لاک ڈاؤن ظلم ہے۔۔۔

✍: سمیــع اللّٰہ خان

ایک بار پھر ملک میں کرونا وائرس کا ہوّا کھڑا کرکے لاکڈااون لگانے کا ارادہ بنایا جارہاہے، رمضان کے قریب مذہبی مقامات پر پابندی لگانے کا عزم کیا جارہاہے، جرمانہ دوگنا کیا جارہاہے، ماسک اور کرونا جانچ کے نام پر ڈرانے اور لوٹنے کا عمل تیز کیا جارہاہے
کرونا کےنام پر یہ بہت ہی ظالمانہ اور استحصالی نظام بنتا جارہا ہے جس سے عام انسان، غریب مزدور اور انسانی آبادی مر مر کے جینے پر مجبور ہے،

کئی مہینوں کے طویل لاکڈاؤن نے جو تباہیاں مچائی، جس قدر بھوک غربت بےروزگاری دیوالیہ پن اور مفلسی کو انگیز کیا ہے وہ سب کےسامنے ہے، مزید جرائم پیشہ معاملات میں بھی اضافہ ہوا ہے، ہم بھارت جیسے ملک میں لاکڈاؤن کو اسی لیے خودکشی اور قتلِ عام کہتے تھے کیونکہ بھارت میں لاکڈاؤن جیسی چیزیں اس ملک کی فطرت کےخلاف ہیں، اب لاکڈاؤن سے تو کرونا کیخلاف کچھ ملا نہیں، بھکمری بےروزگاری اور کاروباری دیوالیہ نکلنے والوں کا صرف ماتمی چہرہ بچا ہے، لاکڈاون کے ایک سال بعد بھی کیا وہ لوگ اپنی غلطی تسلیم کریں گے جو اسے نافذ کروانے میں زوروشور سے شریک تھے؟ جن لوگوں نے اسے نافذ کروانے کی تائید کی تھی وہ یا تو قصر و محلات والے رؤسا تھے یا بینک بیلنس رکھنے والے شہنشاہ تھے، یا بڑی تنظیموں کے مالکان تھے، جن پر یقیناﹰ کچھ بھی فرق نہیں پڑا… ہاں ان کے لیٹر۔پیڈ نے انہیں نئی دنیا کے بعض ماڈرن اور چکاچوند حلقوں میں انٹلکچوئل ضرور ثابت کردیا، اور لاکڈاؤن میں سرکاری معاونت کےذریعے ان کی کچھ توجہ حاصل کرلیے، اس کےعلاوہ کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہوا،

دوسری طرف گراؤنڈ حقیقت یہ رہی کہ۔ کرونا لاکڈاون کی پابندیوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ابتداء لاکڈاون سے اب تک ہر وہ کام ہوا ہے جو ہندوتوا یا مودی۔سرکار کےحق میں رہا ہو چاہے رام۔مندر میں پوجا یا سیاسی جلسے، سب ہوا ہے، ابھی بھی ہورہاہے، لیکن کرونا پھیلا ہے تو صرف تبلیغی جماعت، مرکز نظام الدین، تعلیمی اداروں یونیورسٹیوں اور غریبوں سے بس

لاکڈاؤن سے غریب مرگیا متوسط طبقہ سڑک پر آگیا مزدور طبقہ ایک دن کھاتا ایک دن بھوکا رہتاہے، اور کرونا کا بھوت جوں کا توں ہے، ایک سال ہوگیا، لیکن کوئی فرق نہیں پڑرہا، جب الیکشن ہوں تو لاکھوں لاکھ کی بھیڑ کی ریلیاں ہوتی ہیں جہاں بھی الیکشن ہوں کرونا بھاگ جاتاہے اور پھر کرونا پھیلنے لگتاہے، ایسے ڈراموں پر اب کیسے یقین کیاجائے؟ کیا یہ واضح اور صریح نتائج بھی لاکڈاؤن کے مؤید انسانوں کے اندر کے ضمیرِ انسانیت کو کچوکے نہیں لگاتی کہ کم از کم اب اپنی غلطی کا اعتراف کرلیں، لیکن حال یہ ہیکہ وہ ابھی بھی ماسک چڑھائے بغیر کھانا نہیں کھاتے_

لہذا میری سبھی ملی مذہبی سماجی و سیاسی قائدین سے اپیل ہیکہ، حکومت کے فرمانبردار اور بزدل بن کر کرونا کی سرکاری لائن پر ایمان مت لائیے ۔بلکہ غریب عوام اور معصوم انسانوں کو کرونا وائرس کے نام پر ظالمانہ سختیوں سے نجات دلانے کیلیے آگے آئیے، اللّٰہ سے ڈر کر آگے آئیے، لوگ لاکڈاؤن اور کرونا کی پابندیوں سے مرے جارہےہیں ان پر رحم کھائیے ورنہ وہ دن دور نہیں جب آپ ذمہ دار حضرات پر اوپر والا رحم نہیں کھائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Open chat
1
!Hello
!How Can I Help You
واٹس ایپ گروپ جوائن کرنے کیلئے نیچے لنک پر کلک کریں۔

https://chat.whatsapp.com/Cu3chd0osKYFJfN3AkBLQ9