لاچار یا بیکاروں کی اکادمی!

نور زہرہ سی، شیموگہ

کرناٹک اردو اکادمی کا قیام اردو زبان کی بقاء و ترویج کے لئے ہوئی ہے۔ اکادمی کے ذریعہ اردو زبان کو ریاستِ کرناٹک کے ہر شہر، ہر تعلقہ اور ہرگاؤں تک پہنچانے کے لئے نت نئے پروگرام اور منصوبوں پر عمل آواری کے لئے کمیٹی کی تشکیل دی جاتی ہے۔ کمیٹی میں چیرمن سربراہ اور اراکینِ کمیٹی چیرمن کے منصوبوں اور ارادوں کی تائید یا مخالفت کرتے ہیں الغرض اردو زبان کے لئے ایک گروہ سرگرم رہتا ہے جو حکومتِ کرناٹک کی محکمہ اقلیتی بہبود کے ماتحت کام کرتی ہے جسے ہم سب ”کرناٹک اردو اکادمی“ کے نام سے جانتے ہیں۔

یقینا کرناٹک اردو اکادمی میں کئی فعل و متحرک چیرمن نے اپنا لوہا منوایا ہے اور کئی رجسٹراروں نے اردو زبان کی خوب محنت کی ہے اور کچھ رجسٹرار نے اردو سے کھل کرمحبت ثابت بھی کیا ہے۔ مگر تقریباً 2 سال سے زیادہ عرصہ کا واقفہ ہوا ہے کہ اب تک کرناٹک اردو کادمی کی تشکیلِ نو کی کوئی بات دور دور تک نظر نہیں آرہی ہے۔

دوسری بات یہ کہ اب تک اکادمی کو مستقل رجسٹرار بھی کوئی نامزد نہیں ہوا ہے۔ جو انچارج رجسٹرار محترمہ ہیں وہ صرف نام نہاد ہی کی نظر آرہی ہے۔ اول تو محترمہ کبھی بھی فون پر نہیں ملتی ہیں اور اگر اکادمی دفتر پر ان سے ملنے کی کوشش کی جائے تو وہاں بھی کبھی ملنا ممکن نہیں۔ حکومت نے اکادمی دفتر کو اردووالوں سے اتنا دور رکھا ہے کہ وہاں تک پہنچنا ہی ایک جنگ جیتنے کے برابر ہے اس کے بعد رجسٹرار صاحبہ کی غیر موجودگی ہم اردو والوں کے لئے جی کا جنجال ہو جاتا ہے۔

رجسٹرار صاحبہ صرف اعلانات ہی کرواتی ہیں لیکن پروگرام کرنا ان کے بس کے بالکل بھی نہیں ہے۔ اور ہو بھی کیسے وہ تو انچارج رجسٹرار ہیں وہ اپنے محکمہ کے لئے زیادہ وفادار یا یوں کہیں کہ اکادمی سے غیر ذمہ دار ہیں۔ محترمہ نے صحافیوں کی کارگاہ کا صرف اعلان کیا اس کے لئے تفصیلات اور جانے کیا کیا دستاویزات جمع کرنے کا حکم صادر کیا لیکن گدھے پر سے جیسے سنگھ غائب ہوئی تھی کارگاہ بھی غائب ہوگئی۔

یم۔ اے کے طلبہ کے لئے مالی امداد کے لئے فارم جمع کرنے کا حکم دیا لیکن اس کے تعلق سے کوئی جواب دینے والا نہیں۔ اکادمی دفتر پر فون کرو تو ایک محترمہ بالکل غیر ذمہ داری سے کہہ دیتی ہیں ”جب آئے گا تو معلوم ہو جائے گا اتنی جلدی کیا ہے؟“ جیسے محترمہ کو انسانوں سے ہمدردی ہی نہیں ہے افسوس صد افسوس۔

اکادمی سے کچھ اساتذہ کو پری پرائمری اسکول کے لئے ماہانہ کچھ رقم دی جا رہی تھی لیکن وہ بھی روک دی گئی ہے ایسا لگتا ہے جیسے محترمہ اکادمی کو بند کرنے کے لئے ہی آئی ہیں۔ کتنا ہی اچھا ہو اگر اکادمی کو مستقل رجسٹرار نصیب ہو جائے جس کو اردو زبان و ادب سے لگاؤ ہو اور جو ادیبوں اور شعرائے کرام کی قدر کرتا ہوتووہ یقینااکادمی کی کاروائیوں کو نئی بلندیوں پر پہنچا دے گا۔ ساتھ ساتھ یہی صحیح موقع ہوگا کہ کرناٹک اردو اکادمی کی تشکیلِ نو کا اعلان ہو جائے اور کرناٹک اردو اکادمی پھر پورے دم خم کے ساتھ اپنے عروج پر پہنچ جائے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر ریاستِ کرناٹک کے تمام اردوادبی ادارے کرناٹک اردو اکادمی کی تشکیلِ نوکے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!