جو قوم خود کی حفاظت نہیں کرسکتی، اُسے جینے کا کوئی حق نہیں!

سارے عالم میں گونجا تکبیر کا نعرہ: حجاب تنازعہ تو صرف ایک شروعات ہے؟
از: شعیب احمد مرزاؔ، ہبلی

مسکان خان 19/ سالہ بی کام (سال دوم) کی طالبہ کا ویڈیو آج پوری دنیا میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ جس دلیری و بہادری سے مسکان نے اللہ ’اکبر کا نعرہ‘ بلند کیا ہے وہ ویڈیو میں صاف دکھائی دے رہا ہے۔ جس کسی نے بھی اس طالبہ کا وہ ویڈیو کیمرے میں قید کیا ہوگا وہ بھی خود کو خوش قسمت سمجھ رہا ہوگا کہ وہ ویڈیو کلپ آج پوری دنیا میں وائرل ہوچکا ہے۔ مسکان کی اس بے باکی کے سبب سارے عالم میں نعرہ تکبیر کی گونج ہے۔

یہ تو ایک خوش آئند پہلو ہے لیکن اس کے برعکس بہت سارے ایسے معاملات اور مسائل ہیں جن کے متعلق بھارتی مسلمانوں کو بہت حساس ہونا ہوگا۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ملک میں مسلمانوں اور اسلام کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس سے قبل بھی کئی معاملات میں مسلمانوں کو ذلیل و خوار کرنے کی سازشیں کی گئیں ہیں جو اب بھی جاری ہیں۔ حجاب تنازعہ تو مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کے تسلسل کی ایک کڑی ہے۔

ماضی قریب میں شہریت قانون کے ذریعہ مسلمانوں پر نشانہ سادھا گیا تھا۔ مسلم قوم کو کبھی لو جہاد تو کبھی طلاق ثلاثہ، کہیں ہجومی تشدد تو کہیں گائے کے ذبیحہ کے نام پر ہراساں کیا جارہا ہے۔ بھارتی مسلمانوں کے لئے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اپنے مستقبل کی بقاء کے لئے اقدام کریں۔ بہترین منصوبہ بندی و تدبیر سے کام لیتے ہوئے جرأت مندی و بہادری سے ان حالات کا جمہوری طرز سے مقابلہ کریں۔

لیکن حالات و واقعات کا منظر کچھ بدلا ہوا نظر آتا ہے۔ ہر ایک کو اپنی فکر ہے، چاہے وہ قوم کے رہبر و رہنما ء ہویا مسجد کے امام و خطیب۔کوئی قربانی دینا نہیں چاہتا، حالات کا ڈٹ کر مقابلہ نہیں کرنا چاہتا۔ ہر کوئی بزدلی کی چادر اوڑھ کر مصلحت کا مسیحا تو ضرور بننا چاہتا ہے لیکن ہمت وشجاعت کے ساتھ حق کے لئے عزیمت کی راہ اختیار نہیں کرنا چاہتا۔ جب تک قوم میں قربانی کا جذبہ پیدا نہیں ہوگا حالات ہمارے موافق نہیں ہوں گے۔

یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ جو قوم خود کی حفاظت نہیں کرسکتی اسے جینے کا کوئی حق نہیں۔ حالات پر گہری نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ حجاب تو صرف ایک بہانہ ہے، اصل مقصد تو مسلمانوں کا خاتمہ ہے۔ جس طریقہ سے ہندتوادیوں کو اس ملک میں چھوٹ دی جارہی ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ برسر اقتدار حکومت ان کے نظریات کی حامی ہے۔ جس طرح بنا کسی خوف و ڈر کے اراکین اسمبلی ہو یا اراکین پارلیمان یا پھر کوئی سادھو سنت ہر کوئی مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کے معاملہ میں آپسی مقابلہ کررہے ہیں۔ حکومت کا خاموش تماشائی بنا رہنا، بھارتی مسلمانوں کے لئے ایک خوفناک پیغام ہے۔

اب یہ مسلمانوں پر منحصر ہے کہ وہ ان حالات کو کن زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ جس ملک میں قاتل ہی منصف بن بیٹھے ہوں وہاں انصاف کی امید رکھنا فضول ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ قوم ذہنی غلامی و احساس کمتری کاشکار ہوچکی ہے۔ذہنی غلامی، جسمانی غلامی سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ سب سے پہلے اس غلامی سے باہر آنا ہوگا۔ اپنی خودی کو پہچاننا ہوگا۔ اپنے حقوق کی لڑائی کے لئے کمر بستہ ہونا پڑے گا۔ تکالیف آئیں گی، قربانی دینی پڑے گی، ان سب کے لئے ذہنی و جسمانی طور پور طور مستعد ہونا پڑے گا۔

مستقبل قریب میں ابھی بہت ساری چیزوں سے سامنا ہوگا۔ ان سب کا واحد حل استقامت ہے۔ حق کی راہ پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کی راہ گزر ہوتی ہے۔ ہر ایک اپنی استطاعت کے مطابق اپنا کردار اداکریں۔ اپنی نسلوں کو قانونی جانکاری دیں، ان کے اندر شعور و آگہی پیدا کریں۔ قانونی بیداری لائیں تاکہ ہر کوئی اپنے حقوق کو جان سکیں اور اس کے حصول کے لئے بہترین جمہوری طریقہ اختیار کرسکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!