دسویں جماعت (SSLC) کے امتحان منسوخ کردئیے جائیں فیمی کا مطالبہ

بیدر: 10/ جون (پی آر ) محمد آصف الدین جنرل سکریٹری فیمی (فیڈریشن آف مسلم انسٹی ٹیوشنس آف انڈیا) کرناٹک چاپٹر نے آج ایک پریس ریلیز جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ فیمی حکومت کے اس فیصلہ کا خیر مقدم کرتی ہے، جس کے ذریعہ پرائیویٹ اسکول کے ٹیچرس کو 5000 پانچ ہزار روپیے کی مدد کرے گی۔ موجودہ حالات میں 5000روپئے بہت کم ہیں۔ اکثر پرائیویٹ ٹیچرس اپنے فیملی میں واحد معاش کا ذریعہ ہوا کرتے ہیں، لہذا ہم حکومت کرناٹک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے ٹیچرس جن کے گھر میں اور کوئی دوسرا کماتا نہ ہو، انہیں اس امداد کی رقم کو بڑھاکر دینا چاہیے اور ایک کے بجائے ان کے لیے 3 ماہ کی امداد دی جائے۔

ایجوکیشن منسٹر کے اس فیصلے کا بھی ہم خیر مقدم کرتے ہیں کہ انہوں نے طلباء کی صحت کا خیال کرتے ہوئے پی یو سی سکنڈ ایئر کا اگزام منسوخ کر دیا ہے۔جن بنیادوں پر اس امتحان کو رد کر کیا گیا ہے، وہی بنیادیں SSLCیعنی 10ویں جماعت کے طلباء پر بھی عائد ہوتی ہیں؛ لہذا فیمی حکومت کرناٹک سے مطالبہ کرتی ہے کہ SSLC کے امتحانات کو بھی رد کر دیں اورطلباء کو پرموٹ کردیں۔ جنرل سکریٹری فیمی کرناٹک نے اپنے صحافتی بیان میں مزید کہا کہ حکومت ہند نے کووڈ سے متاثر چھوٹے تاجروں اورصنعت کاروں کو بلا سودی قرض و امداد کا وعدہ کیا ہے۔

ہم ریاستی حکو مت کرناٹک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے پرائیویٹ اسکولس جو مالی بحران کا شکار ہیں، ان کی گذشتہ سالانہ آڈیٹ رپورٹس دیکھ کر بلا سودی قرض و امداد فوری جاری کریں۔ گذشتہ دنوں بجلی کے نرخ بڑھائے گئے ہیں، فیمی کرناٹک حکومت کرناٹکا سے مطالبہ کرتی ہے کہ تعلیمی اداروں کے بجلی کے نرخ کی در 50% فیصد کر دی جائیں۔ اس سلسلہ میں فیمی تمام اضلاع سے ایک ایک میمورنڈم وزیر اعلیٰ کرناٹک بی ایس ایڈ ورپا اور وزیر تعلیم شری رمیش کمار کو بھیجی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!