ریاستوں سےکرناٹک

مودی حکومت کے دوسرے دورکا پہلا سال عوام دشمن دورکے طور پریاد کیا جائے گا: ویلفیئرپارٹی

مودی حکومت:دوسرے دور کا پہلا سال، بدترین دور، ویلفیئرپارٹی کرناٹک کے صدر طاہر حسین ایڈوکیٹ کی بنگلور میں پریس کانفرنس

بیدر: 8/جون (وائی آر) آج 8جون کو ویلفیئرپارٹی آف انڈیا ریاست کرناٹک کے صدر طاہر حسین ایڈوکیٹ نے اپنے ریاستی دفتر شیواجی نگر بنگلور میں ایک پریس کانفرنس طلب کرکے درج ذیل باتیں صحافت کے سامنے پیش کیں۔ کہاکہ سارا ملک کوویڈ۔19کی وجہ سے پریشان ہے، دن بہ دن مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے ایسے میں بی جے پی حکومت اپنی دوسری میعادکے ایک سال مکمل کرنے پر جشن منا رہی ہے جبکہ مودی حکومت کے دوسرے دور کا یہ پہلا سال آزادہندوستان کی تاریخ میں سب سے ناکام،نااہل اور عوام دشمن دور کے طور پر یاد کیا جائے گا۔مودی حکومت ہر محاذ پہ ناکام رہی ہے،بلکہ اس حکومت کی پالسیوں نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے،ملک کے تقریباً تمام آئینی ادارے اپنی خودمختاری کھوچکے ہیں،اُس پر کوویڈ۔19کے قہر نے جلتی پر تیل کا کا م کیا ہے، ملک کی معیشت دن بہ دن گرتی جارہی ہے، بے روزگاری، بھکمری، کسانوں کی خودکشی میں ہر روز اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے،ایسے میں وزیرِ عظم مودی کو چاہیے تھا کہ اپنی ناکامی اور ناہلی کی بنا پر اقتدار سے ہٹ جاتے اور ملک کی بہتری کے لئے دوسروں کو موقع دیتے،مودی حکومت کے دوسرے دور کی چند اہم محاذوں پر ناکامیاں درج ذیل ہیں:

معاشی صورتِ حال:
ملک کی معیشت کا اندازہ GDP(مجموعی داخلی پیداوار) سے لگا یا جاتا ہے۔مودی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ آنے والے دنوں میں ملک کی معیشت کو 5 Trillion تک لیجایا جائے گا، لیکن ملک کی موجودہ GDPسے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بھی ایک ” جملہ "ہی تھا۔اپریل 2019سے ڈسمبر2019کے دوران4.1%GDPرہی جبکہ جنوری2020سے مارچ 2020 کے دوران یہ مزید گھٹ کر3.1%پر آگئی ہے۔15thفائنانس کمیشن کے چیرمین N K Singhکے مطابق مالی سال(Financial Year)2020-21کے اختتام تک اس میں مزید گراوٹ ہوگی اور یہ1% تک رہ جائے گا۔سرمایہ کاری بھی بُری طرح متاثر ہوئی ہے،صنعت و حرفت کا بُرا حال ہے۔کُل ملا کر معاشی بحران کا سال ثابت ہوا ہے۔اُس پر کوویڈ۔19کی وجہ سے آنے والے دنوں میں اس کی حالت مزید ابتر ہونے والی ہے۔

بے روزگاری:
بے روزگاری نے مودی حکومت کے دور میں اپنے پچھلے تمام رکارڈ توڈ دئیے ہیں،پچھلے 45سالوں میں اب تک کی بدترین صورت حال ہے۔ اس وقت ملک میں 60%تعلیمی یافتہ نوجوان بے روزگار ہیں۔Centre for Monitoring Indian Econamy(CMIE) کی رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 26.6%ہوگئی ہے اوردیہی علاقوں میں بے روزگاری کی شرح 23.7%ہوگئی ہے۔اپریل2020جبکہ ملک لاک ڈاون کے دور سے گزر رہا تھا جس سے بے روزگاری کی صورتِحال مزید بگڑ گئی ہے،اس وقت ملک میں کُل121.5(تقریباً12کروڑ)ملین لوگ بے روز گار ہیں۔جن میں یومیہ اُجرت(Daily Wage) پر کام کرنے والے91.3ملین) تقریباً9کروڑ(ہیں،کاروباری طبقہ کے لوگ18.2 ملین ہیں (تقریباً ایک کروڑ 80لاکھ(،جبکہ تنخواہوں پر گزارا کرنے والے17.8 ملین(تقریباً ایک کروڑ 70لاکھ(ہیں۔آئندہ دنوں میں یہ تعداد اور بھی بڑھنے والی ہے۔

