علماء اور مشائخین سے لاکھوں عائشائیں پوچھ رہی ہیں۔۔۔۔

ڈاکٹر علیم خان فلکی، حیدرآباد

وہ تمام علما و مشائخین قابلِ مبارکباد ہیں جو عائشہ کی موت کے بعد جہیز کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ہر مسلک سے شادیوں کو آسان بنانے کی صدائیں بلند ہورہی ہیں، یہ انتہائی خوش آئند علامت ہے۔قاضی غیرشرعی نکاح پڑھانے سے انکار کررہے ہیں، اور مولانا حضرات ایک ڈِش سے زیادہ کی دعوتوں کے بائیکاٹ کی بات کررہے ہیں۔ کاش یہ جذبہ سالہاسال پہلے اُس وقت جاگ گیا ہوتا جب پہلی بار کسی نے خوشی سے جہیز لینے دینے کو جائز کیا تھا یا اُس وقت جب کسی عالم نے اُدھار مہرکو جائز کیا تھا۔ اگر اُس وقت کے علما اِن غیرشرعی امور کے خلاف اٹھ جاتے تو نہ یہ جہیز ہوتا نہ لاکھوں عائشاؤں کو خودکشی یا قتل کا سامنا کرنا پڑتا۔ جہیزکا یہ سانپ نہ اتنا بڑا ہوکر ازدھا بن جاتا نہ ہر گھر کو ڈستا۔

آج پورے ملک میں جہیز کے خلاف جلسے، ریلی، خطبے اور ویڈیوز کے ذریعے علما، مفتی، قاضی، لیڈر، سماجی ورکرز اور مشائخین سرگرمِِ عمل ہیں۔سبھی جہیز کو حرام کہہ رہے ہیں، لیکن کچھ شرطوں کے ساتھ۔ چلیں عائشہ کے طفیل اتنا تو ہوا کہ ہماری دینی قیادت میں کچھ تو ہلچل پیدا ہوئی۔ مگر جو بیانات سامنے آرہے ہیں، وہ کوئی انقلابی تبدیلی لانے والے نہیں، بلکہ کینسر کے مریض کو فوری آپریشن کے بجائے، وِکس یا بام لگانے والی ترکیبیں ہیں، تاکہ مریض کو اطمینان ہوجائے کہ کچھ تو علاج ہورہا ہے۔ جیسے
کچھ علما کہہ رہے ہیں کہ خودکشی حرام ہے۔
کچھ علما کا کہنا ہے کہ ”اگر جہیز کا مطالبہ کیا جائے تو بائیکاٹ کیا جائے(یعنی مطالبے کے بغیر جو مل جائے اس کوخوشی سے قبول کرلیا جائے)
بعض علما کہتے ہیں اگر شادی میں ڈی جے، ناچ گانا، پٹاخے، یا ویڈیو  وغیرہ ہوں تو بائیکاٹ کیا جائے
وہ علما جن کو کھڑے ہوکر کھانے سے چِڑ ہے وہ کہتے ہیں کہ بفے سسٹم کا بائیکاٹ کیا جائے،

ان تمام خرافات کے حرام ہونے میں کسی کو شبہ نہیں ہے۔ مگر یہ ساری برائیاں اصل مسئلہ نہیں ہیں، اور نہ اس قسم کے برائیوں کو روکنے سے خودکشیاں اور قتل یا Domestic violence رکنے والے ہیں۔ یاد رہے میّت کے سر کے بال مونڈھنے سے میّت کا وزن کم نہیں ہوتا۔ ان برائیوں کی حیثیت ثانوی یعنی Secondary importanceکی ہیں۔ اصل بیماری کی جڑ کچھ اور ہے، جس کو صرف چند علمابیان کرتے ہیں۔ جن کو آپ علماءِ حق کہہ سکتے ہیں۔ یہ ساری بُرائیاں جس چور دروازے سے خودبخود داخل ہوتی ہیں، پہلے اُس چور دروازے کو بند کرنے کی ضرورت ہے۔وہ چور دروازہ کیا ہے، یہ جاننے کے لئے صرف دو تین سوالات ہیں۔ اگر علما و مشائخین غور فرمائیں تو جہیز اور بارات کے کھانوں کا فتنہ آج بھی ختم ہوسکتا ہے۔

