کیا قوم نے یہ بھلا دیا۔۔۔ ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے!

سرفراز احمد قاسمی، حیدرآباد

ملک بھر میں اسوقت جوحالات ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہیں،پورے ملک میں افراتفری مچی ہوئی ہے،بے اطمینانی  اورغیر یقینی کیفیت کا ماحول پیدا ہوگیاہے، شدت پسندی کا عالم یہ ہے کہ ملک کی ہرریاست اور تقریباً ہر شہر میں فرقہ واریت کا زہر گھول دیاگیاہے،ماحول اس حدتک پراگندہ ہوگیاہے کہ لوگ اب اپنے پڑوسیوں پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں، آج ہمارا ہندوستان انتہائی مشکل دور سے گذر رہاہے، ملک میں شاید ہی اب کوئی ایسا دن گذر رہاہے جب فرقہ وارانہ جنونیت کا کہیں نہ کہیں کوئی مظاہرہ نہ کیاجارہا ہو، ایسا محسوس ہوتاہے کہ عوام اور خاص طور پر نوجوانوں کے ذہنوں میں فرقہ پرستی اورشدت پسندی کا ایسا زہر گھول دیاگیاہےکہ اب اسکے علاوہ انھیں کوئی بات ہی سمجھ میں نہیں آتی،اور وہ مسلسل فرقہ واریت کے جنون کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔

گذشتہ چند دنوں کے دوران اس طرح کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے کہ ایسے واقعات پہلے پیش نہیں آئے بلکہ پہلے بھی درجنوں ایسے واقعات رونما ہوئے، جس کے نتیجے میں ہجومی تشدد کے ذریعے بے گناہ اور معصوم مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتاردیاگیا،تاہم ان واقعات میں کورونا وباء اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہت حد تک کمی آگئی تھی،لوگ بحران کی کیفیت سے دوچار اپنے اپنے مسائل کو لیکر پریشان تھے،لیکن جیسے ہی اترپردیش الیکشن کےلئے وقت قریب آنے لگا ہے، ملک بھر میں اسطرح کے واقعات میں تشویشناک حدتک اضافہ ہوگیاہے۔ کہیں چوڑیاں فروخت کرنے والے کو نشانہ بنایا جارہا ہے تو کہیں اسکراپ فروخت کرکے گذر بسر کرنے والے مسلم شخص کو ٹارگیٹ کیاجارہا ہے۔

حیرت اس بات کی ہے کہ ایسے واقعات پر حکومت کی جانب سے ان معاملات پر نہ کوئی بیانات آرہے اور ناہی اسکی مذمت کی جارہی ہے اورنہ اس پرروک لگانے کےلئے کوئی معمولی قدم اٹھایاجارہاہے۔

پھرکیا یہ سمجھنا غلط ہے کہ

کیا یہ سب حکومت کے اشارے پر ہورہاہے؟
یہ ملک کا سنگین مسئلہ اور ترقی میں رکاوٹ نہیں ہے؟
کیا اسظرح کے واقعات ملک کی پیشانی پر بدنما داغ نہیں ہیں؟
حکومت ایسے واقعات کی روک تھام کےلئے سنجیدہ کیوں نہیں؟
ملک کا میڈیا بھی ایسے واقعات سے مجرمانہ چشم پوشی کیوں کررہاہے؟

مدھیہ پردیش کے اجین کے ایک گاؤں میں،دو نوجوانوں نے اسکراپ کا کاروبار کرنے والے ایک مسلم تاجر کو پکڑ لیا اور پھر اسے زبردستی جے شری رام کے نعرے لگانے کےلئے مجبور کیاگیا،ان دونوں نوجوانوں نے اس مظلوم شخص کے سازوسامان کو بھی راستے میں پھینک دیا،اور کہاکہ اگر یہاں تجارت کرناہے تو یہ نعرہ تمہیں  ہرحال میں  لگانا ہوگا،پولس نے ان دونوں کو گرفتار توکرلیا اورمقدمہ بھی درج کیاہے۔

لیکن سوال یہ ہےکہ آخر اس حدتک فرقہ واریت کاجنون کیوں پیدا ہوگیاہے؟

وہ کونسے عوامل وعناصر ہیں جنکی وجہ سے نوجوانوں کے ذہنوں میں مستقبل اورترقی کی باتیں نہیں ہیں، بلکہ وہ ہندو مسلم کی نظر سے سماج کو دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں۔

