علاقہ کلیان کرناٹککرناٹک کے اضلاع سے

ضلعی ڈپٹی کمشنروں کو ضلعی وقف مشاورتی کمیٹیوں کے صدور نامزد کرنے کے فیصلہ کے خلاف گلبرگہ میں احتجاج

کرناٹک میں ضلعی وقف مشاورتی کمیٹیوں کے صدور کی ریاستی وقف کمیٹی کی جانب سے نامزدگیوں کے بجائے حکومت کی جانب سے ضلعی ڈپٹی کمشنروں کو صدور نامزد کرنے کے فیصلہ کے خلاف کرناٹک مسلم پولیٹییکل فورم گلبرگہ کا احتجاج:  16جنوری کو بنگلور میں احتجاجی جلسہ

گلبرگہ: 29/دسمبر(پی آر) کرناٹک مسلم پولیٹیکل فورم کی ایک صحافتی کانفرنس 27/دسمبر کو منعقد کی گئی۔ اس کانفرنس میں حکومت کرناٹک کے ایک حالیہ حکم نامہ کا ذکر کیا گیا جس کے ذریعہ ضلع وقف مشاورتی کمیٹیوں کے صدور کی حیثیت سے ضلعی ڈپٹی کمشنران کو صدر نامزد کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ یہ احکامات پسماندہ طبقات کی اعلیٰ لیجسلیٹیو کمیٹی اور اقلیتوں کی سفارش پر جاری کئے گئے ہیں۔

اس اجلاس کو سیکریٹری فورم  سراج جعفری نے کنوینر علیم احمد کی موجودگی میں خطاب کیا، کارگزار صدر مقصود علی چندا، گلبرگہ زون کے صدر اور سیکریٹری اسد علی انصاری، افضال محمود خازن، حیدر علی،سید منظور حسین بیدر، قاضی رضوان الرحمٰن صدیقی مشہود، مرزا آدم بیگ اور سراج جعفری نے ریاست کی بی جے پی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ریاست میں ضلعی وقف مشاورتی کمیٹیوں کے اختیارات میں تخفیف کررہی ے اور انھیں کمزور بنارہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح حکومت وقف بورڈ کے اختیارات کو کم کررہی ہے جب کہ ان ضلعی وقف کمیٹیوں کے صدور کی حیثیت سے ملت و سماج کے معزز ترین افراد کی نامزدگیاں عمل میں لائی جاتی رہی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ بی جے پی حکومت نے  کے ایم ڈی سی کے لئے ڈائیریکٹرس، کرناٹک اردو اکیڈمی کے ارکان و صدر وزیر اعظم کی 15نکاتی ضلعی کمیٹیوں کے لئے بھی صدور و ارکان نامزد نہیں کئے ہیں اور ڈپٹی کمشنروں کی مدد سے کرناٹک کی ضلعی اوقافی جائیدادوں کو کنٹرول کرنے پرنظر رکھے ہوئے ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانان  اور ان کی مساجد، درگاہوں عاشور خانوں، قبرستانوں اور دیگر اوقافی جائیدادوں سے راست تعلق رکھنے والے اس قدر اہم معاملہ پر اسمبلی میں تبادلہ خیال نہیں کیا گیا۔انھوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنروں کو اوقافی امور اور اوقافی اوقافی جائیدادوں کی ضروریات سے متعلق اتنی گہری معلومات نہیں ہوتی ہیں۔ یہاں تک 15 نکاتی پروگرام کے اجلاس بھی ضرورت کے مطابق ہر تین ماہ میں ایک بار باقاعدگی کے ساتھ منعقد نہیں ہوتے۔

