرایا تھا جس سے ناراض امریکہ نے یہ دھمکی بھرا پیغام بھیجا ہے۔ ایران نے دعوی کیا تھا کہ ڈرون اس کے فضائی حدود میں داخل ہوا تھا۔
امریکی فوج نے تصدیق کی تھی کہ ڈرون کو مارگرایا گیا ہے جبکہ یہ بین الاقوامی علاقے میں پرواز کررہا تھا۔ ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ ایران نے ایک ’بڑی غلطی‘ کی ہے لیکن بعد میں نامہ نگاروں سے کہا کہ شاید یہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا ہو۔
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں امریکی انتظامیہ کے سینئر افسران کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ نے ایرانی فورسوں کے ذریعہ امریکی ڈرون کو مارگرائے جانے کےبعد اپنے ردعمل میں کئی ہدفوں کو نشانہ بنانے کے بارے میں سوچا تھا لیکن بعد میں انہوں نے اپنا یہ فیصلہ بدل دیا۔