نوجوانوں کو ملک وقوم کو درپیش مسائل کی کوئی فکر کیوں نہیں ہے؟
وہ ملک کی ترقی میں اپنا رول اداکرنے کی فکر کیوں نہیں کررہےہیں؟
ملک کے نوجوان طبقاتی اور فرقہ واریت کی جنون کا شکار کیوں ہوگئے؟

اجین کے سیکلی نامی گاؤں میں یہ واقعہ دوتین دن قبل پیش آیا، ملک بھر میں ایسا لگتاہے کہ ایک منظم منصوبے کے تحت فرقہ واریت کے جنون کو تھمنے کا موقع نہیں دیاجارہاہے،ایک واقعہ کے بعد دوسرا واقعہ چل پڑتاہے،لیکن یہ بات بھی غور طلب ہےکہ آخر ایسے واقعات کا تعلق اکثر اترپردیش، مدھیہ پردیش یا پھر انھیں ریاستوں سے کیوں ہوتاہے جہاں بی جے پی کی حکومت ہے؟مدھیہ پردیش کے اس واقعہ سے قبل بریلی اور اندور میں بھی ایک ہفتے کے اندر ایسے واقعات پیش آئے، اندور شہر میں چوڑیاں فروخت کرنے والے ایک مسلم نوجوان کو جنونیت پسندوں نے اپنی بزدلی کانشانہ بنایا اور درجنوں افراد نے مل کر ایک نوجوان پر اپنی بھڑاس نکالی اور اسے زدوکوب کرنے کے علاوہ ان کے پیسے اورموبائیل چھین لئے گئے، اسکے سازوسامان کو تباہ کردیاگیا،بریلی میں بھی ایک ہجوم نے مسلم شخص کو نشانہ بنایا انکے ساتھ ظلم وزیادتی اور مارپیٹ کی،ان سے زبردستی جے شری رام کے نعرے لگوائے گئے، آپ کو یاد ہوگا کچھ دن قبل اترپردیش کے کانپور میں بھی اسی طرح کا واقعہ ایک رکشہ چلانے والے مسلم نوجوان کے ساتھ بھی پیش آیاتھا، اسکی چھوٹی معصوم بچی اپنے  باپ کو بچانے کےلئے فریاد کرتی رہی،لیکن ہجومیوں نے ایک نہ سنی اور اس مسلم رکشہ راں کو پیٹاگیا،ان پر غلط الزامات عائد کئے گئے،اسطرح کے واقعات پورے ملک میں یکے بعد دیگرے پیش آتے جارہے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کےلئے مقامی انتظامیہ اورحکومتیں کتنی سنجیدہ ہیں؟

ایسے واقعات کا ظہور ہوتارہے اورسماج میں فرقہ پرستی کا زہر گھلتارہے، حکمراں طبقے کی سوچ یہ ہے کہ اسی طرح اپنے سیاسی عزائم اور منصوبوں کو پورا کیاجاسکتاہے،عوام کے درمیان انکے مسائل پر بات کرنے اورحکومت کی کارکردگی پیش کرنے کےلئے تو کوئی لیڈر تیار نہیں ہے، ایسے میں صرف فرقہ پرستی کی آگ بھڑکاتے ہوئے ہی سیاسی روٹیاں سینکی جارہی ہیں،افسوس کی بات تو یہ بھی ہے کہ ذمہ داران کی جانب سے ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کے بجائے حملہ آوروں اور جنونیت پسندوں کے حق میں جواز پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جو حکام اور انتظامیہ کی متعصب ذہنیت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ اندور میں ایک نہتے مسلم نوجوان جواپنی روزی روٹی کمانے میں مصروف ہے،انکو پیٹا جاتاہے،ان سے رقم چھین لی جاتی ہے،اسکے مال کوتباہ کردیا جاتاہے،اتنا سب ہونے کے باوجود ریاست کے وزیر داخلہ اس پر یہ جواز پیش کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ اس نوجوان نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی تھی،سوال یہ ہے کہ ہجوم کو آخر کس نے یہ اختیار دیدیا ہے کہ وہ کسی کی شناخت پر سوال کرے؟اگر متاثرہ نوجوان کے تعلق سے کسی کو کوئی شک وشبہ یا اندیشہ تھا تو پولس کو مطلع کیاجاتا۔

جنونیت پسندوں کو قانون ہاتھ میں لینے کا اختیار کس نے دیا؟

راجستھان میں بھیک مانگنے والے مسلم شخص کوصرف اسلئے جی بھرکر پیٹاگیا کہ وہ مسلم تھا،زدوکوب کرنے کے بعد ان سے کہاگیا کہ اگر بھیک مانگناہے تو پاکستان جاؤ، کیااب کسی ضرورت مند اورفقیر کواپنا مذہب ظاہر کرنا پڑےگا تب ہی انکی مدد کی جائےگی؟ 