پہلا سوال یہ ہے کہ کیا شادی مکمل طور پر سنّت کے مطابق کرنی ضروری ہے؟  اگر ان میں منگنی اور بارات کا کھانا یا جہیز اور جوڑے کی رقم کو شامل کرلیا جائے تو کیا بُرائی ہے؟ اگر آپ فرماتے ہیں کہ یہ سب ہندوؤانہ رسمیں ہیں، ان کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں تو پھر ان رسومات کی شرعی حیثیت کیا ہے، یہ حرام ہیں، مکروہ ہیں، گناہِ صغیرہ ہیں، گناہِ کبیرہ ہیں، کفر ہیں، شرک ہیں یا کیا ہیں؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شدّت پسندی پر اُتر آئے اور ان غیرشرعی رسموں پر اصرار کرے،  وہ یہ سمجھے کہ رسول اللہ ﷺ کا کلچر الگ تھا آج کا کلچر الگ ہے۔ میں آج کے کلچر کے مطابق ہی شادی کروں گا، تو ایسے شخص کی دعوت قبول کرناجائز ہے یا ناجائز؟  اگر ناجائز ہے تو اس ناجائز کی شرعی حیثیت کیا ہے، وہ حرام ہے، مکروہ ہے، یا کیا ہے؟ اور اگر دعوت قبول کرنا  جائز ہے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے، فرض ہے، واجب ہے، سنت موکّدہ ہے، غیر موکّدہ ہے، نفل ہے، مستحب ہے، یا کیا ہے؟

کچھ علما نے کہا کہ یہ مباح ہے۔ لیکن یہ جھوٹ ہے۔ مباح تو اس عمل کو کہتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے خود نہیں کیا لیکن منع بھی نہیں فرمایا۔ جبکہ نکاح تو ٓآپ ﷺ نے خود بھی کئے، اور اپنی صاحبزادیوں کے بھی کروائے۔، لہذا جس طریقے سے آپ نے نکاح کیا وہ طریقہ قیامت تک ہر مسلمان کے لئے ایک ایسی سنت بن گیاجس کو بدلا نہیں جاسکتا۔
بعض علما فرماتے ہیں کہ یہ رسمیں عُرف کی بنیاد پر جائز ہیں۔ یہ بھی غلط ہے۔ عرف  تو اس مسلمان معاشرے کے چلن کو کہیں گے جس میں خلافِ شریعت کوئی بات نہ ہو۔ منگنی جہیز بارات وغیرہ ایک مشرک معاشرے کا عرف ہیں، نہ کہ کسی مسلمان معاشرے کا۔اگر باپ دادا کے زمانے سے یہ سسٹم چلا آرہا ہے تو یہ جائز ہونے کی دلیل نہیں بلکہ آبائی جہالت کی دلیل ہے۔

بعض علما ان دعوتوں کو مہمان نوازی کی حدیثوں کے ذریعے ثابت کرتے ہیں۔ یہ بھی غلط ہے۔ مہمان اور مدعوئین میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ مہمان Guest اپنی طرف سے خود آجاتا ہے۔ شادی میں جو لوگ آتے ہیں، وہ مہمان نہیں Invitees ہوتے ہیں، یعنی انہیں مدعو کیا جاتا ہے۔
بعض علما جہیز کو ھدیہ یا تحفہ کہہ کر جائز کرتے ہیں۔ یہ بھی غلط ہے کیونکہ جہیز ھدیہ کے Definition  پر ہرگز فِٹ نہیں ہوتا۔ ھدیہ صرف اسی چیز کو کہا گیا ہے جو ثواب کی نیت سے دیا جائے، جس میں دینے والے پر کوئی بار نہ ہو اور لینے والے سے کوئی غرض وابستہ نہ ہو۔ رشوت کو ھدیہ کہنا چوری اور سینہ زوری ہے۔ کوئی پولیس والا یا سرکاری افسر رشوت کو رشوت کہہ کر نہیں لیتا بلکہ Giftکہہ کر ہی لیتا ہے۔ اور دینے والا بھی خوشی سے ہی دینے کی ایکٹنگ کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

