بھوپال: حمیدیہ اسپتال میں آگ لگنے سے 4 بچوں کی موت، 36 کو بحفاظت نکالا گیا

مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کے حمیدیہ اسپتال میں پیر کی رات آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا، یہاں 4 بچے جھلس کر جان بحق ہو گئے، آگ کملا نہرو عمارت کے شعبہ اطفال میں لگی تھی

بھوپال: مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کے حمیدیہ کیمپس میں پیر کی رات ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ یہاں کملا نہرو عمارت کے شعبہ اطفال میں آگ لگ گئی۔ اس حادثے میں 4 بچے جھلس کر جاں بحق ہو گئے۔ ’ایس این سی یو‘ (نومولودوں کے لئے مختص انتہائی نگہداشت شعبہ) میں کل 40 بچے داخل تھے جن میں سے 36 بچوں کو دوسرے وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔ تاہم آگ لگنے کی وجہ کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا۔ وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے حادثے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے اس واقعہ کو ‘انتہائی تکلیف دہ’ قرار دیا ہے۔

حمیدہ اسپتال میں جان گنوانے والے بچوں کی والداؤں کے نام شیوانی، عرفانہ، شازمہ اور رچنا ہیں۔ وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے اس حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ انہوں نے واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کی تحقیقات محکمہ صحت اور میڈیکل کے ’اے سی ایس‘ محمد سلیمان کریں گے۔

آج تک کی رپورٹ کے مطابق طبی تعلیم کے وزیر وشواس سارنگ بھی اسپتال پہنچے اور امدادی کارروائی میں تعاون کیا۔ اسپتال سے موصول ہونے والی ویڈیو میں وزیر وشواس سارنگ کو اسپتال کے حکام کے ساتھ مل کر کام کرتے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق وشواس سارنگ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ وارڈ کے اندر کی حالت ‘انتہائی خوفناک’ تھی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سی ایم شیوراج نے مرنے والے بچوں کے لواحقین کے لئے 4–4 لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔

ایک عہدیدار کے مطابق آگ عمارت کی تیسری منزل پر لگی، جس میں آئی سی یو بھی واقع ہے۔ فتح گڑھ فائر اسٹیشن کے انچارج زبیر خان نے بتایا کہ آگ رات 9 بجے کے قریب لگی اور فائر بریگیڈ کی 10 گاڑیاں آگ پر قابو پانے کے لیے موقع پر پہنچ گئی تھیں۔ انہوں نے بھی شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

دریں اثنا، مشتعل لواحقین کا الزام ہے کہ اسپتال کا عملہ بچوں کی جان بچانے کے بجائے خود وہاں سے فرار ہو گیا۔ اسپتال میں موجود ایک خاتون نے بتایا کہ چاروں طرف دھواں ہی دھواں نظر آ رہا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!