جماعتِ اسلامی کرناٹک نے “کووڈ۔19: دعوتِ رجوع الی اللہ” عنوان پر 5تا20اگست ریاستی مہم منانے کا کیا اعلان، 1کروڑعوام تک پیغام پہنچانے کا عزم
کورونا عالمی وباء اور لمحہ فکریہ بھی ہے کہ انسان، اپنی حقیقت کو پہچانے: ڈاکٹر سعد محمد بلگامی امیر حلقہ جماعتِ اسلامی ہند، کرناٹک
”کووڈ۔19: دعوتِ رجوع الی اللہ“ مہم کے پیغام کو 1کروڑعوام تک پہنچایا جائیگا: مہم کنوینر اکبر علی اڈپی
مہم کے پیغام کو وسیع پیمانے پر پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا بھرپور استعمال کیا جائے گا: میڈیا ڈیپارٹمنٹ جماعتِ اسلامی ہند، کرناٹک
بنگلورو: 4/جولائی (اے این این) جماعت اسلامی ہند، حلقہ کرناٹک کی جانب سے بنگلورو میں واقع ریاستی دفتر میں آج ایک آن لائن پریس کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ اس آن لائن پریس کانفرنس کو ڈاکٹر سعد محمد بلگامی امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند، کرناٹک، ریاستی مہم کے کنوینر جناب اکبر علی اڈپی نے مخاطب کیا۔
پریس کانفرنس میں ریاستی مہم کے کنوینر جناب اکبر علی اڈپی نے مہم کے متعلق تفصیلات پیش کی۔ اس دوران ریاست بھر کے مختلف میڈیا سے منسلک افراد نے مہم اور کورونا پر جماعت اسلامی کی دیگر سرگرمیوں سے متعلق سوالات پوچھا۔ جن پر جماعت کے ذمہ داران نے جماعت کی جانب سے انجام دی جانے والی سرگرمیوں اور مہم کی دیگر تفصیلات کو پیش کیا۔
15/روزہ آن لائن مہم کی تفصیلات:
ان شاء اللہ5/اگست سے 20/اگست تک ایک دو ہفتہ کی مہم حلقہ بھر میں ”کووڈ۔19۔دعوتِ رجوع الی اللہ“ کے عنوان پر منائی جائے گی۔سماجی فاصلے کی مشکلات اور بڑے پروگرام کرنے پابندیوں کے پیش نظر یہ مہم زیادہ ترonlineچلائی جائے گی۔ facebook، twitter، whatsapp، youtube، وغیرہ digital platforms کے ذریعہ پیغامات، پوسٹرس اور videos بڑے پیمانے پر شیر کیے جائیں گے۔ جہاں ممکن ہو انفرادی ملاقاتوں کا نظم کیا جاسکتا ہے۔ میڈیا اور سوشیل میڈیا کے ذریعہ ریاست کی کم از کم 1 کروڑ آبادی تک یہ پیغام پہنچایا جائے گا۔ ان شاء اللہ اس مہم میں تمام رفقائے جماعت کو بھرپور طریقے پر متحرک کیا جائے گا۔
ڈاکٹر سعد محمد بلگامی نے اس موقع پر جماعت اسلامی کی جانب سے انجام دی جانے والی اس مہم میں پوری عوام کو بالخصوص میڈیا کے نمائندوں کو بھرپور تعاون کرنے کی بھی اپیل کی اور ساتھ ہی مرض کے خوف کو دور کرنے کے لیے عوامی نمائندوں اور سماجی کارکنوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز کو میدان عمل میں بھرپور حصہ لینے کی طرف بھی توجہ دلائی۔ امیر حلقہ نے میڈیا کہ توسط سے مختلف این جی اوز سے بھی اس بات کی اپیل کی ہے کہ وہ سماج میں عوامی بیداری کے لیے منائی جانے والی اس مہم میں بھرپور حصہ لیں۔
اس پریس کانفرنس میں ڈاکٹر سعد محمد بلگامی امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند، کرناٹک، ریاستی مہم کے کنوینر جناب اکبر علی اڈپی، میڈیا انچارج لئیق اللہ خان منصوری، سوشل میڈیا انچارج محمد کاظم، مولانا وحید الدین خان عمری سیکریٹری حلقہ و دیگر موجود تھے۔
میڈیا ڈیپارٹمنٹ جماعتِ اسلامی ہند، کرناٹک کی جانب سے میڈیا کے لیے جاری کیے گئے پریس ہینڈ آوٴٹ کے مطابق۔۔۔