کچھ علما کہتے ہیں کہ دعوت قبول کرنا سنّت ہے، اس بنیاد پر اِن شادیوں میں شرکت جائز ہے۔ ہماری قوم کو پیٹ بھرنے والی ساری حدیثیں یاد ہیں، دعوتوں کا بائیکاٹ کرنے والی کوئی حدیث یاد نہیں۔ اس کا تفصیلی جواب ہماری کتاب ”مرد بھی بِکتے ہیں۔۔جہیز کے لئے“ میں ملاحظہ فرمایئے۔

کچھ علما یہ کہتے ہیں کہ خوشی سے دینے اور لینے کا جواز فتاویٰ عالمگیری اور فتاویٰ نذیریہ میں لکھا ہوا ہے۔ ضرور ہوگا۔ لیکن فقہ کا یہ اصول یا د رہے کہ اجماع یا فتویٰ جو بھی ہوتا ہے، وہ کسی مخصوص مقام اور حالات سے مشروط ہوتا ہے۔ حالات اور مقام بدلنے کے ساتھ ہی اگر علما نئے سرے سے اجتہاد نہ کریں وہ مذہب بدھ مت یا ہندومت کی طرح فرسودہ Conservative سنسکاروں کا مجمع بن جاتا ہے۔ فتاویٰ عالمگیری  375 years قبل لکھی گئی، فتاویٰ نذیریہ اور فتاویٰ رضویہ  150 yrs پہلے لکھے گئے، اس وقت کے حالات الگ تھے۔

اگر آپ شادیوں کے سسٹم کو کرونالوجیکل آرڈر میں دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جہیز اور کھانوں کا دور دور تک کوئی تصور نہیں تھا، سوائے نقد مہر اور سادگی سے ولیمے کے۔ لیکن اورنگ زیب کا عہد آتے آتے اس میں مہارانی جودھابائی کی لائی ہوئی کئی رسمیں داخل ہوچکی تھیں۔ اس کے بعد  فتاویٰ نذیریہ یا فتاویٰ رضویہ کا عہد آتے آتے، ادھار مہر اور شادی کے دن کا کھانا چل پڑا۔ لیکن اُس وقت لوگوں کا مزاج یہ تھا کہ اگر کسی کو جہیز اور کھانا مل جائے تو وہ قبول کرلیتا، اگر نہ ملے تو وہ کوئی شکایت نہیں کرتا۔ اس لئے اُس دور کے علما  نے جو بھی فتویٰ دیا یا اس پر اجماع ہوگیا، وہ اُس وقت کا ایک اجتہاد تھا۔ لیکن اب 2020s  میں صورتِ حال بالکل مختلف ہے۔ اب 99%  شادیاں بغیر جہیز اور کھانوں کے ناممکن ہیں۔ وہ مومن شیر مرد بہت کم ہیں جو نبی ﷺ کی سنتِ نکاح کو اپناتے ہیں۔ یہ ایک ایسی رشوت ہے جسے دیئے بغیر لڑکیوں کی شادی ممکن نہیں۔

