حکومت ان قوانین کو روکے ورنہ ہم ایکشن لیں گے: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ کو تینوں زرعی قوانین پر پابندی لگانی چاہیے: منیش تیواری
کانگریس نے پیر کے روز کہا کہ سپریم کورٹ کو تینوں زرعی قوانین کی عمل آوری پر روک لگانی چاہیے اور ان قوانین کے آئینی جواز پر سماعت کرنی چاہیے، کیونکہ اس کا ملک کی 65 فیصد آبادی پر اثر پڑتا ہے۔ کانگریس لیڈر منیش تیواری نے اس سلسلے میں خبر رساں ادارہ آئی اے این ایس سے فون پر گفتگو کی اور کہا کہ ’’سپریم کورٹ کو ان زرعی قوانین کے عمل پر روک لگانی چاہیے اور ان قوانین کے آئینی جواز سے متعلق روزانہ بنیاد پر سماعت کرنی چاہیے۔‘‘
زرعی قوانین کے خلاف پالیسی تیار کرنے کے لیے سونیا گاندھی نے اپوزیشن لیڈروں سے کی بات
کسانوں کے ذریعہ جاری زرعی قوانین مخالف مظاہرہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اب تو سپریم کورٹ نے بھی مرکز کی مودی حکومت کو ڈانٹ لگائی ہے کہ اس نے معاملے کو اچھی طرح سے کیوں نہیں سنبھالا۔ اب کانگریس صدر سونیا گاندھی نے زرعی قوانین کے خلاف پالیسی تیار کرنے کے لیے اپوزیشن لیڈروں سے بات کی ہے۔ انھوں نے اس بات چیت کے دوران کہا کہ کسانوں کے حق میں آواز بلند کرنا ضروری ہے کیونکہ نئے زرعی قوانین ان کے لیے انتہائی مضر ہیں۔
کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کیا
کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مرکز کی مودی حکومت کو ڈانٹ لگائے جانے سے خوش ہیں۔ سپریم کورٹ کے ذریعہ کیے گئے تبصرے کا استقبال کرتے ہوئے بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے کہا کہ ’’سپریم کورٹ نے کسانوں کے اس معاملے کا نوٹس لیا، ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘‘
مظاہرین کسانوں نے مودی حکومت پر لگایا بڑا الزام
سنگھو بارڈر پر زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کا احتجاجی مظاہرہ آج 48ویں دن بھی جاری ہے۔ کسان مزدور سنگھرش سمیتی کے پریس سکریٹری نے اس دوران کہا کہ ’’اب حکومت نے دوسری پالیسی شروع کر دی ہے۔ وہ فرضی کسان تنظیموں کو سامنے لا رہے ہیں۔ ہم کو چیلنج دینے کے لیے چھوٹی موٹی تنظیمیں کھڑے کر رہے ہیں۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو لگائی پھٹکار
زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے مظاہرہ پر سپریم کورٹ میں آج انتہائی اہم سماعت ہوئی۔ اس دوران عدالت عظمیٰ نے مرکز کی مودی حکومت کو زبردست طریقے سے پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے پاس ایسی ایک بھی دلیل نہیں آئی جس میں اس قانون کی تعریف ہوئی ہو۔‘‘ چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڈے نے کہا کہ ہم کسان معاملہ کے ماہر نہیں ہیں، لیکن کیا آپ ان قوانین کو روکیں گے یا ہم قدم اٹھائیں۔ حالات لگاتاربدتر ہوتے جا رہے ہیں، لوگ مر رہے ہیں اور ٹھنڈ میں بیٹھے ہیں۔ وہاں کھانے پینے کا کون خیال رکھ رہا ہے؟ سپریم کورٹ نے سوال کیا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ خواتین اور بزرگوں کو وہاں کیوں روکا جا رہا ہے، اتنی ٹھنڈ میں ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ ہم ایکسپرٹ کمیٹی بنانا چاہتے ہیں، تب تک حکومت ان قوانین کو روکے ورنہ ہم ایکشن لیں گے۔

