بیٹی کا نام مجبوری نہیں، بیوی کا مطلب غلام نہیں۔۔۔

از: محمد شجاع الدین، بیدر

عام لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ عورت کا مقام گھر ہے اور گھر کے معنی مکان کی چار دیواری میں قید ہو کر رہ جانا تصور کرتے ہیں اور شوہر کی خدمت بچوں کی پرورش کا باورچی خانے میں رہ کر کھانا پکانا اور خاندان کی ذمہ داری سنبھالنا، اس کام کو آج ہمارے معاشرے میں پردے کا نام دیا ہے، اصل میں پردہ عورت کا فطری حق ہے۔ ایک عورت با پردہ رہ کر چاہے وہ گھر میں ہو یا بازار میں، یونیورسٹی میں ہو یا دفتر میں یا پھر وکیل کی حیثیت سے عدالت میں ہو یا ڈاکٹر بن کر ہاسپٹل میں، یہ تمام کام اور ان جیسے بہت سارے کام عورت پردے میں رہ کر بخوبی انجام دے سکتی ہے اور معاشرے کو مضبوط بناسکتی ہے۔

خواتین معاشرے اور سماج کی بنیاد ہیں اور خاندان کو ترتیب دینے والی ہوتی ہیں۔ آج سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں عورتوں کو وہ سارے حقوق حاصل ہیں جس کی وہ حقدار ہیں۔ اس کی بدولت ایک عورت اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دے سکتی ہے۔ شوہر کی خدمت ماں باپ کے حقوق پڑوسیوں کی ذمہ داری بھی بخوبی یہ ادا کر سکتی ہے۔ بیٹی کا نام مجبوری نہیں بیوی کا مطلب غلام نہیں۔ آج کی عورت اپنی تعلیم محنت اور لگن سے یہ بات بالکل ثابت بھی کر چکی ہے۔ ویسے اسلام مذہب میں عورت کا بڑا مقام ہے۔ دین اسلام میں انہیں مساوی حقوق حاصل ہیں۔

باوجود اس کے ہم دوسری قوموں کے مقابلے میں ترقی کے میدان میں بہت پیچھے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور زندگی کے ہر میدان میں ترقی کی طرف گامزن ہوں۔ بلاشبہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ علم روشنی ہے، جہالت اندھیرا ہے۔ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ علم کے بغیر معاشرے میں کوئی عزت نہیں، کوئی مقام نہیں۔

زمانے کے موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں خود بھی علم کے حصول کے لیے جدوجہد کرنی ہے اور اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر بھی خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بچے مستقبل کا چراغ ہیں، وہ اپنے اور ملک وملت کے تابناک مستقبل کے نمائندے بھی ہیں، ہمارے گھر کی دولت بھی ہیں اور ملک و قوم کی امانت بھی۔ انکی صحیح تربیت و رہنمائی ہر ماں باپ کی اولین ذمہ داری ہے۔ ہمیں معاشرے میں اپنی بیٹیوں کا اور شوہر اپنی بیویوں کا ساتھ دینے اور ان پر ظلم سے باز رہنے کی عملی کوشیش اور اقدامت کرنے ہوں گے۔ عورت کو کم تر اور غلام بنائے رکھنا یا سمجھنا کمزور مرد اور معاشرہ کی دلیل ہے، جس کی مذہب اسلام قطعی اجازت نہیں دیتا۔

وہ زمانہ گذر گیا، جب لڑکیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا آج کے دور میں لڑکی کی پیدائش ہمارے معاشرے میں باعث عزت اور ایک نعمت سے کم نہ ہو، ایک لڑکے کے مقابلے ایک لڑکی کو بھی مناسب اور مساوی حقوق حاصل ہوں، ان میں حوصلوں کو پیدا کریں، انہیں ہمت دیں اور ایک عورت ہی بحثیت ماں اپنے بچے کی صحیح پرورش کر سکتی ہے، جس کو صدیوں زمانہ یاد رکھتا ہے۔ یہ عورت کی محنت و کاوشوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ چاہے مرد ہو یا عورت اپنے معاشرے کی تعمیر میں اہم رول ادا کر سکتے ہیں، بشرط یہ کہ ہم اپنے ذمہ داریوں سے بخوبی واقف ہوں، علم سے بہرہ ور ہوں اور سماج کے تئیں اپنی ذمہ داریوں سے واقف ہوکر عملی میدان میں اپنے آپ کو پیش کریں، تبھی معاشرہ میں ایک انقلابی تبدیلی ممکن ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!