اس لئے ان حالات میں فتاویٰ عالمگیری، درمختار یا فتاویٰ نذیریہ  کے شادی سے متعلق فتوے ہرگز نہیں چل سکتے۔ اب مکمل قرآن و سنّت کی روشنی میں پھر سے اجتہاد کی ضرورت ہے۔چونکہ اِس دور میں مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ شادیوں کا ہے۔ اسی کی وجہ سے ان کی Economy، اور Morality مکمل تباہ ہوچکے ہیں، اب علما کو یہ طئےکرنا ہوگا کہ جہیز چاہے ایک Bedsheet کیوں نہ ہو، بہرحال ایک رشوت، ایک سوشیل بلیک میل اور ایک لازم و ملزوم شرط ہے۔ المعروف کالمشروط۔ یہ مشرکوں کی نقل ہے اس لئے حرام ہے۔ اس کے فتوے کئی سو سال پہلے کے لٹریچر میں نہیں ڈھونڈھے جاسکتے کیونکہ جہیز اور بارات کے کھانے اِس دور کی لعنت ہیں۔ اور وہ بھی صدیوں سے ایک مشرک سماج میں رہنے کی وجہ سے مسلمان معاشرے میں  اتنی گہری جڑ پکڑ چکے ہیں کہ ہندوستان کے سارے بتوں کو توڑنا آسان ہے لیکن مسلمانوں کے دل اور دماغ سے جہیز اور کھانوں کی ہوس باہر نکالنا ممکن نہیں۔ اُدھار مہر پر کئی نسلیں گزر چکی ہیں، جن کے دادا اور پردادا نے بھی نقد مہر ادا نہیں کیا۔ شائد اسی وجہ سے علما اور فقہا نے بھی مجبور ہوکراس لعنت سے سمجھوتہ کرتے ہوئے خوشی سے لینے دینے اور ادھار مہر رکھنے کو جائز کردیا، ورنہ حقیقی اسلام میں ان چیزوں کے جائز ہونے کی دور دور تک کوئی دلیل نہیں ہے۔ 

تیسرا سوال یہ ہے کہ ادھار مہر کا کس نے اور کب پہلی بار جواز پیش کیا، جس کے بعد پوری قوم میں یہ چلن چل پڑا۔  فقہ کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ کسی بھی مسئلے کا حل پہلے قرآن میں تلاش کیا جائے۔ اگر وہاں نہ ملے تو سنّت یا حدیث میں، وہاں بھی نہ ملے تو صحابہؓ، تابعین یا تبع تابعین کے ہاں۔ مہر کو نقد ادا کرنے کے بارے میں جب سنّت موجود ہے، سخت احادیث موجود ہیں تو پھر ان کو نظرانداز کرکے کسی اور غیرمعروف صحابیؓ کے واقعہ کو جواز بناکر رسول اللہ ﷺ کی اصل سنت کو موقوف یا غیر اہم قرار دے دینے کی جس نے بھی جسارت کی تھی، وہ کل قیامت میں سخت پکڑ میں آئیں گے۔ اس موضوع پر ہماری ایک ویڈیو یوٹیوپ پر موجود  ہے۔ مختصر یہ کہ اگر علما، قاضی اور مشائخین نقد مہر کے احکامات کو غور سے پڑھیں تو لاکھوں عائشاوں کو خودکشی، قتل اور Domestic violence سے بچایا جاسکتا ہے۔

دونوں چیزیں یعنی جہیز اور مہر ایک ساتھ نہیں ہوسکتے۔ اگر نقد مہر ہوگا تو جہیز ہرگز بیچ میں نہیں آسکتا، اور اگر جہیز ہوگا تو  مہر، مہر باقی نہیں رہتا۔ Consequentlyاگر مہر باقی نہ رہے تو نکاح حلال نہیں ہوتااوربغیر مہر ادا کئے رشتہ زنا ہوجاتا ہے اس لئے کہ مہر واجب ہے۔ جہیزاور شادی کے دن کے کھانے کو خوشی سے دینے کی شرط پر جائز کرنے والے علما اس بات کا جواب دیں کہ جو باپ گیارہ لاکھ روپئے بیٹی کی شادی پر خرچ کرنے پر مجبور ہوتا ہے، کیا وہ 11 ہزار یا 51 ہزار خود اپنی بیٹی کو نہیں دے دے سکتا؟ کیا یہ شریعت یا سنّت کے نام پر ڈرامہ بازی نہیں ہے۔ کیا شریعت اس قسم کے لین دین کی اجازت دیتی ہے؟ اگر نہیں ہے  تو فقہا بتائیں کہ اس قسم کا نکاح جائز ہے، ناجائز ہے، حرام ہے، حلال ہے، مکروہ ہے یا کیا ہے؟ اور اگر ایسا نکاح جائز نہیں تو پھر ایسے قاضی پر کیا حکم لگے گا جو ایسا نکاح پڑھائے؟  علما اور فقہا اس مسئلے کو باب النکاح میں نہیں بلکہ باب اطاعتِ رسول اور باب الفتن میں تلاش کریں تو جواب مل جائیگا۔ کیونکہ باب النکاح میں تو یہ ملے گا کہ اگر لڑکی کا وکیل اور دو گواہ ہوں، ایجاب و قبول ہوجائے تو نکاح مکمل ہوگیا۔ لیکن جب اطاعتِ رسول اور باب الفتن کے احکامات اس جہیز اور بارات پر Apply کریں گے تو پتہ چلے گا یہ نکاح مکمل نہیں ہوا۔

