ملت اسلامیہ دخترانِ اسلام کی تعلیم کا انتظام کرے

ساجد محمود شیخ میراروڈ ضلع تھانہ

مکرمی           

موجودہ دور ملت اسلامیہ ہند کے لئے سخت آزمائشوں سے بھرا ہوا دور ہے اس وقت وطن عزیز میں فرقہ پرستی پورے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ مسلمانوں کو  ہر دن تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کبھی ہجومی تشدد، کبھی قانون سازی کے ذریعے شریعت میں مداخلت ،کبھی مساجد پر قبضے کی کوشش اور کبھی لو جہاد کے نام پر مسلمانوں کی گرفتاری ہوتی ہے دختران اسلام کو عشق ومحبت کے جال میں پھنسا کر ان کی عزت و آبرو سے کھلواڑ کیا جاتا ہے۔

اب مسلم طالبات کو حجاب کے نام پر ہراساں کیا جا رہا ہے کرناٹک میں باحجاب مسلم دوشیزاؤں پر کالجوں کے دروازے بند کر دئیے گئے ہیں۔ ہم لوگ حکومت کا رونا کب تک روئیں گے مسلمان خود اپنے مسائل کے حل کی کوشش کیوں نہیں کرتے ہیں ہر سال کروڑوں روپے کی زکوٰۃ نکلتی ہے آخر وہ زکوٰۃ کہاں جاتی ہے مسلم معاشرے میں رسم ورواج پر لاکھوں روپئے خرچ کئے جاتے ہیں۔

شادیوں میں فضول خرچی ہوتی ہےاولیائے کرام کی درگاہوں پر صندل کے لئے سالانہ کروڑوں روپئے خرچ کیا جاتا ہے اللہ کے ولیوں نے خود سادہ زندگی گزاری ہے اور اپنے پیروں کو سادگی سے زندگی گزارنے کا سبق سکھایا ہے ۔ اگر ملّتِ اسلامیہ اپنی فضول خرچیوں پر قابو پانے کی کوشش کرے تو ہم ہر سال ایک کالج قائم کر سکتے ہیں اور قوم کی بیٹیوں کو عزت و احترام کے ماحول میں تعلیم دلائی جاسکتی ہے۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!