شوہر کی زندگی کی بھیک مانگتی رہی بہن، لیکن سالوں نے بہنوئی کا قتل کر دیا

ناگاراجو اور سلطانہ ایک دوسرے کو گزشتہ 11 سالوں سے جانتے تھے اور اس سال جنوری میں دونوں نے شادی کر لی تھی لیکن سلطانہ کے گھر والوں کے یہ شادی قبول نہیں تھی ۔

حیدرآباد: ’’تم مجھے کیوں مار رہے ہو، مجھے چھوڑ دو، جانے دو‘‘ حیدرآباد میں سڑک کے بیچوں بیچ قتل ہونے سے پہلے ناگاراجو کے یہ آخری الفاظ تھے۔ اس کے باوجود ناگاراجو کے سالے کا دل نہیں پسیجا۔بہن کا دوسرے مذہب میں شادی کرنے پر غصہ اس قدر تھا کہ سالے نے دوست کے ساتھ مل کر اپنی ہی بہن کا سہاگ اجاڑ دیا ۔

ناگاراجو اور سلطانہ ایک دوسرے کو تقریباً 11 سال سے جانتے تھے۔ دونوں اسکول اور کالج میں ساتھ پڑھتے تھے۔ پھر دوستی محبت میں بدل گئی اور اس سال جنوری میں دونوں نے شادی کر لی۔ سلطانہ (عرف پلوی) کے گھر والے اس شادی سے ناراض تھے۔ بیٹی کی شادی غیر مذہب میں کرنا انہیں پسند نہیں تھا۔ اس کے بعد 4 مئی کی رات سلطانہ کے بھائی نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر ناگاراجو کا قتل کر دیا۔

25 سالہ ناگاراجو نے تین ماہ قبل 31 جنوری کو 23 سالہ سلطانہ (عرف پلوی) سے شادی کی تھی ۔ ناگاراجو کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ وہ دونوں (سلطانہ اور ناگراجو) کالج کے زمانے سے ہی ایک دوسرے کے پیار میں تھے۔ دونوں کی شادی دو ماہ قبل پرانے شہر کے آریہ سماج مندر میں ہوئی تھی۔ دونوں کا تعلق مختلف مذاہب سے تھا اس لیے لڑکی کے گھر والوں نے ناگاراجو کو قتل کر دیا۔

’آج تک‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سلطانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ناگاراجو ان سے شادی کرنے کے لیے اسلام قبول کرنے کے لیے تیار تھا، تاہم اس کے بھائی مبین احمد نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ اس نے سلطانہ کو یہ شادی کرنے سے منع کیا لیکن سلطانہ راضی نہ ہوئی۔

بتا دیں کہ دلت ہندو ناگاراجو سکندرآباد کے مریڈ پلی کا رہنے والا تھا۔ وہ پرانے شہر کے ملک پیٹ میں ایک کار شو روم میں سیلز مین کے طور پر کام کرتا تھا۔ اب پولیس نے سلطانہ کے دو بھائیوں سید مبین احمد اور محمد مسعود احمد کو اس قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے ۔

ایک ماہ پہلے بھی سلطانہ کے بھائی نے ناگاراجو کا پیچھا کیا تھا لیکن وہ کامیاب نہیں ہوا تھا ۔ اس کے بعد 4 مئی کو ملزم نے ناگاراجو کا پیچھا کیا اور ناگاراجو کو پنجالا انل کمار کالونی میں سرو نگر میں لال بتی پر روکا۔ جس کے بعد ملزم نے لوہے کی راڈ اور چاقو سے ناگاراجو کا قتل کر دیا۔

شوہر کے قتل کے بعد سلطانہ نے روتے ہوئے کہا، ‘میں قاتلوں سے اپنے شوہر کی زندگی کی بھیک مانگتی رہی۔ لیکن انہوں نے میرے شوہر کو چھریوں سے گود دیا ۔ میرے شوہر کو میری آنکھوں کے سامنے مار دیا۔

سلطانہ نے بتایا کہ شادی سے پہلے اس نے ناگاراجو سے کہا تھا کہ اس کے گھر والے اس شادی سے خوش نہیں ہیں اور وہ اس کی جان بھی لے سکتے ہیں۔ سلطانہ کے مطابق اس پر راجو نے کہا تھا کہ اسے کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے۔ وہ سلطانہ کے ساتھ جینا یا مرنا چاہتا ہے۔ سلطانہ نے کہا کہ راجو کہتا تھا کہ وہ میرے لئے مرنے کو تیار ہے ۔

’آج تک‘ سے گفتگو میں سلطانہ نے بتایا کہ یہ قتل کسی جنگل میں نہیں ہوا۔ یہ سڑک کے بیچ ہوا، جہاں آس پاس بہت سے لوگ موجود تھے۔ لیکن تقریباً 20 منٹ تک سب صرف گھورتے رہے اور کسی نے مدد نہیں کی۔ اگر کوئی آگے آتا تو شاید اس کا راج (ناگاراجو) زندہ ہوتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!