جہاں تک پولس کا سوال ہے تو اب پولس متاثرین کی مدد کرنے کے بجائے حملہ آوروں اور ظالموں کو بچانے کی بہت حدتک کوشش کرتی ہے، ورنہ کیا وجہ ہے کہ جنکے زہریلے نعروں کی وجہ سے دہلی میں فساد برپا ہوا،جنتر منتر پر نفرت انگیز نعروں کے ذریعے فضاء کو مسموم کی گئی آج تک ان کے خلاف پولس نے کوئی کارروائی نہیں کی،لیکن کوئی معاملہ جب مسلمانوں سے متعلق کردیاجائے تب دیکھئے ملک کی پولس کیسے حرکت میں آجاتی ہے اور فوری کارروائی شروع کردیتی ہے،شاہین باغ، جامعہ ملیہ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سمیت پورے ملک میں آپ نے دیکھا کہ پولس کتنی تیزی کےساتھ مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں کرتی نظرآئی،دہلی فساد کے موقعے پر بڑی تعداد میں مسلمانوں کو گرفتار کیاگیا، جب کہ اصل مجرم آزادی کے ساتھ آج بھی  گھوم رہے ہیں۔ 

ملک کی ایسی صورتحال کا ذمہ دار کون؟

بھارت میں بے روزگاری عروج پر ہے، کورونا وباء نے بے شمار مسائل پیدا کردیئے ہیں، لاکھوں افراد فوت ہوچکے ہیں، کروڑوں افراد اس وباء سے متاثر ہیں، نہ جانے کتنے خاندان اجڑگئے، ہم نے وہ دور بھی دیکھا کہ کورونا مہاماری کے دوران لوگوں کے پاس اپنوں کی آخری رسومات ادا کرنے تک کی گنجائش نہیں رہ گئی تھی، دواخانوں میں لوٹ مارمچی، آکسیجن کےلئے لوگوں نے تڑپ تڑپ کر سانسیں توڑی، ملک میں مہنگائی اپنےعروج پر ہے، ہرضروری اور لازمی شئےکی قیمتیں آسمان چھورہی ہیں، نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہاہے، جو روزگارموجود ہیں انکی کوئی ضمانت نہیںرہ گئی ہے، سرکاری اثاثہ جات کو حکومت کی جانب سے مسلسل فروخت کیاجارہا ہے، کئی ایک ایسے ادارے جو عوامی  ملکیت تھے اسےپرائیویٹ کمپنیوں کو سونپ دیاگیا، پٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتیں 70سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ ہوگئی ہیں،عوام دووقت کی روٹی کے لئے مجبور ہوگئے ہیں،خواتین کی عزت وآبرو تک محفوظ نہیں رہ گئی ہے، دلت خواتین اور لڑکیوں کی مسلسل اجتماعی عصمت ریزی ہورہی ہے،اور انھیں قتل کیاجارہا ہے، ثبوت مٹائے جارہے ہیں،اپنی بیٹیوں کےلئے جدوجہد کرنے والوں کو پولس تحویل میں موت کے گھاٹ اتارا جارہاہے۔

کیا یہ سب نفرت، شدت پسندی، غنڈہ گردی اور ظلم وبربریت نہیں ہے؟
آخر ان چیزوں پر لگام لگانے کےلئے حکومت نے کیااقدام کیا؟
کیا اسطرح بھارت متحد رہ کر مضبوط اور طاقتور بن سکے گا؟

اوپر جو واقعات بیان کئے گئے یہ چند بیان  کئےگئے ہیں اور اس میں غریب مزدور  وعام مسلمانوں کو نشانہ بنایاگیاہے لیکن ملک میں مسلم لیڈران اور پڑھے لکھے لوگ بھی ظلم وستم اور جبرتشدد اورناانصافیوں سے محفوظ نہیں ہے،چاہے وہ اعظم خان ہوں،مختار انصاری ہو،شفیق الرحمن برق ہو،مولانا سجاد نعمانی ہوں،ڈاکٹرظفرالاسلام ہوں یاپھر  جسٹس عقیل قریشی ہوں یہ سب کے سب حکومت کی ناانصافی،پولس کی تنگ نظری اور نفرت وتعصب کی وجہ سے ظلم وستم کا شکار ہیں،اورایساصرف انکے مسلمان ہونے کے سبب ہورہاہے،ایک بیان کو بہانہ بناکر ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر شفیق الرحمن برق  اور مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی پر ایف آئی آر درج ہوسکتاہے،لیکن دہلی فساد کے ملزم انوراگ ٹھاکر اور کپل مشرا جیسے  لوگوں پرکوئی ایف آئی آر نہیں ہوسکتا،دہلی کے جنترمنتر پر مسلم مخالف اوراشتعال انگیز نعرے بازی حکومت  کے نزدیک کوئی جرم نہیں ہے، اعظم خان اور مختار انصاری وغیرہ انتقامی سیاست کے شکار ہیں۔