آزادیِ صحافت:
صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون مانا جاتا ہے،لیکن مودی حکومت کے دور میں جس طرح عام عوام ظلم و ستم کا شکار ہوئے اُسی طرح انصاف پسند اور حق گو صحافی بھی ظلم کا شکار ہوئے ہیں۔World Press Freedom Index Rankingمیں ہندوستانی صحافت کا مقام اس وقت142کو پہنچ گیا ہے،پچھلے تین سالوں میں بلخصوص اس ریکنگ میں برابر گراوٹ آتی گئی ہے.سال2018 میں ہندوستان کا مقام138تھا جبکہ سال2019میں یہ140ہوگیا اوراس وقت142مقام پر ہے،بین اقوامی میڈیا نے بھی ملک کی صحافتی آزادی پر کھل کر تنقید کی ہے۔حکومت کی پالیسیوں کے خلاف،حکومتی نمائندوں پر،حکومت کی ناکامیوں پر تنقید کرنے پر ملک سے بغاوت کے الزامات لگاکر جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔اور حکومت کی خامیوں پر پردہ پوشی کرنے والے چاپلوس صحافیوں اور میڈیا ہاوزس کو ترقی دی جارہی ہے۔کُل ملا کر آزاد صحافت کو ختم کرنے کی بھر پور کوشش اس ایک سال کے دوران منظم انداز میں کی گئی ہے۔

اقلیت دشمنی:
مودی حکومت کی دوسری میعاد کے اس پہلے سال میں جو چیزیں Hidden Agendaکے طور پر بی جے پی کے پاس تھی اُن کو کھلے عام کیا گیا۔کشمیر میں آرٹکل370 اور35Aکرنے کے ذریعہ آغار ہونے والا مودی کا اقلیت دشمن پروگرام اب انصاف کے لئے آواز اُٹھانے والے معصوم طلباء کو جیلوں میں بھرنے اور اُن پر غیر انسانی قانوں UAPAکو لگانے تک آپہنچا ہے۔تین طلاق بل کے ذریعہ مسلمانوں کی شریعت میں مداخلت کرکے مودی حکومت نے مسلمانوں میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کی اورچند ہی دنوں بعد CAAکے قانون کو پارلیمنٹ میں بغیر بحث کے پاس کر لیا۔یہ قانون واضح طور پر مسلمانوں اور اس ملک کے پچھڑے طبقات کے خلاف ہے،لیکن اس کے خلاف پورے ملک میں اور بین اقوامی سطح پر بھی مخالفت کی گئی،اس کے باوجود اس حکومت نے اس کو واپس لینا تو دور اس پر عوا م سے بات کرنے پر بھی تیار نہیں ہوئی۔اس کے برعکس دہلی میں بڑے پیمانے پر حکومت کی پشت پناہی سے فسادات کرائے گئے اور بے شمار معصوم جانوں کو شہید کروایا گیا،اُس پر ستم یہ کہ جن لوگوں نے ان مظالم کے خلاف آواز اُٹھائی انہیں پر فساد پھیلانے کے الزامات کے تحت جیلوں میں بند کرنے کا کام ابھی بھی جاری ہے،مودی حکومت اس کے ذریعہ اقلیتوں بلخصوص مسلمانوں میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے،یہ حکومت ملک کے اقلیتوں کے تحفظ میں بُری طرح ناکام ہوئی ہے اور بین اقوامی سطح پر بدنام ہوئی ہے۔

کوویڈ۔19اور مہاجر مزدور:
ملک میں کوویڈ۔ 19سے متعلق مسائل کو حل کرنے میں بھی یہ حکومت بُری طرح ناکام ہوئی ہے،جبکہ آج بھی مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔بیماری کی روک تھام کے لئے ٹھوس منصوبے بنانے کے بجائے یہ حکومت تھالی بجاو،تالی بجاو جیسے بے تُکے مشورے عوام کو دیتی رہی،جبکہ ملک بھر میں ڈاکٹرس میڈیکل سہولیات کی کمی کی وجہ سے پریشان رہے،اور کئی ڈاکٹرس نے اپنی جان گنوائی،بیماری کی روک تھام کے لئے پورے ملک میں لاک ڈاون کا اعلان کیا گیا جب کہ اس سلسلے کی کوئی تیاری نہیں کی گئی،جس کے نتیجے میں عوام کو بہت ساری دشواریوں کا سامناکرنا پڑا۔اس لاک ڈاون کی وجہ سے غریب عوام بُری طرح متاثر ہوئی۔800سے زیادہ لوگوں نے اس غیر منظم لاک ڈاون کی وجہ سے اپنی جانیں گنوائیں۔سب سے زیادہ متاثروہ مزدور طبقہ ہوا جو ملک کے مختلف مقامات پر روزی روٹی کی تلاش میں تھا،اچانک لاک ڈاون ہونے کی وجہ سے یہ مزدور اپنے وطن واپس جانے کے لئے مجبور ہوئے مگر اس کے لئے حکومت کی جانب سے کوئی سہولت نہیں دی گئی جس کے نتیجے میں لاکھوں مزدور ہزاروں کلومیٹر کا سفر پیدل طے کرنے پر مجبور ہوئے۔بھوک،پیاس،حادثہ کی وجہ سے راستوں میں ہی کئی مزدوروں نے دم توڑ دیا،ریل کی پٹری پر ان مزدوروں کی موت واقع ہوئی،جب حکومت نیند سے بیدار ہوکر ان مزدوروں کے لئے شرمک ٹرینوں کا انتظام کیا تو اس میں بھی بدنظمی کی وجہ سے کئی مزدوروں نے اپنی جان گنوائی۔کوویڈ۔19اور مہاجر مزدوروں کے مسائل کو حل کرنے میں بھی یہ حکومت ناکام ثابت ہوئی ہے۔ویلفیر پارٹی کی جانب سے مودی حکومت کی ان ناکامیوں کو عوام کے سامنے لانے کے لئے ماہ جون میں ملک بھر میں Onlineمہم چلائی جائے گی۔

