تبدیلی، جذباتی نعروں اور انقلاب، جلسے جلوسوں سے نہیں بلکہ ٹھوس اقدامات اور بامقصد کام سے آتے ہیں

آج کی اس تیز رفتار دنیا میں ہزاروں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ لیکن تحقیقات بتاتی ہیں کہ %96 فیصد زبانوں کا وجود وسیع ترین انٹرنیٹ کی دنیا میں نہیں ہے۔ اور سب اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ صرف 4 فیصد زبانوں کا راج ہے۔ جس میں چند ہی زبانوں کی طوطی بول رہی ہے۔

یاسین بھکبا ساحلؔ، بھٹکل

دنیا کی بے ثباتی سے انکار کرنا گویا شمس وقمر کے وجود سے انکار کرنے کے مترادف ہے۔ یہاں کسی چیز کو اقرار حاصل نہیں۔ یہاں تبدیلی ہی تبدیلی ہے۔ یہاں کسی کو دوام نہیں۔ نہ افراد کو، نہ قوموں کو، نہ تہذیبوں کو، نہ تمدنوں کو، نہ بولیوں کو، نہ زبانوں کو۔ ہر چیز یہاں بدلتی رہتی ہے۔ اور اپنے وجود کی جنگ لڑتی رہتی۔

یہاں صرف وہی باقی رہتا ہے جس کے اندر اس مستقل تغیر کو برداشت کرنے کی قوت ہوتی ہے ۔

ہم جانتے ہیں پتھروں کے غاروں میں رہنے والا انسان جب اس تغیر کو قبول کرتا ہے تو اڑن کھٹولے میں بیٹھ کر آسمانوں کی سیر کرنااس کے لئے ممکن ہو جاتا ہے ۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں جن قوموں نے، جن تہذیبوں نے اپنی قدامت پسندی کا راگ الاپنا بند نہیں کیا،قدرت کے قانون نے انہیں صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تبدیلی دنیا کا ناقابل تبدیلی قانون ہے۔

آج کی اس تیز رفتار دنیا میں ہزاروں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ لیکن تحقیقات بتاتی ہیں کہ %96 فیصد زبانوں کا وجود وسیع ترین انٹرنیٹ کی دنیا میں نہیں ہے۔ اور سب اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ صرف 4 فیصد زبانوں کا راج ہے۔ جس میں چند ہی زبانوں کی طوطی بول رہی ہے۔

تبدیلی جذباتی نعروں سے نہیں آتی۔ انقلاب جلسے جلوسوں سے نہیں آتے بلکہ ٹھوس اقدامات اور بامقصد کام سے آتے ہیں۔ آج یوم اردو کے موقع پر ہمیں اس حقیقت کو قبول کرنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی زبان کی بقاء اور ترقی اس وقت ممکن ہے جب افراد اسے سیکھنا اپنی ضرورت سمجھیں۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک اجنبی زبان جس کے علمبرداروں نے دنیا کے بہت سے ملکوں پر اپنے رعب اور دبدبے کا سکہ جما رکھا۔ ظلم وبربریت کا راج کیا۔ اور جنہوں نے ہماری زمینوں پر حکومت کی آج ان لوگوں سے زمین خالی ہونے کے باوجود تہذیبی، تمدنی، ثقافتی اور لسانی اعتبار سے ان کی پیروی ہی نہیں بلکہ غلامی کی جا رہی ہے۔ وجہ مجبوری ہے۔ دنیا کے بیشتر علوم اس زبان میں ترجمہ کیے گئے اور اس زبان کو سیکھنا یونیورسٹیوں سے سند حاصل کرنے کا واحد ذریعہ بن گیا۔

کسی بھی زبان کو ترقی کرنے کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ آج کے جدید علوم کو اس زبان میں ترجمہ کیا جائے۔ لوگوں کی ضرورت کی چیزیں اس زبان میں میسر ہوں۔ تب جا کر وہ زبان پھلے گی پھولے گی۔

رسم الخط کسی بھی زبان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر کسی زبان کو اس کے رسم الخط سے الگ کردیا جائے تو چند سالوں میں پوری زبان اس زبان کی غلام بن جائے گی جس کے رسم الخط میں اسے لکھا جاتا ہے۔

آج اردو کے ساتھ یہی المیہ ہے اردو کے مدرسین سے لے کر اردو زبان کی خدمت کا دعوی کرنے والے اردو کے مشہور و معروف ویب سائٹس تک اس جرم میں مبتلا ہیں۔ اردو رسم الخط کے بجائے اردو کے مواد کو فروغ دینے میں لگے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!