تعمیرِ ملت گلبرگہ کے جلسہٴ تحفظ مساجد وناموس رسالت ؐ ، علماء ودانشوران کا خطاب

کروڑوں کی آمدنی والی مساجد میں آئمہ وموذنین کو حقیر تنخواہیں
نئی عالیشان مساجد کی تعمیر کے بجائے موجودہ مساجد کو آباد کرنے کی ضرورت
محکمہ آثار قدیمہ کو تاریخی مساجد میں نماز کی ادائیگی روکنے کا اختیار نہیں

بیدر:15/دسمبر(اے ایس ایم) ہندوستان بھر میں جنتے بھی قدیم وتاریخی مساجد محکمہ آثار قدیمہ کی تحویل میں ہیں،ان مساجد میں نماز کی ادائیگی سے روکنے کا محکمہ آثار قدیمہ کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس خیال کا اظہار گلبرگہ کے سرکردہ قانون داں مقصود افضل جاگیردار ایڈوکیٹ نے کیا۔ وہ کل ہند مجلس تعمیر ملت ضلع گلبرگہ کے زیر اہتمام بابری مسجد کے 29ویں یوم شہادت کے ضمن میں منعقدہ کل جماعتی اجلاس کو مخاطب کررہے تھے۔

تحفظ مساجد وناموس رسالت ؐ کے زیر عنوان منعقدہ یہ اجلاس بے حد کامیاب رہا۔ اپنی نوعیت کے منفرد اس اجلاس میں علماء ودانشوران وکلاء نے بابری مسجد پر ناجائز قبضہ،اس کی شہادت اور بابری مسجد کے حق ملکیت مقدمات میں عدالتی فیصلوں،بابری مسجد انہدام مقدمہ کے ملزمین کے صاف چھوٹ جانے، لبراہن کمیشن کی رپورٹ کے بشمول تمام واقعات شان رسالت ؐ میں مسلسل گستاخی کے شرانگیز واقعات اور مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کئے جانے کی مذموم حرکتوں کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہوئے مساجد کے تحفظ اور شان رسالتؐ میں گستاخی پر روک لگانے،مسلمانوں کی جان ومال عزت وآبرو کے تحفظ کو یقینی بنانے قومی سطح پر موثر حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔ مقصود افضل جاگیر دار ایڈوکیٹ نے مزید کہا کہ محکمہ آثار قدیمہ یہ نہیں بتا سکتا کہ اس کی زیر تحویل مساجد میں آثار قدیمہ کے ایکٹ میں نماز کی ادائیگی سے روکنے کی کوئی گنجائش ہے۔مقصود افضل جاگیردار ایڈ وکیٹ نے کہا کہ انہوں نے اس سلسلہ میں محکمہ آثار قدیمہ کو چیلنج کیا تھا لیکن محکمہ آثار قدیمہ کے عہدیداران انہیں کوئی جواب نہیں دے سکے۔

مقصود افضل جاگیردار ایڈوکیٹ نے کہا کہ گلبرگہ، بیجاپور کے نام تبدیل کئے گئے اور اب افضل پور کا نام بھی تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن شہروں کے نام تبدیل کرنے کی بھی قانونی گنجائش نہیں ہے وہ افضل پور کا نام تبدیل کرنے کے خلاف قانونی جدوجہد کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مساجد سے ہمارا وجود قائم ہے اور ہمیں مساجد کے تحفظ کے لئے قانونی جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔مقصود افضل جاگیر دار نے کہا کہ 15اگست 1947ء کو عبادت گاہوں کے موقف کو برقرار رکھنے کے لئے 1991میں بنائے گئے قانون کے تحت کسی بھی مسجد پر کوئی دعویٰ نہیں کیا جاسکتا اس قانون کو ختم کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں رٹ عرض داخل کی گئی ہے جبکہ مرکزی حکومت نے خود تسلیم کیا ہے کہ 15اگست 1947ء کو عبادت گاہوں کا جو موقف تھا اسے برقرار رکھا جائے گا۔متھرا،گیان واپی اور دیگر مساجد پر دعوؤں کو ختم کرنے کے لئے ہی مرکزی حکومت نے یہ قانون لایا تھا۔

مقصود افضل جاگیردار نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے سڑکوں اور عوامی مقامات پر غیر قانونی طورپر تعمیر کئے گئے عبادت گاہوں کا انخلاء کرنے کا حکم دیا ہے لیکن اس حکم پر عمل نہیں کیا جارہا ہے اس کے خلاف عدالت سے رجوع ہونے کی ضرورت ہے۔