صورتحال: دنیا اس وقت ایک انتہائی تشویشناک دور سے گزر رہی ہے۔وبائیں و حادثات اس سے پہلے بھی دنیا نے دیکھی ہیں اور تباہی بھی بڑے پیمانے پر مچی ہے مگر کووڈ۔۹۱ کی وبا جو فی الواقع عالمگیر ہے اور اس وقت جس تیزی سے خصوصاً ہمارے ملک میں پھیل رہی ہے اس نے انسان کی بے بسی و بے چارگی پر سے پردہ اٹھادیا ہے۔ کروڑوں انسان مرض کا شکار ہوچکے ہیں اور لاکھوں انسان موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں۔مرض کا کوئی علاج نہیں اور ویکسین کی دریافت کوسوں دور ہے۔ عالمی صحت عامہ کے ماہرین کا انتباہ ہے کہ یہ مرض بہت دیر تک چلے گا اور چند دہائیوں میں دنیا کی آبادی میں ۵۲/فیصدی کمی واقع ہوگی۔ بھکمری، بیروزگاری، معیشت کی تباہی، طرز زندگی میں غیر معمولی تبدیلی نگاہوں کے سامنے ہے۔چھوٹے بڑے پیمانے پر دیگر عذابات۔۔سرسریاں، زلزلے، باڑ، خانہ جنگی، آگ، جنگ و جدل اورماحولیاتی آفات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جس کا اس وقت انسانیت شکار ہے۔
حفاظتی تدابیر کے ساتھ اخلاقی وجوہ پر توجہ:
انسانی جان کی حفاظت، مرض کی شدت کو کم کرنے اور پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جن حفاظتی تدابیر اور انتظامات کا اس وقت حکومت اور طبّی ماہرین کی طرف سے تاکید کی جارہی ہے وہ نہایت ضروری ہیں اور ان پر سختی سے شرعی حدود میں کاربند ہونے کی ضرورت ہے۔ مگر حالات کے الٹ پھیر میں دو بڑی حقیقتیں کارفرما ہوتی ہیں جن کو بھلایا نہیں جاسکتا۔ ایک خالق کائنات کی بے پناہ قدرت اور دوسرے مکافات عمل کا اٹل قانون۔ زندگی کی معمولات میں انسان اکثر ان حقائق کو خاطر میں نہیں لاتا اور یہی چیز اس کی دنیوی و اخروی تباہی کا سبب بن جاتی ہے۔ ضرورت ہے کہ اس اخلاقی فلسفہ کو بھی ہم یاد رکھیں۔
دنیا۔ غفلت و بغاوت کا نظارہ اور گناہ و ظلم کی آماج گاہ:
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دے کر کائنات کو اس کے لیے مسخر کیا۔ مگر آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ انسان اپنی حقیقت کو بھول کر اپنی آزادی و اختیار کا غلط استعمال کرتے ہوئے خدا سے غافل و باغی بن کر بھیانک تباہی کے راستہ پر چل پڑا ہے۔انفرادی طور پر گناہوں سے لت پت زندگی اور اجتماعی طور پر ظلم و نا انصافی کے نت نئے روپ ہیں جو مشاہدہ میں آرہے ہیں۔ رنگ و نسل و ذات پات کی تفریق، معاشی نابرابری کی افراد اور قوموں کے درمیان بڑھتی خلیج، مادی وسائل کی بہتات کے درمیان سسکتی انسانیت، اغراض و مفادات کی نہ ختم ہونے والی کشمکش یہ سب ایک کرب ناک منظر پیش کر رہے ہیں۔ خدائی تنبیہات: اللہ تعالیٰ کا خالق و مالک و مدبر و مختارِ کُل ہونا اور انسانی زندگی کا یہاں ایک امتحان ہونا اور آخرت کا ابدی جزا و سزا کا مقام ہونا وہ بنیادی حقیقتیں ہیں کہ جب بھی ان سے انحراف کیا گیا،اللہ تعالیٰ نے انسان کو متنبہ کرنے اور ہوش ٹھکانے لگانے کے لیے اس طرح کے مصائب و آلام نازل کیے
وَ لَنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ (السجدہ:۱۲)
اس بڑے عذاب سے پہلے ہم اسی دنیا میں (کسی نہ کسی چھوٹے) عذاب کا مزا انہیں چکھاتے رہیں گے، شاید کہ یہ (اپنی باغیابہ روش سے)باز آجائیں۔
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَاَخَذْنہُمْاٰا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ (الانعام:۲۴)
تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور ان قوموں کو مصائب و آلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ ہمارے سامنے جھک جائیں۔