پتہ یہ چلا کہ ہم صدیوں سے ایک بھیانک غلطی صرف اس لئے کرتے آرہے ہیں کہ یہ سوال نہ مدرسوں کے نصاب میں شامل ہے، اور نہ علما  اور فقہا نے اس باریک نکتہ پر غور فرمایا، جس کے نتیجے میں ایک معمولی سا سوئی  برابر سراخ جو کشتی میں رہ گیا تھا، اب پوری کشتی کو غرق کرنے کے قریب ہے۔ چوتھا سوال یہ ہے کہ جب علما یہ مان چکے ہیں کہ جہیز، جوڑے کی رقم اور کھانے جائز نہیں ہیں، تو جو لوگ یہ لے چکے ہیں اس کی رقم واپس کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے۔ مرحوم مجاہدالاسلام صاحب ؒ کا ایک فتویٰ موجود ہے کہ جس نے یہ سب لاعلمی میں لیا، اس کے لئے یہ ایک امانت ہے۔ جس نے جان بوجھ کر لیا اس کے لئے یہ رشوت ہے۔ دونوں صورتوں میں لوٹانا واجب ہے کیونکہ لینے والا اس مال کا مالک نہیں ہوتا۔ جو مال لڑکیوں پر خرچ کردیا جاتا ہے وہ دراصل بیٹوں کی وراثت میں ناانصافی ہے جو کہ حرام ہے۔ اسی لیے باپ کے مرنے کے بعد جب بیٹیاں وراثت سے اپنا حق مانگنے آتی ہیں تو بیٹے انہیں وراثت نہیں دیتے، یہ بھی حرام ہے۔ اس طرح یہ جہیز اور کھانے وراثت کے پورے نظام کو تباہ کردیتے ہیں۔ 

اتنی طویل تمہید کا مقصد یہ تھا کہ آج ایک عائشہ کی خودکشی پر جگہ جگہ جو جلسے ہورہے ہیں، جہیز اور فضول رسموں پر جوشیلے وعظ اور بیان ہورہے ہیں، ان جلسوں میں تقریریں کرنے والے قاضیوں، مفتیوں، عالموں، مرشدوں  اور لیڈروں میں اکثریت ان شرفا کی ہے جو اپنے گھروں کی شادیوں میں لڑکی والوں سے خوب جہیز اور بارات کے کھانے وصول کرچکے ہیں۔مانجے سانچق جمعگی نوروز  مبارکہ وغیرہ خرافات والی رسمیں ساری ان کے گھروں میں آج بھی جاری ہے۔   کسی بھی میریج ہال میں جاکر دیکھیئے، عام لوگوں کی ہی نہیں بلکہ مشائخین اور کئی علما کے گھروں کی شادیاں بھی مکمل خرافات پر مبنی ہیں۔ ان میں جہیز بھی ہے، لڑکی والوں کی طرف سے کھانا بھی ہے اور پٹاخے بھی ہیں اور گانا بجانا بھی۔ فضول خرچیوں کے وہ سارے نمونے ہیں جو ایکتا کپورر کے سیریلس میں نظر آتے ہیں، وہ بھی موجود ہیں۔ سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ کہ ان شادیوں کی دعوتوں میں شہر کے وہ سارے اہم مشائخین، اور علما موجود ہوتے ہیں جو اصلاحِ معاشرہ کے جلسوں کی صدارت کرتے ہیں۔ وہ سارے مفتی نظر آتے ہیں جن کے فتوے اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اصلاحِ معاشرہ پر ان لوگوں کی تقریریں یا جمعہ کے خطبہ سن کر لوگ متاثر نہیں ہوتے بلکہ مذاق اڑاتے ہیں۔یہ کسی ایک مسلک کی بات نہیں سارے دیندار مسلکوں کے لوگوں کا یہی حال ہے، سوائے ایک دو فیصد سچے مسلمانوں کے۔  لماذا تقولون مالا تفعلون۔

