اگنی پتھ کے خلاف جنتر منتر پر کانگریس کا ستیہ گرہ، پرینکا گاندھی سمیت پارٹی کے متعدد لیڈران کی شرکت

مرکز کی اگنی پتھ اسکیم کے خلاف ملک بھر میں جاری مظاہروں کے درمیان کانگریس پارٹی کی جانب سے قومی راجدھانی میں جنتر منتر پر پرامن دھرنے کا اہتمام کیا گیا، جس میں متعدد لیڈران نے شرکت کی

نئی دہلی: مرکز کی اگنی پتھ اسکیم کے خلاف ملک بھر میں جاری مظاہروں کے درمیان کانگریس پارٹی کی جانب سے قومی راجدھانی میں پرامن دھرنے کا اہتمام کیا گیا۔ کانگریس پارٹی حکومت سے اس اسکیم کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ گزشتہ روز کانگریس صدر سونیا گاندھی نے نوجوانوں کے نام پیغام جاری کرتے ہوئے ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور ان سے پر امن طریقہ سے اپنی بات حکومت کے سامنے رکھنے کی اپیل کی۔

کانگریس پارٹی نے اگنی پتھ کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پر ستیہ گرہ کا آغاز کیا۔ اس ستیہ گرہ میں پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی سمیت متعدد لیڈران شرکت کے لئے پہنچے ہیں۔ کانگریس کے پر امن دھرنے میں شامل لیڈران ہاتھوں میں پلے کارڈ لے کر اپنا احتجاج درج کر رہے ہیں۔

ستیہ گرہ میں جو لیڈران حصہ لے رہے ہیں ان میں جے رام رمیش، دگوجے سنگھ، سلمان خورشید، اجے ماکن، ادھیر رنجن چودھری، ہریش راوت، راجیو شکلا، پرمود تیواری، پی ایل پونیا، کے سی وینوگوپال، گورو گگوئی، دیپندر ہڈا کے علاوہ کانگریس کے دوسرے اہم لیڈران شامل ہیں۔

خیال رہے کہ اگنی پتھ منصوبہ کے خلاف نوجوان آگ بگولہ ہیں ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ بہار، یوپی اور تلنگانہ جیسی ریاستوں میں پرتشدد مظاہرے ہو رہے ہیں۔ کئی ٹرینوں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔ عوامی املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ حزب اختلاف کی جانب سے بھی سکیم کے خلاف احتجاج درج کیا جا رہا ہے۔

قبل ازیں، ہفتہ کے روز کانگریس صدر سونیا گاندھی نے طلبا کے پر امن احتجاج کی حمایت کی۔ وہیں، راہل گاندھی نے اگنی پتھ اسکیم کے حوالہ سے مرکزی پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس اسکیم کو واپس لینا پڑے گا۔

راہل گاندھی نے اس معاملہ میں اتوار کے روز بھی ایک ٹوئٹ کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ’’بار بار نوکری کی جھوٹی امید دے کر، وزیر اعظم نے ملک کے نوجوانوں کو بیروزگاری کے ’اگنی پتھ‘ (آگ کا راستہ) پر چلنے کے لئے مجبور کیا ہے۔ 8 سالوں میں 16 کروڑ نوکریاں دینی تھیں مگر نوجوانوں کو ملا صرف پکوڑے تلنے کا درس۔ ملک کی اس حالت کے ذمہ دار صرف وزیر اعظم ہیں۔‘‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!