تعلیمیمضامین

معلم: معمارِ جہاں تو ہے

از: خدیجہ شیرین معلمہ(آئیٹا، بیدر)

سبق پھر پرھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیاجائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
قوموں کا عروج و زوال بلندی علم سے ہے اعمال سے ہے جیسا علم ہوگا ویسا عمل ہوگا (معلم) سماج میں جیسا علم مہیا کرے گا ویسا ہی معاشرہ تشکیل پائے گا۔ لہذا علم کی ترسیل سے قبل معلم خودان علمی خوبیوں سے آراستہ ہو جو بہترین معاشرہ کی تشکیل میں معاون ہو۔ اس کے لیے وہ پہلے اپنا شخصی ارتقاء Personal development پر توجہہ مرکوز کرے اور پھر علم کی ترسیل کرے اخلاقی نقطہ نظر سے اپنے اطوار اقوال سے تو یہ زیادہ مؤثر ہوگا۔

معلم کو معاشرے میں روحانی والدین کی درجہ حاصل ہے معلم یامدرس کی تعریف اگران الفاظ میں کی جائے تو بے جانہ ہوگا۔ ایک استاد لوہے کو تپاکر کندن، پتھر کو تراش کر ہیرا بناتا ہے۔بنجر زمین کو سینچ کر کھلیان بناتا ہے۔استاد معمار بھی ہے لوہار بھی ہے اور کسان بھی ہے۔استاد واجب الاحترام اور لائق تعظیم ہے۔ اس لیے استاد کادرجہ ماں باپ کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

اللہ کے رسولﷺ کا ارشادہے ”بے شک میں ایک معلم کی حیثیت سے بھیجا گیا ہوں اور اس حیثیت سے حضور ﷺکا طریقہ تعلیم و تربیت جہاں تمام انسانوں کے لیے اسوہئ ہے وہیں معلمی پیشہ افراد کے لیے اس میں بڑی قیمتی اور پیشہ وارانہ ہدایات ہیں آ پ ؐ کی کامیاب معلمی کے نتیجے میں یہ ہوا کہ آپ ﷺ نے لوگوں کے ذہینوں کو یکسر بدل کررکھ دیااور وہ لوگ ’جن کے درمیان آپ تھے‘ بدو سے دنیا کے امام بن گئے۔ ہم بطور معلم حضور اقدسﷺ کو اپنا رول ماڈل بناکر حِکمت رسول سے مستفیدہوکر، اپنے طلباء کو ملک وملت کے لیے تیار کریں۔ ایک کے لیے معلم کو چاہیئے کہ وہ طلباء میں سب سے پہلے مقصد کو واضح کریں، ان میں امادرگی و تجسس کا جذبہ، احسن طریقہ سے پیداکریں طلباء کی دلچسپی دوران درس برقرار رکھیں۔ کیونکہ دلچسپی کے بغیر حصول علم ناممکن ہے استاد کو چاہیئے سبق کو آسان بناکر طلباء کے سامنے پیش کرے۔ آپؐ کا اصول تھا کہ آسانی پیداکرو’مشکل نہ بناؤ‘ لوگوں کو خوش کرو نفرت نہ دلاؤ“

حضور ﷺ کی حدیث مبارکہ سے صاف ظاہر ہے کہ آپ ﷺ طلباء کو مشکل میں نہیں ڈالتے تھے بلکہ ان کو آسانیاں پیدا فرماتے تھے۔ لیکن صد افسوس آج کے معلم پر کہ وہ صرف لیکچردینے پر ہی اکتفا کرتا ہے۔ اور اکثر اساتذہ کرام تو طلباء کے سوال پوچھنے پر ناراض ہوجاتے ہیں اوراساتذہ کو چاہیئے کہ وہ حضور کے احسن طریقہ تدریس کو اپناتے ہوئے طلباء کے لیے سبق کو آسان بناکر پیش کریں۔

معلم مکمل معمار جہاں ہوتا ہے۔ اگر معلم بچوں کا صحیح طور پر اندازہ کرکے پڑھائے تو اس کی تدریس نہایت مؤثر ہوگی معلم کا پہلا فرض ہے کہ وہ طلباء کی اکتاہٹ یعنی بوریت کا خاص خیال رکھے۔ حضور ﷺکا طریقہ تدریس بھی انتہائی دلچسپ ہو اکرتا تھا کہ صحابہ اکرام بوریت یا اکتاہٹ، محسوس نہیں کرتے۔ ایک مسلمان استاد کو بھی چاہیئے کہ وہ طلباء کو بوریت سے بچانے کا خیال رکھے اس کے لیے درس کی وضاحت مثالوں سے کریں۔ کیونکہ مثالوں سے چیزوں کی وضاحت بہتر ہوتی ہے۔ معلم کو تعلیم و تربیت میں تدریج کے اصول پر کاربند ہونا چاہیئے۔ ہر چیز کو درجہ بدرجہ سکھانا چاہیئے۔ معلم کو حضور اکرم ﷺ کے ان طریقوں پر عمل کرکے درس پیش کرنا چاہیئے۔ لہذا ایک معلم کا احسن طریقہ وہی ہونا چاہیے جو حضور اکرم کا ہے۔ہر معلم کا عزم بھی یہی ہونا چاہیئے۔

بقول کسی شاعر کے ؎
علم واخلاق کا ماحول بنائیں ہم لوگ
خود پڑھیں آج سے اوروں کو پڑھائیں ہم لوگ
کرکے سیراب گلستاں کو لہو سے اپنے
علم ودانش کی نئی وفصل اگائیں ہم لوگ

