کرناٹک: مذہب تبدیل کرانے کی کوشش کے الزام میں 4 افراد گرفتار، تھانہ پر ہنگامہ

گرفتار افراد کا تعلق عیسائی برادری سے ہے، اور جب یہ خبر پھیلی تو عیسائی برادری کے لوگ بھی تھانے کے باہر جمع ہو کر احتجاج شروع کر دیا اور چاروں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

یادگیر: کرناٹک کی یادگیر پولیس نے کچھ دلتوں کو عیسائی مذہب میں داخل کرانے کی کوششوں پر چار افراد کو گرفتار کیا ہے۔ یادگیر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) ویدا مورتی نے بتایا کہ پولیس نے انہیں پیر کی شام گرفتار کیا اور پھر چاروں کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ ملزمان کی شناخت جیمز، شانتراج، نیلما اور ملما کے طور پر ہوئی ہے۔

نیلاہلی گاؤں میں پیش آنے والے اس واقعہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں جیمز کچھ نوجوانوں کے ساتھ بحث کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں جو دلتوں کو عیسائیت میں تبدیل کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ملزم کو ویڈیو میں یہ بحث کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا کہ اس کے پاس بڑے پیمانے پر مذہب تبدیلی کا سرکاری حکم ہے۔

جیمز سے ناراض ان نوجوانوں نے سوال کیا کہ جب گاؤں میں چرچ نہیں ہے تو وہ دلتوں کا مذہب تبدیل کرنے کی کوشش کیوں کر رہا ہے۔ اس کے جواب میں جیمز نے کہا کہ وہ گاؤں کے لوگوں کا مذہب تبدیل کرانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ خدا کا فضل ان پر قائم رہے۔ جب نوجوان نے جیمز سے سرکاری حکم دکھانے کا مطالبہ کیا جس میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی بات کی گئی ہے لیکن وہ سرکاری حکم نہیں دکھا سکا بلکہ دھمکی دیتے ہوئے دیکھا گیا کہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس کے بعد نوجوان اتوار کو سید پور تھانے میں جاکر چاروں ملزمان کے خلاف شکایت درج کرائی، لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ گرفتار ملزمان جوابی شکایت درج کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں تو انہوں نے پیر کو تھانے کے سامنے احتجاج کیا۔ عیسائی برادری کے لوگ بھی تھانے کے باہر جمع ہوئے اور احتجاج شروع کر دیا اور چاروں گرفتار افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ مسیحی برادری کے لوگوں کے پولیس کے ساتھ تصادم میں مظاہرین نے کہا کہ ان لوگوں نے گاؤں میں کسی کا مذہب تبدیل نہیں کرایا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!