کئی ریاستوں میں موسلادھار بارش اور 10 ریاستوں میں خشک سالی، سبزیوں کی قیمت میں لگے گی آگ!

ہندوستانی محکمہ موسمیات کے ذریعہ جاری ہفتہ واری رپورٹ کے مطابق جہاں ملک میں 10 سے زائد ریاستیں ڈرائی اسٹیٹ بن گئی ہیں، وہیں کچھ علاقوں میں بے حساب بارش کے سبب سیلاب کی تباہی پھیلتی جا رہی ہے۔

ایک طرف جہاں کئی ریاستوں میں موسلادھار بارش سے سیلاب کا سامنا ہے، وہیں ہندوستان کی کچھ ریاستیں ایسی بھی ہیں جو خشک سالی کا سامنا کر رہی ہیں۔ تقریباً 10 ریاستیں ایسی ہیں جنھیں اس سال مانسون کے خراب رخ کی وجہ سے ’ڈرائی اسٹیٹ‘ کہا جا رہا ہے۔ بارش کم ہونے کی وجہ سے ان ریاستوں کے کسانوں کی پریشانیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ خصوصاً دھان کی اچھی پیداوار کو لے کر کسانوں کے سامنے ایک بحرانی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ سبزیوں میں کدو، توری، بھنڈی، مرچ، لیموں، بینگن، ٹماٹر وغیرہ تو کھیتوں میں کھڑی نظر آرہی ہیں، لیکن مانسون کی بے رخی سے ان فصلوں نے دَم توڑنا شروع کر دیا ہے۔ مشرقی یوپی میں جہاں 20 سے 50 فیصد بارش کم ہوئی ہے، وہیں مغربی یوپی میں 60 فیصد کم بارش کے سبب خشک سالی جیسے حالات پیدا ہو رہے ہیں۔

کم مانسون کو لے کر خود ماہرین موسمیات و زراعت نے فکر کا اظہار کیا ہے۔ اس معاملے میں اتر پردیش کے موسم اور زراعت پر نظر رکھنے والے زرعی سائنسداں ڈاکٹر وویک راج نے بتایا کہ مشرقی اور مغربی اتر پردیش میں ہوئی بارش کی رپورٹ کل ہی سامنے آئی ہے۔ اس سال گزشتہ سال کے مقابلے 50 فیصد تک کم بارش دیکھی گئی ہے، جس کا اثر موسمی پھلوں پر ہوگا۔ بارش کم ہونے پرفصلوں کی پیداوار بھی کم ہوگی اور سبزیوں کی قیمت آسمان چھونے لگیں گی۔

ہندوستانی محکمہ موسمیات کے ذریعہ جاری ہفتہ واری رپورٹ کے مطابق جہاں ملک میں 10 سے زائد ریاستیں ڈرائی اسٹیٹ بن گئی ہیں، وہیں کچھ علاقوں میں بے حساب بارش کے سبب سیلاب کی تباہی پھیلتی جا رہی ہے۔ اس سے بھی لاکھوں کسان کنبوں کو مشکلات درپیش ہیں۔ ایک طرف تو ان کی فصلیں پانی میں ڈوب گئی ہیں، اور دوسری طرف بڑی تعداد میں وہ بے گھر بھی ہو گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر سیلاب متاثرہ علاقوں میں تباہی کے مناظر حیران کرنے والے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق اس سال ہریانہ دہلی، پنجاب، راجستھان، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر کے کئی علاقے، مغربی اتر پردیش میں گزشتہ سال کے مقابلے 60 فیصد سے بھی کم بارش ہوئی ہے جس کی وجہ سے خشک سالی جیسے حالات نظر آ رہے ہیں۔ علاوہ ازیں آسام، میگھالیہ، ناگالینڈ، منی پور، میزورم، تریپورہ، سکم، اڈیشہ، جھارکھنڈ، ایسٹ یوپی، جموں و کشمیر، مغربی راجستھان، تلنگانہ اور کرناٹک کے ساحلی علاقوں میں 20 سے 50 فیصد تک کم بارش دیکھنے کو ملی ہے۔ دوسری طرف تمل ناڈو، پانڈوچری، کرائیکل، کرناٹک کے بیشتر علاقوں میں گزشتہ سال کے مقابلے 60 فیصد سے زیادہ بارش ہوئی ہے جس کے سبب سیلاب جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔

کیرالہ اور لکشدیپ میں بھی گزشتہ سال کے مقابلے 20 سے 50 فیصد تک زیادہ بارش ہوئی ہے جو کسانوں کے لیے فکر کا سبب بنتی جا رہی ہے۔ یعنی حالات ایسے بن گئے ہیں کہ کہیں سیلاب کی وجہ سے کسانوں کی فصل خراب ہو رہی ہے، اور کہیں خشک سالی نے کسانوں کو فکر میں ڈال دیا ہے۔ ان حالات کو دیکھ کر صاف اندازہ ہوتا ہے کہ مہنگائی سے پریشان عوام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!