Electricity (Amendment)Bill 2020:
حکومت گو کہ ہر محاذ پر ناکام ہے لیکن کارپوریٹ کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کا کوئی موقع اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتی،کیونکہ یہ حکومت پوری طرح کارپوریٹ کمپنیوں کی مرہونِ منت ہے۔ابھی لوگ کوویڈ۔19کی پریشانیوں میں گھرے ہیں اور حکومت کو اس بات کی جلدی ہے کہ حکومت کے تحت چلنے والی تمام کمپنیوں کو جلد از جلد بیچ دیا جائے،اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر اب حکومت نے Electricty (Amendment) Bill 2020کو عوام کے سامنے پیش کیا اور ریاستی حکومتوں کو بھی جلدبازی میں اپنی رائے دینے کو کہا گیا ہے۔اس پروپوزل کو تیار کرتے وقت ریاستی حکومتوں سے مشورہ نہیں کیا گیا ہے،جبکہ اس بل کے تحت حکومت یہ چاہ رہی ہے کہ ریاستی حکومتوں سے اختیارات چھین لئے جائیں۔دوسرا اہم معاملہ یہ کہ اس بل کے ذریعہ حکومت نجی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانا چاتی ہے اور حکومت کے تحت چل رہے تھرمل پاور پلانٹس کو بند کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔اس بل کے منظور ہونے سے مہنگائی سے پریشان عوام پر اور بوجھ بڑھنے والا ہے۔کسانوں کو جو بجلی مفت میں فراہم کی جاتی تھی اب اس سے محروم ہو جانے کا خدشہ ہے۔ساتھ ہی اس وقت بجلی بورڈ میں کام کرنے والے لوگوں کی نوکریاں بھی خطرہ میں ہونگی۔ویلفیر پارٹی کی جانب سے ریاست کے وزیراِ علیٰ کو اس سلسلے میں خط لکھ کر گزارش کی گئی ہے کہ وہ عوام مخالف اس بل کو مسترد کریں۔

گرام پنچایت انتخابات:
ریاستِ کرناٹک میں 6025میں سے5800گرام پنچایتوں کی میعاد ماہ جون اور اگست کو ختم ہونے جارہی ہے۔اس سلسلے میں حکومت نے الیکشن کمیشن سے گزارش کی ہے کہ کوویڈ۔19کو دیکھتے ہوئے گرام پنچایت کے انتخابات کو مؤخر کرے۔اس کے علاوہ پنچایت راج منسٹر کی جانب سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ میعاد ختم ہونے والے گرام پنچایتوں میں Administrativeکمیٹی بنانے کے تعلق سے حکومت پوری تیاری کر رہی ہے۔ویلفیر پارٹی اس کی پُرزور مخالفت کرتی ہے،پارٹی کی مانگ ہے کہ انتخابات وقت پر کروائے جائیں،اور اگر انتخابات کروانا بلکل ہی مشکل اور نا ممکن ہے تو ایسی حالت میں موجودہ پنچایت ممبران کو ہی آگے بڑھایا جائے۔اس سلسلے میں ویلفیر پارٹی کرناٹک کے ایک وفدنے ریاستی الیکشن کمیشن سے ملاقات کر کے ایک میمورینڈم پیش کیا ہے جس میں پنچایت الیکشن اپنے وقت پر کروانے بصورتِ دیگر موجودہ پنچایت ممبران کو ہی آگے بڑھانے کی مانگ کی گئی ہے۔اگر حکومت اپنے منصوبہ پر عمل کرنے پر بضد رہی تو اس سلسلے میں پارٹی کی جانب سے عدالت میں حکومت کے اس ارادے کے خلاف مقدمہ دائر کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس میں ریاستی صدر ایڈوکیٹ طاہر حُسین کے علاوہ جنرل سکریٹری انجینئر حبیب اللہ خان،ریاستی سکریٹری معین قمر،خازن ریاض احمد اور ومنس ونگ سکریٹری طلعت یاسمین اور عزیز جاگیردار شریک رہے۔ اس بات کی اطلاع عزیزجاگیر دار میڈیا کوآرڈی نیٹرنے دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!