جسٹس عقیل قریشی کے بارے میں سینئر صحافی اورانقلاب کے ایڈیٹر محترم ودود ساجد صاحب لکھتے ہیں کہ”سپریم کورٹ نے پہلی بار اتنی زیادہ تعداد میں ججوں کی تقرری دیکھی ہے لیکن یہ بھی پہلی بار ہورہا ہے کہ سپریم کورٹ کے 9 نئے ججوں میں ایک بھی مسلمان شامل نہیں ہے،ایسا نہیں ہے کہ ملک بھر کی ہائی کورٹس  میں ایک بھی مسلم جج اس صلاحیت کا نہ ہو کہ جسے سپریم کورٹ کےلئے منتخب کیاجاسکے،لیکن ایک نام ایسا ضرور ہے کہ جسکے ساتھ فرقہ وارانہ بنیاد پر ہی نہیں بلکہ حکومت کی ذاتی ناپسندیدگی کی بنیاد پر کھلی ناانصافی کی گئی ہے، جسٹس عقیل قریشی اسوقت تری پورہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہیں،بنیادی طور پر انھیں سپریم کورٹ کالجیم نے 2019 میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کےلئے منتخب کیاتھا، لیکن مودی حکومت نے اس پر سخت اعتراض کیا اور اسوقت کے چیف جسٹس ایس اے بوبڈے نے کالجیم کی قرارداد میں ترمیم کرکے انھیں تری پورہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر پیش کردیا۔

یہ نکتہ دلچسپی سے خالی نہیں کہ مدھیہ  پردیش ہائی کورٹ میں 40 جج ہوتے ہیں جبکہ تری پورہ ہائی کورٹ میں صرف 5 جج، حکومت کو اعتراض تھاکہ جسٹس عقیل قریشی کو اتنی بڑی ہائی کورٹ کا چیف جسٹس کیوں بنایاجارہاہے؟ جسٹس قریشی دراصل بنیادی طور پر گجرات ہائی کورٹ سے تعلق رکھتے ہیں،وہ 2019 میں گجرات ہائی کورٹ کے سب سے سینئر جج تھے،اس اعتبار سے انھیں گجرات ہائی کورٹ کا ایکٹنگ چیف جسٹس بنایاجانا تھا، لیکن اس سے پہلے ہی انکا ممبئی ہائی کورٹ میں تبادلہ کردیاگیا،جس پر گجرات ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن نے سخت اعتراض کیا،انکے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر ہڑتال بھی کی گئی، یہاں تک کہ ممبئی ہائی کورٹ کے بار ایسوسی ایشن نے بھی انکے ساتھ اس سلوک پر اعتراض کیا۔

واضح رہے کہ جسٹس قریشی ججوں کی آل انڈیا رینکنگ میں دوسرے سب سے سینئر جج ہیں، پہلے نمبر پر کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اے ایس اوکا تھے، جنھیں اب سپریم کورٹ میں جج بنادیاگیا ہے، 9 نئے ججوں میں بھی وہی اسوقت سینئر ہیں، جسٹس اوکا کے ساتھ جسٹس عقیل قریشی کو بھی سپریم کورٹ میں بلایا جانا چاہئے تھا، لیکن باقی 8ایسے ججوں کو منتخب کیاگیا جو جسٹس قریشی سے بہت جونیئر ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ جسٹس عقیل قریشی سے مودی حکومت کو ایسی کیا پریشانی، پرخاش اور عداوت ہے کہ  وہ گجرات ہائی کورٹ سے انکا پیچھا کرتی آرہی ہے اور انھیں ایسے ہر موقع پر زک دینا چاہتی ہے کہ جس کے بعد سپریم کورٹ میں انکا آنا مشکل ہوجائے، اس سوال کا جواب بہت آسان ہے، اسکےلئے دستاویزات کھنگالنے کی ضرورت نہیں، واقعہ یہ ہے کہ جسٹس عقیل قریشی ہی وہ جج تھے جنھوں نے (موجودہ وزیر داخلہ) امیت شاہ کو 2010 میں سہراب الدین شیخ کے انکاؤنٹر کے معاملے میں پولس کی حراست میں بھیج دیاتھا، امت شاہ گجرات میں بھی وزیر داخلہ تھے، انکے پاس اسکے علاوہ بھی بہت سی وزارتیں تھیں”