مولانا جاوید عالم قاسمی نائب صدر ملی کونسل ضلع گلبرگہ نے مسجد کی شرعی حیثیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ مسجد خالصتا اللہ کی ملکیت ہے اس پر متولی، صدر یا کمیٹی کو کسی قسم کے تصرف کا کوئی اختیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مساجد کو صرف نماز کے لئے محدود کیا گیا ہے جبکہ مساجد کے ذریعہ اسلامی نظام کو فروغ دیا جانا چاہئے۔انہوں نے مساجد کمیٹیوں کی آمریت اور بے جا مداخلت پر سخت اظہار تاسف کرتے ہوئے کہا کہ مساجد میں مسجد نبوی کے نظام کو بحال کیا جانا چاہیئے صرف اسی صورت میں ہمارے معاشرتی بگاڑ کی اصلاح ہوسکتی ہے۔

مولانا حافظ محمد شریف مظہری نائب صدر جمعیت علماء کرناٹک نے کہا کہ مساجد کو آباد کرنا مسلمانوں کی دینی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کے سلسلہ میں عدلیہ کے فیصلوں سے عالمی سطح پر ہندوستان کی امیج متاثر ہوئی ہے۔مولانا حافظ محمد شریف مظہری نے مزید کہا کہ مسلم حکمرانوں نے کبھی بھی غیر شرعی طورپر مساجد کی تعمیر نہیں کی منادر کے انہدام کے ذریعہ مساجد تعمیر کرنے کا مسلم حکمرانوں کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا جارہاہے۔ سپریم کورٹ نے خود اس بات کو تسلیم کیاہے کہ بابری مسجد کی عمارت میں کوئی مندر نہیں تھا۔ یہ مسلم حکمرانوں کے خلاف کئے جارہے پروپیگنڈہ کو گمراہ کن ثابت کرنے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

مولانا عبد الحمید باقوی قاسمی معارفی جنرل سیکریٹری صدائے انسانیت فاؤنڈیشن گلبرگہ نے کہا کہ 60سے 70فیصد مساجد غیر آباد ہیں اور 15سے 20 فیصد مساجد مقفل ہیں جبکہ دیہاتوں میں مساجد کا یہ حال ہے کہ امام موذن اور مقتدی ایک ہی شخص ہوا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے محلوں میں جہاں مساجد غیر آباد ہیں انہیں آباد کرنے کے لئے مسلمانوں میں بیداری لانے کی ضرورت ہے۔

مولانا عبد الحمید قاسمی نے بابری مسجد کے انہدام اور شان رسالت ؐ میں گستاخی پر مسلمانوں کی بے عملی پر سخت اظہار تاسف کیا اور اسے ایمان کی کمزوری سے تعبیر کیا۔عبد الرحیم امیر وحدت اسلامی گلبرگہ نے کہا کہ اسلام باطل کی نفی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں سیاسی شعور کے فقدان کے نتیجے میں مسلمان اپنی سیاسی طاقت کو مضبوط بنانے میں ناکام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مساجد کا تحفظ وہ ناموس رسالت ؐ دونوں لازم وملزوم ہیں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم سیاسی طاقت کا استعمال کریں۔