مسلم پرسنل لا بورڈ قابلِ مبارکبا د ہے کہ انہوں نے جہیز کے خلاف پورے ملک میں دس روزہ پروگراموں کا اعلان کیا ہے۔ یہ وقت کی بہت اہم ضرورت تھی۔ جہیز کے خلاف مہم کوئی معمولی مہم نہیں ایک جنگ بلکہ ایک جہاد ہے، جس کا جیتنا آسان نہیں ہے۔ علما کی اکثریت کے چلن کو دیکھتے ہوئے ہم بورڈ کے ذمہ دار علما سے یہ التماس کرنے پر مجبور ہیں کہ اسٹیج پر صرف اسی عالم کو تقریر کی اجازت دیں جس کے گھر کی شادیوں کا ریکارڈ صحیح ہو۔انہی کے ہاتھ میں مائیک دیا جائے جو ایسی غیر شرعی شادیوں میں ہرگز شرکت نہ کرتے ہوں۔ کیونکہ عوام میں گمراہی پھیلانے کا سبب یہی ہے کہ یہی علمااور خطیب ایسی شادیاں خود کرتے ہیں اور ایسی شادیوں میں شرکت کرکے غیرشرعی شادیاں کرنے والوں کو آشیرواد دیتے ہیں۔ اگر یہ ایسا نہ کریں تو ان کو مدرسوں کے چندے اور تنخواہیں بند ہوجانے کا خدشہ رہتا ہے، درگاہوں کے نذرانے بند ہوجانے کا خطرہ رہتا ہے۔

اگر ہزاروں لاکھوں عائشاوں کے ساتھ ساتھ سیتاؤں اور پاروتیوں کی زندگیوں کو بچانا ہے، غریب ماں باپ کے گھروں کو بِکنے سے بچانا ہے، لڑکیوں کے بھائیوں کو بیروزگار، غربت و افلاس سے بچانا ہو تو چاہے جس مسلک کے عالم ہوں، جس سلسلے کے بھی مرشد ہوں، تاوقتکہ وہ یہ اعلان نہ کریں کہ جو جہیز اور کھانے وہ اپنے گھر کی شادیوں میں لے چکے ہیں وہ واپس کرینگے، اور آج کے بعد سے وہ کسی خلافِ سنت شادی میں شرکت نہیں کرینگے، ان کو اسٹیج پر آنے نہ دیا جائے۔ بلکہ نہ ان کے لئے اسٹیج سجایا جائے اور نہ ان کے ویڈیو Forward کئے جائیں۔ نہ انہیں چندے دیئے جائیں، اور نہ درگاہوں کو  نذرانے دیئے جائیں۔بالخصوص رمضان قریب ہے، اب چندہ بازی پورے عروج ہوگی۔ جو بھی مدرسوں یا اداروں کے لوگ آپ کے پاس آئیں، آپ ان سے پہلا سوال یہی کیجئے کہ کیا وہ  ایسی شادیوں کے دعوت نامے واپس کرنے تیار ہیں؟ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Open chat
1
!Hello
!How Can I Help You
واٹس ایپ گروپ جوائن کرنے کیلئے نیچے لنک پر کلک کریں۔

https://chat.whatsapp.com/Cu3chd0osKYFJfN3AkBLQ9