مغربی بنگال کا اینٹی لنچنگ بل فاشسٹ بربریت کے خلاف ایک انتہائی مثبت قدم: SDPI

نئی دہلی: 8/ستمبر (پی آر) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے قومی نائب صدر دہلان باقوی نے مغربی بنگال اسمبلی کی جانب سے لنچنگ (ہجومی تشدد) کے خلاف بنائے گئے قانون کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے بنگال وزیر اعلی ممتا بنرجی کو اس انتہائی مثبت اور بر وقت اقدام کیلئے مبارکباد دی ہے۔

جس سے دائیں بازو کے ہندوا فاشسٹ گلی کے غنڈوں پر قانونی کارروائی ہوگی اور ان پر شکنجہ کسا جاسکے گا۔ مغربی بنگال اسمبلی نے گزشتہ جمعہ کو اینٹی لنچنگ بل منظور کیا تھا۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی کی جانب سے پیش کردہ بل میں مذہب، نسل، ذات، جنس، جائے پیدائش، زبان، کھانے پینے کے طریقوں، سیاسی وابستگی، نسلی یا کوئی اور بنیادوں پر ہجوم کی طرف سے تشدد کی کسی بھی کوشش یا فعل کی وضاحت کی گئی ہے۔

ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر دہلان باقوی نے امید ظاہر کی ہے کہ بل میں مجوزہ سزائیں جیسے زیادہ سے زیادہ عمر قید اور جرمانے کے طور پر 1لاکھ سے5لاکھ رروپئے،اور جو لوگ ان کی مدد کرنے کے مرتکب پائے جاتے ہیں ان کوتین سال قید اور زیادہ سے زیادہ 1لاکھ روپئے جرمانہ، جسمانی یا الیکٹرانک کسی بھی طریقے سے جارحانہ مواد کی اشاعت، بات چیت نشر کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ ایک سال قید اور 50ہزار روپئے تک کا جرمانہ، کسی شخص یا افراد کیلئے معاندانہ ماحول پیدا کرنے والوں کو زیادہ سے زیادہ تین سال قید اور ایک لاکھ روپئے تک کا جرمانہ سے یقینی طور پر ہندوتوا غنڈوں پر لگام لگایا جاسکتا ہے۔

ہجومی تشدد ایک ایسی اصطلاح ہے جو فاشسٹ نواز میڈیا کی جانب سے ہندوتوا فاشسٹوں کی جانب سے سڑکوں پر انسانوں کو مارنے اور جئے سری رام نہ کہنے پر یا گائے کا گوشت کھانے پر بے رحمانہ اور ظالمانہ غنڈہ گردی سرگرمی کو دیا گیا ہے۔ بی جے پی اور اس کے حلیفوں کے زیر اقتدار ریاستوں میں حکمرانوں کی حمایت کے ساتھ یہ غنڈہ گردی تقریبا ایک معمول بن چکی ہے۔ مسلمان اور دلت اس بدمعاشی کا سب سے بڑا شکار ہیں اور اس طرح ان مقدمات کے مجرموں کو بالکل سزا نہیں دی جاتی ہے جو کہ مجرموں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر اس ظلم کا شکار مسلمان یا دلت ہیں تو یہ جرم نہیں ہے۔

ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر دہلان باقوی نے کہا ہے کہ مغربی بنگال کی مذکورہ قانون سازی فاشسٹوں کیلئے صحیح پیغام ہے جو انسانیت سوز سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے دیگر تمام غیر بی جے پی ریاستوں پر زور دیا کہ وہ مغربی بنگال کی پیروی کرکے سخت قانون بنائیں تاکہ روڈ پر لوگوں کو پیٹ پیٹ کر ماردینے کے اس غنڈہ گردی کو ختم کیا جاسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!