چیف منسٹر کرناٹک کو جان سے مارنے کی دھمکی!

بنگلورو: اکھیلہ بھارت ہندو مہاسبھا کے سکریٹری دھرمیندر نے ہفتہ کو ریاست میں مندروں کے انہدام کو روکنے میں ناکامی پر وزیر اعلیٰ بسوراج بومائی، سابق وزیراعلیٰ بی ایس یدی یورپا اور مزرائی وزیر ششی کلا جولی کو دھمکیاں دیں۔

دھرمیندر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہندو مہا سبھا نے مہاتما گاندھی کو قتل کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی جب ہندو حملہ آور ہوئے۔

دھرمیندر نے اعلان کیا کہ اگر مندروں پر اس طرح کے حملے جاری رہے تو ہم ریاست میں بی جے پی اور اس کی حکومت کو نہیں چھوڑیں گے اور انہوں نے مزید کہا کہ جب چتردرگہ میں انجنیہ مندر کو مسمار کیا گیا تو انہوں نے اسی طرح کی مخالفت کا اظہار کیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مندروں کے خلاف مسماری مہم جاری رہی تو بومائی، یدی یورپا اور جولی کے لیے زندگی مشکل ہو جائے گی۔ دھرمیندر نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا کرناٹک میں طالبان انتظامیہ ہے؟

بی جے پی ریڑھ کی ہڈی والی پارٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف عہدیدار ہی نہیں، سیاسی رہنماؤں کو بھی مندروں کے انہدام کا ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔ دھرمیندر نے کہا کہ بی جے پی نے میسورو ضلع میں ایک مندر کو مسمار کرنے کی اجازت دے کر ہندوؤں کو پیچھے دھکیل دیا۔

مندر ہٹانے کے خلاف مختلف ہندو تنظیموں کا احتجاج بی جے پی حکومت کی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے محض ایک چشم پوشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے صرف ہندو مندروں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا انہوں نے چرچ یا مسجد کو مسمار کیا؟ ہندو مہاسبھا اگلے انتخابات تک بی جے پی کے خلاف لڑے گی۔

مقدمہ درج

دریں اثنا بنگلور کے ایک رہائشی نے دھرمیندر کی دھمکیوں کے بعد شکایت درج کرائی ہے۔  دھرمیندر سے رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے بیانات واپس نہیں لیں گے اور کسی بھی نتیجے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!