ملک وملت کا مستقبل بچوں سے وابستہ ہے،ان کی تربیت اورپرورش حسن نظریہ اور فلسفہ کے تحت کی جائیگی مستقبل بھی اسی اعتبارسے تشکیل پائے گا۔ آج کے مادّی دور میں بچوں کو صرف دنیا کے لیے تیار کیا جارہاہے۔ اور تعلیم کا مقصد محض بہترین ملازم فراہم کرنا ہوگیا ہے employabilityبچوں کی تعلیم کا مقصد بن کیا ہے۔
بچوں کی تربیت ہمارے نظام میں بہت کم اہمیت حاصل کرتے جارہی ہے۔بچوں کی تربیت، تزکیہ اور ان کی ذہنی تشکیل پر نا تو والدین کی توجہہ کررہے ہیں اورنہ ہی معاشرہ میں بچوں کی مناسب تربیت ہو پارہی ہے۔ ایسے میں بطور معمار ہم اساتذہ کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے طلباء کی تعلیم و تربیت میں ہمیشہ متفکر اور حتی المقدور کوشاں رہیں۔ کیونکہ بچوں کی تربیت اور نگرانی کا کام بڑا نازک حساس کام ہے۔ اور اسی حیثیت سے یہ مشکل بھی ہے۔ دور حاضر میں بدلتے ہوئے سماجی حالات، ٹکنالوجی کی تیز رفتار ترقی، اخلاقی اور انسانی اقدارکے بحران، بکھرتے ہوئے خاندانی نظام اور مادہ پرستی میں ڈوبے ہوئے تعلیمی نظام نے بچوں پر جو اثرات مرتب کئے ہیں انکے نقصانات سے ان کو بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور انمیں بہترین اخلاق کوفروغ دیناان کی صلاحیتوں اور مہارتوں میں اضافہ کرنا، ان کے اندر مقصد زندگی کا شعور پیداکرنا تاکہ وہ دنیامیں انسانیت کے خدمت کار اور خدا کے عبادت گذار بن سکیں اور انہیں دنیاوی کامیابی کے ساتھ اخرت کی کامرانی بھی میسر آئے۔

بطور معمار و مربی معلم کو چاہیئے کہ وہ طلباء کی تربیت کرتے وقت طلباء کے ایمانی پہلو، اخلاقی پہلو، جسمانی پہلو، نفسیاتی پہلو اور روحانی پہلو کو ملحوظ رکھے اور ایک شفیق معلم اور اچھے مربی ہونے کا ثبوت دیں۔

اسلام نے جہاں مسلمانوں پر حصول علم کو فرض قرار دیا ہے وہاں اسلام کی نظر میں استاد کو بھی معززمقام حاصل ہے تاکہ اس کی عظمت سے علم کا وقار بڑھ سکے۔
استادکے ادب واحترام میں امام اعظم ابوحنیفہ ؒ کی یہ حالات تھی کہ آپ کے استاد حمادؒ (کو فہ کے مشہور امام اور استاد وقت) جب تک آپ زندہ رہے۔ آپ ؒ نے ان بے مکان کی طرف کبھی پاؤں نہیں پھیلائے۔ جب کبھی کوئی نماز پڑھتے تو اپنے استاد حماد اور ہر ایسے شخص کے لیے جس سے کوئی علم سیکھا ہے ضرور دعا کرتے۔
دنیا میں علم کی قدر اسی وقت ممکن ہے جب استاد کو معاشرے میں عزت کا مقام حاصل ہو جوطالب علم استاد کا ادب واحترام کرنا جانتے ہیں وہ ہمیشہ کامیاب وکامران ہوتے ہیں اور دنیامیں بھی وہی عزت ومقام حاصل کرتے ہیں۔ جو انہوں نے اپنے استادوں کو دی اسی لیئے کسی نے کیا خوب کہا ہے۔ باادب بانصیب بے ادب بے نصیب۔

معلم کا بھی ایک اہم دینی فریضہ بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت ہے۔ اسکی ادائیگی کی معلم کو پوری فکر ہونی چاہیئے۔ ورنہ سخت گرفت کا بھی اندیشہ ہے اس ذمہ داری کو نبھانے میں معلم کو بہت زیادہ فکر مند ہوناچاہیئے.

آج کے حالات میں تو اس طرف غیر معمولی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ معمولی سی غفلت نہایت خطرناک نتائج سے دوچار کرسکتی ہے۔خدا کا شکر ہے صورتِ حال کی سنگینی کا اب کسی حدتک احساس ہوچلا ہے اور معلمین کی جانب سے کئی ایک مثبت اقدام طلباء کے تئیں اٹھائے جارہے ہیں۔ ان اقدامات کے نفاظ میں طلباء ہی سے کام لیں تاکہ انکی صلاحتیں فروغ پائیں معلم کا کام ایک مربی، ایک مشفق رہنما کا ہوتو ان شاء اللہ چند سالوں میں ہمارے ہاتھوں ایسے افراد تیارہونگے جن کو دیکھ کر دنیامیں بھی ہماری انکھیں ٹھنڈی ہونگی اور آخرت میں بھی یہ کام ہماری کامرانی کا ذریعہ بنیں گے ؎
ہماری درسگاہ میں جو یہ استاد ہوتے ہیں
حقیقت میں یہی تو قوم کے معمار ہوتے ہیں
سنیں روداد ہم جب بھی کسی کی کامیابی کی
ہر ایک روداد میں یہ مرکز روداد ہوتے ہیں

خصوصی ارٹیکل: بموقع آئیٹا کرناٹک مہم برائے اساتذہ (معلم: معمار جہاں تو ہے 10تا17جولائی 2021)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!