سنی آپ نے یہ کہانی؟ یہ ہے جسٹس عقیل قریشی کا اصل جرم جسکی وجہ سے انکے ساتھ اتنی بڑی ناانصافی کی گئی، دیکھا آپ نے ایک مسلم اور قابل جج کے ساتھ جب ظلم وزیادتی اور ناانصافی ہورہی ہے تو پھر عام مسلمانوں کے ساتھ اس ملک میں انصاف کیسے ہوگا؟

کیا اب بھی ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہےکہ
آخر ہمارا ملک کس راستے پر جارہا ہے؟
کب تک مسلمانوں کے ساتھ ظلم وبربریت کا طوفان برپا ہوتارہےگا؟ 
آخرکب بھارت میں ہمارے ساتھ عدل وانصاف ہوگا؟
کیا یہی دن دیکھنے کےلئے ہم نے اس ملک کو آزاد کرایا اورقربانیاں دیں؟

بھارت کی حالت گذشتہ چند برسوں میں جوہوئی ہے اس پر امریکہ تک کو تشویش ہے، اسی سال مارچ میں امریکی وزیر خارجہ نے انسانی حقوق سے متعلق سالانہ رپورٹ جاری کیاتھا،اس رپورٹ میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ”ہندوستان میں مسلمانوں پر مظالم ہورہے ہیں،غیر معمولی طور پر وہاں انسانی حقوق کے مسائل سنگین بنتے جارہے ہیں،ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ دیگر اقلیتوں پر بھی سرکاری حکام اور پولس کی جانب سے ظلم وزیادتیاں کی جارہی ہیں،ان پر تشدد کیا جارہا ہے، پولس ماورائے عدلیہ کارروائی کرتے ہوئے بے قصور اقلیتوں کو ہلاک کررہی ہے،اندھا دھند گرفتاریاں کی جارہی ہے،اظہار خیال کی آزادی پر پابندی عائد کرتے ہوئے جیل میں ڈالا جارہا ہے، صحافت کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی جارہی ہے، خواتین، مذہب کی بنیاد پر اورسماجی رتبے کے حامل افراد کے بشمول اقلیتی گروپ کے ارکان کو پرتشدد نشانہ بناتے ہوئے انکے ساتھ امتیازی سلوک کیاجارہا ہے، ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے گروپوں کو سب سے زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔

امریکی رپورٹ میں ہندوستانی وزارت داخلہ کی 2016 سے لیکر2017 تک کی رپورٹ کے اعدادوشمار کا بھی تذکرہ کیاگیا،جسکے مطابق مذکورہ ایک سال کے عرصے میں فرقہ وارانہ فسادات اور مذہبی بنیادوں پر تشدد میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے، امریکہ نے دنیا میں انسانی حقوق سے متعلق یہ بھی نوٹ کیاکہ ایران،چین،روس اور شام سمیت کئی ممالک میں اپوزیشن قائدین کو پرتشدد نشانہ بنایا جارہاہے  اورانکے خلاف کارروائی کرتےہوئے انھیں جیل میں ڈالا جارہا ہے،کانگریس کو پیش کردہ رپورٹ میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ سے امداد حاصل کرنے والے ممالک اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے انسانی حقوق اورشہری آزادیوں کی صورتحال کااحاطہ کیاہے،2020 میں بہت سے بے قصور افراد حکمرانوں کے پیدا کردہ سفاک اور ابتر ماحول میں مصائب کاشکار ہورہے ہیں،رپورٹ میں ہندوستان اور چین کا بطور خاص حوالہ دیاگیاہے”

ملک کی موجودہ صورتحال کو دیکھئے اور اس امریکی رپورٹ کو غور سے پڑھئے تو معلوم ہوگا کہ اس رپورٹ میں اور بھارت کے موجودہ حالات میں کتنی یکسانیت ہے،جبکہ یہ رپورٹ کئی ماہ قبل پیش کی گئی ہے، اب تو ہرگذرتا دن مسلمانوں کےلئے مشکل سے مشکل تر ہوتاجارہاہے، ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا ملک کے مسلمان، اس متعصب حکومت پر بھروسہ کرنے کے بجائے کوئی قدم اٹھانے کےلئے تیار ہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!