صدارتی انتخاب 2022: BJP نے تشکیل دی منیجنگ کمیٹی، اپوزیشن کی میٹنگ 21 جون کو

صدارتی انتخاب سے متعلق نوٹیفکیشن 15 جون کو جاری ہو چکا ہے۔ 18 جولائی کو ووٹنگ ہوگی اور 21 جولائی کو ووٹ شماری کی جائے گی۔

آئندہ ماہ صدارتی انتخاب ہونا ہے اور برسراقتدار طبقہ کے ساتھ ساتھ اپوزیشن پارٹیوں نے بھی اپنی پسند کا صدر جمہوریہ بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ بی جے پی نے اس سلسلے میں جمعہ کے روز ایک اہم قدم اتھاتے ہوئے 14 رکنی منیجنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت کو اس کمیٹی کا کنوینر بنایا گیا ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن پارٹیاں متحد ہو کر اپنی طرف سے ایک مشترکہ امیدوار صدارتی انتخاب کے لیے کھڑا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس سلسلے میں اپوزیشن نے آئندہ 21 جون کو شرد پوار کی صدارت میں میٹنگ طلب کی ہے۔

واضح رہے کہ صدارتی انتخاب سے متعلق نوٹیفکیشن 15 جون کو جاری ہو چکا ہے۔ 18 جولائی کو ووٹنگ ہوگی اور 21 جولائی کو ووٹ شماری کی جائے گی۔ حالانکہ ابھی تک نہ تو برسراقتدار طبقہ نے اپنے امیدوار کے نام کا اعلان کیا ہے، او رنہ ہی اپوزیشن نے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ کسے اپنا امیدوار بنائے گی۔ حالانکہ شرد پوار کے نام کا تذکرہ ہو رہا تھا، لیکن انھوں نے گزشتہ دنوں اپنے ایک بیان میں صاف طور پر کہہ دیا کہ وہ ابھی سرگرم سیاست کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اب دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ 21 جون کو اپوزیشن پارٹیوں کی ہونے والی میٹنگ میں کیا فیصلہ لیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس میٹنگ میں 17 پارٹیوں کی شرکت ہوگی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی کی طرف سے مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ لگاتار اپوزیشن پارٹی لیڈران سے رابطہ کر رہے ہیں تاکہ صدر جمہوریہ کے لیے انتخاب کی ضرورت نہ پڑے۔ یعنی برسراقتدار طبقہ جس امیدوار کو کھڑا کرے وہ بلامقابلہ منتخب ہو جائے۔ انھوں نے ترنمول کانگریس سربراہ ممتا بنرجی اور کانگریس کے سینئر لیڈر ملکارجن کھڑگے سے بھی اس سلسلے میں بات کی، لیکن ان دونوں نے ہی صاف طور پر کہہ دیا کہ پہلے امیدوار کا نام بتایا جائے تبھی آگے کچھ بات ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!