یو پی ویمن کمیشن نے لڑکیوں کے خلاف بڑھتے جرائم کیلئے ’موبائل‘ کو ٹھہرا دیا ذمہ دار

یو پی خواتین کمیشن کی رکن مینا کماری کا کہنا ہے کہ خواتین کے تئیں بڑھ رہے جرائم پر سماج کو خود سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ ایسے معاملوں میں موبائل ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے۔

خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم کو لے کر اکثر اتر پردیش سرخیوں میں رہتا ہے۔ اس درمیان خواتین کے خلاف جرائم کو لے کر اتر پردیش ریاستی خواتین کمیشن کی رکن مینا کماری نے عجیب و غریب بیان دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم کی وجہ ان کا موبائل فون استعمال کرنا ہے۔

علی گڑھ پہنچیں یو پی خواتین کمیشن کی رکن نے کہا کہ خواتین کے تئیں بڑھ رہے جرائم پر سماج کو خود سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ ایسے معاملوں میں موبائل ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے۔ لڑکیاں گھنٹوں موبائل پر بات کرتی ہیں، لڑکوں کے ساتھ اٹھتی بیٹھتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ لڑکیوں کے موبائل بھی چیک نہیں کیے جاتے۔ گھر والوں کو اس بات کی جانکاری نہیں ہوتی کہ موبائل سے بات کرتے کرتے لڑکیاں، لڑکوں کے ساتھ بھاگ جاتی ہیں۔

مینا کماری نے سرپرستوں سے اپیل کی ہے کہ لڑکیوں کو موبائل نہ دیں، اور اگر موبائل دیں تو ان کی پوری مانیٹرنگ کریں۔ انھوں نے کہا کہ اس میں ماں کی بڑی ذمہ داری ہے، اور آج اگر بیٹیاں بگڑ گئی ہیں تو اس کے لیے ان کی مائیں ہی ذمہ دار ہیں۔

ایسے دور میں جب خواتین کو بھی مردوں کی طرح سبھی سے کھل کر بات کرنے اور رہنے کی آزادی ہے، خواتین کمیشن کی رکن کا یہ بیان غیر ذمہ دارانہ معلوم پڑتا ہے۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ خواتین کے خلاف ہو رہے جرائم کو روکنے کے لیے حکومت، پولس اور انتظامیہ ذمہ دار ہے، لیکن مینا کماری کے بیان سے ایسا لگتا ہے جیسے وہ بری الذمہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!