اصل بات تو یہ ہے کہ بغاوت کا راستہ اختیار کرکے انسان ہمیشہ کی تباہی سے آخرت میں دوچار ہوگا اور اسی خسارہ سے بچنے کی انسان کو فکر کرنی چاہیے۔
اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُہُمْ وَ ہُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوْن (الانبیاء:۱)
قریب آگیا ہے لوگوں کے حساب کا وقت اور وہ ہیں کہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں۔
دنیا تو عارضی شئے ہے اور یہاں کی تکلیف و الم کا یہ حال ہے تو پھر آخرت کا کیا پوچھنا؟
رجوع الی اللہ:
ان حالات کا صحیح سبق یہی ہے کہ انسان اپنے خدا کی طرف رجوع کرے، اپنے گناہوں پر توبہ و استغفار کرے، خدا سے اپنا تعلق درست کرے اور خدائے واحد کی بندگی و اطاعت کے ذریعہ اس ہمہ گیر فساد کا علاج کرے جو آج انسانی زندگی میں پیدا ہوگیا ہے۔ شرک سے کلّی اجتناب، اپنی پوری زندگی میں خدا اور رسول و کتاب کی مکمل پیروی ضروری ہے۔ ہمارے فکر و عمل میں جو بنیادی کجی پیدا ہوگئی ہے اس کو درست کیے بغیر کامیابی کی کوئی سبیل نہیں ہے۔
امت مسلمہ کٹھرے میں:
افسوس کی بات ہے کہ جس گروہ کو دنیا کی نگہبانی و ہدایت کے لیے مامور کیا گیا تھا وہ اپنے فرض منصبی سے غافل دیگر قوموں کی طرح حیران و پریشان نظر آرہا ہے۔دنیا کی ظلمتوں کا تاریک ترین باب ہمارے حصہ میں آیا ہے۔آج انفرادی و اجتماعی توبہ و استغفارء، اعمال کی اصلاح اور دعوت الی اللہ کے فریضہ کی طرف از سر نو متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔اپنی سوچ، زاویہئ نظر اور طرز عمل میں اس کو ایک انقلابی تبدیلی اپنے اندر پیدا کرنا چاہیے۔ دنیا جس فساد سے ددوچار ہے اور یہ عالمی وبا جس طرح غیر معمولی تبدیلیوں کا پیش خیمہ بن رہی ہے اس میں اس بنیادی فساد کا علاج توحید، رسالت، آخرت کے بنیادی فلسفہ اور اسلام کے واحد مبنی بر عدل نظام کے بغیر ممکن نہیں ہے۔اس عالمی نظامِ نو (New World Order) کی تعمیر میں اسلام اور مسلمانوں کا کلیدی رول ہونا چاہیے۔
کیا ہم اپنے اندر یہ شعور و بصیرت پیدا کرنے اور دنیا کی امامت کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کا حوصلہ پیدا کرسکتے ہیں؟ دنیا کی ذلت اپنی جگہ، آخرت کی اصل زندگی میں ہم کیسے رسوائی سے بچ سکتے ہیں؟
جماعت اسلامی ہند کا پیغام:
ان حالات میں آئیے ہم
(۱) اس وباء سے متاثر انسانوں کی بغیر کسی تفریق و تقسیم کے مدد کا کام انجام دیں۔احتیاطی تدابیر کے سلسلہ میں جانکاری، ماسک وعیرہ کی فراہمی، طبّی سہولتوں کے سلسلہ میں رہنمائی و تعاون اور جہاں ضرورت ہو مالی تعاون کریں۔ (Helpline Covid 19 (080-46809998) جس کے ذریعہ ڈاکٹرس فار ہیومینٹی (DFH)کی طرف سے ڈاکٹرس اور ہیومینٹیرین ریلیف سوسائٹی(HRS)اور SIOکی طرف سے والنٹیرس جو خدمت انجام دے رہے ہیں اسکو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔مسجد و محلوں کی سطح پر بیداری مہم چلائیں۔
(۲) لوگوں میں ہمت، بردباری، توکل، ذکر الٰہی اور صبر کی تلقین کریں ا ور اللہ سے استعانت اور حالات کی بہتری کے لیے دعاؤں کا اہتمام کریں۔
(۳) عام انسانوں کو خدا اور آخرت کی یاد دلائیں، بندگئی رب کی دعوت دیں اور اس کے تقاضے سمجھائیں۔
(۴) مسلمانوں کو اپنے داعیانہ مقام کے مطابق اپنے آپ کو تیار کرنے اور ذمہ داری نبھانے کی طرف متوجہ کریں۔
یاد رکھیے کہ اس وباء کا خاتمہ صرف ہماری تدبیروں سے نہیں بلکہ خدائے قدوس کے رحم و کرم کو متوجہ کرنے سے ہی ہوسکتا ہے۔