ڈاکٹر مقصود چندا نے کہا کہ حکومت کے پاس مخالف تبدیلی مذہب بل پر بحث کرنے کے لئے وقت ہے جو کہ ہمارے دستور کے خلاف ہے، لیکن اوقفی امور پر بات کرنے کے لئے وقت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اس طرح کے  تقررات والے اقدامات کے ذریعہ ہماری شریعت میں مداخلت کرنا چاہتی ہے۔جیسا کہ ڈپٹی کمشنران مسجد کمیٹیوں اور درگاہوں کے معاملات کو نہیں سمجھ سکتے، وہیسے وقف کمیٹی کے ارکان تشکیل دیں گے جو جنھیں اسلامی معلومات نہیں ہوتی ہیں اور اسلامی روایات سے واقفیت نہیں ہوتی ہے۔ اگر ڈپٹی کمشنر اس عہدہ پر رہیں تو پھر اوقافی مسائل  کو سننے اور ان کی یکسوئی کرنے کے معاملہ میں طویل عرصہ لگ سکتا ہے۔  

اس موقع پر جناب اسد علی انصاری سابق صدرنشین ضلع وقف مشاورتی کمیٹی نے بھی کہا کہ ضلعی وقف کمیٹی کے صدر کی ذمہ داری ایک پورا وقت لگانے کی ذمہ داری ہے۔ یہ کام جزوی وقت لگا کر یا پارٹ ٹائیم کی بنیاد پر کوسرکاری عہدہ دار انجام دنہیں دے سکتا۔ اس کے علاوہ اس طرح کے سرکاری عہدہ داروقت ضرورت اور اوقات مقررہ کے لحاظ سے ان کمیٹیوں کے اجلاس پابندی کے ساتھ منعقد نہیں کرسکتے۔ وقف بوڈ کی جانب سے جو صدر نشین نامزد کیا جاتا ہے مقامی فرد ہوتا ہے اور اور جو مسلمانوں کی ضروریات اور ان کی روایات سے واقفیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک عام آدمی بھی اس سے کسی بھی وقت ملاقات کرسکتا ہے اور اوقافی مسائیل سے متعلق نمائندگی کرسکتا ہے۔ 

افضال محمود نے اس موقع پر میڈیا کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مسلم قائیدین بد قسمتی اس طرح کیتقررات کے معاملہ سے بے خبر ہیں اور چونکہ وہ اپنی پارٹیوں کے وفادار ہوتے ہیں لہٰذا وہ اپنے مذہب س ے تعلق رکھنے والی اس طرح کی باتوں اور مسائیل کو اٹھانے میں پس و پیش کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس معاملہ میں فورم کی جانب سے 16جنوری کو ریاستی دارلخلافہ بنگلور میں ایک اجلاس منعقد کیا جائیگا جس میں ضلع پنچایتوں، تعلقہ پنچایتوں،گرام پنچایتوں وغیرہ  کے آنے والے انتخابات میں مسلمانوں کی نمائیندگی پر بھی تبادلہ خیال کیا جائیگا۔

اس اجلاس کا نام روڈ میاپ (مسلم ایکشن پلان) 2023رکھا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ریاستی وقف بورڈ کو ضلع و قف مشاورتی کمیٹیوں کے صدور کی نامزدگیوں کا اختیار ہے۔ اگر اس کے باوجود بھی حکومت کی جانب سے ان نامزدگیوں کی اجازت دی جاتی ہے تو اس صورت میں فورم کی جانب سیبڑے پیمانہ پراحتجاج شروع کیا جائیگا اور عدالت سے بھی رجوع ہوتے ہوئے اس طرح کے غیر قانونی تقررات کے خلاف عدالت میں آواز اٹھائی جائے گی۔

واضح رہے کہ کرناٹک مسلم پولیٹکل فورم کے مذکورہ بالا میڈیا اجلاس کے بعد فورم کے عہدہ داران اور ارکان نے حضرت سید شاہ گیسو دراز خسرو حسینی صاحب قبلہ سجادہ نشین درگاہ حضرت خواجہ بندہ نواز سے ملاقات کی۔ اس وفد میں تبلیغی جماعت کے جناب عبدالکریم مچھالے، امیر جمعیت اہل حدیث جناب بابا نذر محمد خان اور دیگر اہم شخصیات بھی شامل تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!