اگنی پتھ منصوبہ اچھا ہے تو ‏MP-MLA کے بچوں سے بھی کراؤ 4 سال کی ملازمت: سسودیا

منیش سسودیا نے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے ’’ہر نوجوان کو حق ہے کہ فوج میں شامل ہو کر ملک کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کرے، لیکن آج بی جے پی اس حق سے ان کو محروم کر رہی ہے۔‘‘

ملک میں ’اگنی پتھ اسکیم‘ کے خلاف ہو رہے لگاتار مظاہروں کے درمیان دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے مرکزی حکومت کے اس منصوبہ کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ یہ اتنی ہی اچھی اسکیم ہے تو اراکین اسمبلی (ایم ایل اے) اور اراکین پارلیمنٹ (ایم پی) کے بچوں کے لیے بھی کوئی قانون بننا چاہیے۔

انھوں نے اپنے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل سے کیے گئے ٹوئٹ میں لکھا ہے ’’اگنی پتھ منصوبہ اگر اتنا ہی اچھا ہے تو قانون بنا دو، ملک بھر میں ہر ایم ایل اے اور ایم پی کے بچے 17 سال کے ہوتے ہی سب سے پہلے اس منصوبہ کے تحت 4 سال کی ملازمت کریں گے۔‘‘

ایک دیگر ٹوئٹ میں منیش سسودیا نے لکھا ہے ’’ہر نوجوان کو حق ہے کہ فوج میں شامل ہو کر ملک کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کرے، لیکن آج بی جے پی اس حق سے ان کو محروم کر رہی ہے۔ ملک بھر میں ہو رہے مظاہرے واضح ثبوت ہیں کہ ہندوستان کے نوجوان اگنی پتھ کو کبھی قبول نہیں کریں گے، کوئی بھی پالیسی یا قانون ملک کی خدمت کے جنون سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔‘‘

دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ نے اس کے علاوہ اگنی پتھ منصوبہ کے خلاف ہوئے مظاہروں سے متعلق کئی پوسٹ اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے ری-ٹوئٹ کیے ہیں۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال بھی اگنی پتھ اسکیم کے خلاف مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ انھوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ نوجوانوں کو چار سال نہیں، پوری زندگی ملک کی خدمت کرنے کا موقع دیا جائے۔ ساتھ ہی کیجریوال نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں فوج میں بھرتی نہیں ہونے کی وجہ سے جو لوگ زیادہ عمر کے ہو گئے ہیں، انھیں بھی موقع ملنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!