ہریانہ میں سرکاری ملازمین کو سنگھ کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ملی اجازت

ہریانہ حکومت کے اس فیصلہ پر کہ ہریانہ میں سرکاری ملازمین سنگھ کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں، اس کو لے کر کانگریس نے کہا ہے کہ سرکار چلا رہے ہیں یا سنگھ کی پاٹھ شالہ۔

ہریانہ حکومت نے پیر کے روز سال 1967 اور سال 1980 کے ان دو احکامات کو واپس لے لیا ہے جس میں ہریانہ حکومت کے ملازمین کو آر ایس ایس کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی ۔

ہریانہ حکومت کے اس فیصلہ پر کانگریس نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے ٹوئٹ کیا ہے کہ ’’اب ہریانہ حکومت کے ملازمین کو سنگھ کی شاکھاؤں میں حصہ لینے کی چھوٹ۔ سرکار چلا رہے ہیں یا بی جے پی اور آر ایس ایس کی پاٹھ شالہ۔‘‘

واضح رہے منوہر لال کھٹر حکومت کی جانب سے جاری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ ہریانہ سیول سروسز قانون 2016 کے عمل میں آنے کے ساتھ ہی حکومت کی طرف سے 1980 اور 1967 میں دئے گئے احکامات فوری طور پر واپس لئے جاتے ہیں۔ پیر کو حکومت کی جانب سے لئے گئے اس فیصلے کے بعد ہریانہ سرکار کے ملازمین اب آر ایس ایس کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں یعنی اب ہریانہ کے سرکاری ملازمین کو سنگھ کی شاکھاؤں میں شرکت کرنے کی چھوٹ مل گئی ہے۔

کھٹر کی قیادت والی ہریانہ حکومت کی جانب سے جاری حکم میں کہا گیا ہے کہ اپریل 1980 میں ہریانہ کے چیف سکریٹری کے دفتر سے جاری حکم میں ریاستی حکومت کے ملازمین کو سنگھ کی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح کے حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی۔ اس سے قبل سال 1967 میں بھی ایسی روک لگائی گئی تھی۔ اب ان احکامات کو واپس لے لیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!