مولانا محمد نوح صدر انڈین یونین مسلم لیگ ضلع گلبرگہ نے کیرالہ کی طرز پر گلبرگہ ضلع میں بھی دیہاتوں کی مساجد کو آباد کرنے کی تحریک چلانے پر زور دیا۔ ڈاکٹر محمد یوسف چودھری بیجاپور نے سوشیل میڈیا کے ذریعہ اسلام کے خلاف کئے جارہے گمراہ کن پروپیگنڈہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس پروپیگنڈہ کا جواب دینے کے لئے مسلمانوں کو بھی سوشیل میڈیا کا موثراستعمال کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ 2010سے سوشیل میڈیا کے ذریعہ اسلام کے خلاف منظم انداز میں گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا جارہاہے جس کے نتیجہ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول شدت اختیار کررہاہے انہوں نے سوشیل میڈیا پر اسلام مخالف پروپیگنڈہ سے مسلمانوں کی غفلت اور بے حسی پر افسوس کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر محمد عبد الباری اسو سی ایٹ پروفیسر پونا ڈگری کالج پونا نے کہا کہ مسالک کی بنیاد پر مساجد کی تعمیر نہیں ہونی چاہئے اس سے ملت میں اختلافات اور انتشار پیدا ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مساجد کو آباد کرنے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے اور جو غیر آباد مساجد ہیں انہیں آباد کرنے اور ان کے تحفظ کے لئے وقف بورڈ اور مسلم قائدین کو آگے آنے کی ضرورت ہے۔ سینئر صحافی عزیز اللہ سرمست رکن مرکزی شوریٰ کل ہند مجلس تعمیر ملت حیدرآباد نے کہا کہ کروڑوں روپیوں کے صرفے سے نئی عالیشان مساجد تعمیر کرنے کے بجائے موجودہ مساجد کو آباد کرنے، نمازیوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی تحریک چلائی جانی چاہیئے۔انہوں نے مزید کہا کہ کروڑ و رپیوں کی آمدنی والی مساجد میں ائمہ وموذنین کو حقیر تنخواہیں دی جارہی ہیں اور انہیں کسی قسم کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔

عزیز اللہ سرمست نے گلبرگہ شہر کی زبیر کالونی میں بچوں کوپنج وقتہ نماز کی پابندی کی ترغیب دلانے شروع کی گئی سائیکل انعامی اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مساجد میں نمازیوں کی تعداد کو بڑھانے پر توجہ دین اور مساجد کو صرف نمازوں کے حد تک محدود کرنے کے بجائے عامۃ المسلمین بالخصوص نوجوانوں کو مساجد سے جوڑنے مساجد کو ہمہ مقصدی بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ مساجد میں لائبریری،کوچنگ سنٹراور دیگر تعلیمی،علمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کے لئے ویزیٹرس گیلری قائم کئے جانے چاہئے۔

عبد الجبار گولہ ایڈوکیٹ صدر مجلس تعمیر ملت ضلع گلبرگہ نے اجلاس کی صدارت کی۔ انہوں نے صدارتی تقریرمیں کہا کہ بابری مسجد حق ملکیت مقدمہ میں سپریم کورٹ نے مسجد کے وجود کو تسلیم کیا لیکن مسجد کی اراضی مسلمانوں کے حوالہ کرنے کا فیصلہ نہیں دیا گیا۔ اس ناانصافی کے باوجود مسلمانوں نے جس غیر معمولی صبر وتحمل کی مثال قائم کی اس سے ساری دنیا میں ایک بہترین پیغام گیا۔

عبد الجبار گولہ نے مساجد سے لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر ہونے والے اعتراضات کو شرپسندی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلہ میں قانو ن سازی کی ضرورت ہے۔انہوں نے مسلم ممبران اسمبلی و پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ شان رسالت ؐ میں گستاخی اور اذان پر ہونے والے اعتراضات پرروک لگانے کیلئے اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں قانون سازی کے لئے آواز بلندکریں۔عبد الجبار گولہ نے مزید کہا کہ تمام مذہبی سربراہوں کی ناموس کے تحفظ کے لئے سخت قانون بنایا جانا چاہئے۔

ابتداء میں کارروائی کا آغاز مولانا محمد نوح کی قرأت کلام پاک اور مولانا محمد جیلانی باقوی خطیب وامام مسجد صدر محلہ کی نعت خوانی سے ہوا۔ حیدرعلی باغبان نائب صدر مجلس تعمیر ملت ضلع گلبرگہ نے خیر مقدم کرتے ہوئے اجلاس کے انعقاد کے اغراض ومقاصدبیان کئے اور کہا کہ تحفظ مساجد و ناموس رسالتؐ انتہائی حساس موضوع ہے اس موضوع پر مسلسل جلسوں، سیمینارس کے انعقاد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موضوع کے ذریعہ عامۃ المسلمین میں مساجد کے تقدس، ان کی اہمیت اور تحفظ کے تئیں بیداری لائی جاسکتی ہے اور تحفظ ناموس رسالتؐ کے لئے ایمانی جذبہ کو بیدار کیا جاسکتا ہے۔ جلسہ کی کارروائی مقبول احمد سگری سیکریٹری مجلس تعمیر ملت ضلع گلبرگہ نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ چلائی۔آخر میں عبد المنان ایڈوکیٹ نائب صدر مجلس تعمیر ملت ضلع گلبرگہ نے شکریہ ادا کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!