ہم نے نقاب میں انقلاب دیکھا ہے

ساجد محمود شیخ میراروڈ

مکرمی!

کرناٹک کے پری یونیورسٹی کالج مانڈیا میں کالج کی بہادر اور جذبۂ ایمانی سے سرشار طالبہ مسکان نے تن تنہا بھگوا اسکارف پہنے غنڈوں کو منہ توڑ جواب اللہ اکبر کی صداؤں کے ساتھ دیا ہے اس کا یہ عمل ملک کی ہر مسلم بیٹیوں کے ساتھ ساتھ سبھی مسلمانوں کو زبردست حوصلہ دے گا۔

اپنے آئینی و دینی حق کے لئے باد مخالف کی تند و تیز ہوا کے سامنے پورے جذبہ سے ڈٹ کر مقابلہ کرنے والی اس معصوم بچی نے ملّتِ اسلامیہ کے تن مردہ میں نئی جان پھونک دی ہے اور ملت اسلامیہ کو شدید ڈر و خوف کے عالم میں بھی نصرت خداوندی پر بھروسہ رکھنے والا سبق یاد دلایا ہے.

وطن عزیز میں فرقہ پرستی بام عروج پر ہے اور بزدل فرقہ پرست لوگ ہجوم کی شکل میں تنہا مسلمان پر حملے کرکے مسلمانوں کو خوفزدہ کر رہے ہیں بسا اوقات یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ہجوم میں گھرے شخص نے فرقہ پرستوں کے سامنے ہاتھ جوڑے منتیں کیں پھر بھی مارے گئے اس معصوم بچی نے ملّتِ اسلامیہ کو شجاعت اور دلیری کا سامنا کرنے کا پیغام دیا ہے۔

فرقہ پرستوں کے حملے کے وقت مسلمانوں کو خوفزدہ ہونے اور ظالموں سے رحم کی درخواست کرنے کے بجائے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی نصرت پر بھروسہ رکھتے ہوئے ہمت سے کام لینا چاہیئے۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!