’استعفیٰ میری جیب میں ہے‘، مودی حکومت پر ایک بار پھر گورنر ستیہ پال ملک نے کیا حملہ

ستیہ پال ملک نے یوپی میں مدارس کا سروے کرائے جانے کی گہما گہمی پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ سروے کرا کر اگر مدارس کو بہتر کرنے کی بات ہو رہی ہے، بہتر سہولیات دینے کی بات ہو رہی ہے، تو یہ ٹھیک ہے۔

میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک ایک بار پھر مرکز کی مودی حکومت کے خلاف تلخ رویہ اختیار کیے ہوئے نظر آئے ہیں۔ انھوں نے بلند شہر واقع اورنگ آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کئی اہم ایشوز کا تذکرہ کیا اور مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ستیہ پال ملک کسانوں کے ایشوز لگاتار اٹھا رہے ہیں اور ایک بار پھر انھوں نے ایم ایس پی کو لے کر اپنی رائے ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ اگر حکومت نے کسانوں کی ایم ایس پی سے متعلق بات نہیں مانی تو کسان اور حکومت کے درمیان بڑی جنگ ہوگی اور میں اس لڑائی میں گورنرشپ سے استعفیٰ دے کر کود پڑوں گا۔

گورنر ستیہ پال ملک نے کہا کہ جب تک ایم ایس پی کو قانونی درجہ نہیں دیا جائے گا، تب تک کسانوں کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انھوں نے پریس کانفرنس میں اس بات کو دہرایا بھی اور کہا کہ استعفیٰ ان کی جیب میں ہے، اور اگر کسی کو ان کی بات سے تکلیف ہو رہی ہے، چوٹ پہنچ رہی ہے، تو وہ اپنے عہدہ سے فوراً ہٹ جائیں گے۔ بات چیت کے دوران راج پتھ کا نام بدلنے سے متعلق انھوں نے اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ راج پتھ انگریزوں کا دیا ہوا نام نہیں ہے، اس کو نہیں بدلا جانا چاہیے تھا۔

ستیہ پال ملک نے اتر پردیش میں مدارس کا سروے کرائے جانے کی گہما گہمی پر بھی اپنی رائے دی۔ انھوں نے کہا کہ سروے کرا کر اگر مدارس کو بہتر کرنے کی بات ہو رہی ہے، بہتر سہولیات دینے کی بات ہو رہی ہے، تو یہ ٹھیک ہے۔ اس عمل کو سیاست نہیں کہا جا سکتا۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ اسکولوں کا بھی سروے کرایا جانا چاہیے۔ اتنا ہی نہیں، راہل گاندھی کی قیادت میں جاری بھارت جوڑو یاترا کے لیے ستیہ پال ملک نے انھیں نیک خواہشات بھی پیش کیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!